Friday, May 11, 2012

شوہر کے رشتہ داروں سے محبت کرنے کی نصیحت

شوہر کے رشتہ داروں سے محبت کرنے کی نصیحت
اے میری مسلمان بہن !
نصیحت پر عمل کر نے والی بیو ی “ وہ ہے جو اپنے شوہر کے ماں باپ سے اسی طرح محبت کرتی ہو جس طرح وہ اپنے ماں باپ سے محبت کرتی ہے اس طرح شوہر کے دِ ل میں اس کی محبت بڑھے گی ۔ ”نصیحت پر عمل کر نے والی بیو ی“اپنے خاوند کو ہمیشہ یہ باور کراتی ہے ۔ کہ اس کی سہیلیا ں ، اس کے شوہر کے والد ین اور عزیز واقارب سے زیادہ اہم نہیں ہیں کہ ان کے ہاں جانے کو ترجیح دی جائے ۔ ” نصیحت پر عمل کر نے والی بیو ی “ خوشی کے موقعوں پر اپنے خاوند کے خاندان والوں کے ساتھ خوشگوار اندزمیں پیش آتی ہے اور غمی کے موقعوں پران کے ساتھ غم خواری اور ہمدری کرتی ہے۔
نصیحت پر عمل کر نے والی بیو ی “ اپنے خاوند کے والدین کے ساتھ بھی انتہائی احتیاط سے گفتگو کرتی ہے کہ مبادا اس کی طرف سے کوئی ایسی بات ہو جائے جس کی وجہ سے ان کو کوئی پریشانی یا تکلیف ہو۔
نصیحت پر عمل کر نے والی بیوی“ شروع سے آخر تک (ہر وقت ) اپنے شوہر کے ذہن میں یہ امر مستحضر رکھتی ہے کہ وہ اس کے والدین کی فرماں بردار ہے ، اپنی ملاقات، خوش گفتاری اور تعاون مالی کے ذریعہ ان کے ساتھ حسنِ سلوک سے پیش آتی ہے۔
اللہ تعالیٰ اس ”زوجہٴ صالحہ “ پر اپنی بے پایاں رحمت فرمائے جو اپنے شوہر سے یوں کہتی ہے:
میں تمہیں قسم دیتی ہو ں کہ تم حلال روزگا رہی حاصل کروگے ۔
میں تمہیں قسم دیتی ہوں کہ تم میری وجہ سے جہنم میں داخل نہیں ہوگے۔
اپنی ماں کے ساتھ حسنِ سلوک سے پیش آوٴ ، رشتہ داروں سے صلہ رحمی کرو، ان سے قطع نہ کرو ورنہ اللہ تعالیٰ بھی تجھ سے تعلق قطع کرلے گا۔
اے وہ خاتون جو”زوجہ ٴصالحہ “ کا مقام حاصل کرنا چاہتی ہے ! اپنے شوہر کے والدین اور اس کے بہن بھائیوں سے نیک سلوک کرو، بہت ممکن ہے کہ تم اپنے مقصد کے حصول میں کامیاب اور بامُر اد ہوجاوٴ۔یہ نصیحت ہے نصیحت پر عمل کر نے والو ں کیلئے ۔
رشتہ داروں کے ہاں صلہ ء رحمی کی نیت سے جائیں
رشتہ داروں کے ہاں جاناپڑتا ہے ، کبھی تقریبات میں جانا پڑتا ہے ، تو صلہ ء رحمی کی نیت سے جائیں ۔ صلہ رحمی کہتے ہیں رشتے داریوں کو جو ڑنا ، رشتے ناطوں کو جوڑنا ۔
اللہ تعالیٰ کو یہ بات بہت پسند ہے کہ رشتے داریاں جوڑیں اور محبت و پیار کے ساتھ ر ہیں۔ جب بھی آپ تقریبات میں جائیں تو صلہ ء رحمی کی نیت سے جائیں ۔یہ نیت نہ ہو کہ ہم نہیں جائیں گی تو وہ بھی نہیں آئیں گے ۔ اپنی طرف سے آپ صلہ ء رحمی کی نیت سے جائیں تاکہ آپ کا جانابھی عبادت بن جائے۔
سسرال کے ساتھ تعلقات اور نصیحت
عورت کو چاہئے کہ اپنی اور اپنے شوہر کی خوشی کی خاطر وہ اپنے سسرالی رشتہ داروں کے ساتھ خوشگوار تعلقات استوار رکھے ۔ شوہر کے عزیز و اقارب کے ساتھ ناروا سلوک کی وجہ سے بہت سی شادیوں کا انجام طلا ق کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے۔ ضروری نہیں کہ خطابیوی ہی کی ہو۔ بسااوقات شوہر کے عزیز وں کی زیادتی ہو تی ہے او ر ان کا سلوک اس کی بیوی کے ساتھ ظالمانہ ۔ ایسے مواقع پر چاہئے کہ عورت منکسر مزاجی سے کام لے۔ عاجزی اختیار کرے اور صبر کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑے ۔ اگر وہ ایسا نہیں کرے گی تو سارا گھر تباہی کے دہانے تک پہنچ جائے گا۔
شادی کے بعد بیوی کو اس امر کا خیال رکھنا چاہئے کہ وہ ایک نئے گھر میں آئی ہے اور اجنبی حالات میں گھر گئی ہے۔ یہاں زندگی کا ڈھنگ اس کے اپنے اس گھر سے جسے وہ پیچھے چھوڑ آئی ہے، الگ ہے۔ رہن سہن اور اطوار قدرے مختلف ۔ اسے ان نئے حالات میں اپنی زندگی کو ڈھالنا ہوگا۔ اس کے لئے یہ کسی طور پر صحیح نہیں ہوگا کہ وہ اپنے خاوند سے اپنی شرائط منوانی شروع کردے اور سسرال والوں پر اپنی مرضی تھوپنے کی کوشش کرے ۔ کچھ بیویاں اس حد تک آگے نکل جاتی ہیں کہ وہ اپنے شوہر اور اس کے قریبی عزیزوں کے درمیان اختلافات کی وسیع خلیج حائل کردیتی ہیں ۔ عورت اپنے خاوند کو اس کے ماں باپ سے بدظن کرنے کے لئے نئی نئی سکیمیں سوچتی ہے اور جھوٹی کہانیاں گھڑتی ہے ۔ ایسی کوششوں سے وہ دین اور دنیا دونوں میں ذلیل ہوتی ہے اور اللہ تعالیٰ کی خفگی مول لیتی ہے۔
بیوی اگراپنی نامعقول اور بری کوششوں میں کامیاب ہوبھی جاتی ہے اور اپنی بری خواہشات کمزور خاوند پر مسلط بھی کردیتی ہے تو اسے اس غلط فہمی میں نہیں رہنا چاہئے کہ اس نے شوہر پر فتح پالی ہے ۔ اس کے برعکس شوہر دل میں اس سے نفرت کرنے لگ جاتا ہے لیکن اپنی کمزوری یا دیگر وجوہات کی بناء پر وہ آواز نہیں اٹھاتا۔
شوہر کی اصلاح پسندی کی خصلت عورت کے غلط اور توہین آمیز رویے کو خاموشی مگر نفرت سے برداشت کرنے پر مجبور کرتی ہے ۔ عورت اگر شوہر کو اس کے عزیز و اقارب سے برگشتہ اور دور کرنے میں کامیاب ہو بھی جاتی ہے تو اسے ساتھ ہی ساتھ یہ بھی سمجھ لینا چاہئے کہ شوہر کے دل سے اس کے لئے جو عزت اور محبت تھی اس کا جنازہ نکل گیا ہے۔
اکثر عورتوں میں لالچ اور حسد کی وجہ سے یہ خواہش شدت سے پیدا ہوجاتی ہے کہ شوہروں کی دولت صرف ان کے تصرف کے لئے ہو اور ان کے قبضہٴ قدرت میں ۔ شوہر اسے خوش رکھنے کی خاطر عیش و عشرت کے بیش قیمت سامان پر بے دریغ خرچ کرتا ہے۔ اس کی ذاتی کاوش اور دولت بیوی کو زیادہ سے زیادہ آرام پہنچانے اور خوشیاں دینے کے لئے ہوتی ہے۔ بیوی کی محبت شوہر کو اس کا بے دام غلام بنادیتی ہے ۔ اس کی ایک مسکراہٹ کی خاطر وہ ہر طرح کی تکلیف برداشت کر لیتا ہے۔۔۔ لیکن جب کبھی کبھار شوہر اپنے عزیزوں کی مدد کرنا چاہتا ہے تو عورت کا رویہ اور برتاوٴ اس امر کی غمازی کرتا ہے جیسے شوہر اس کے حقوق کی ادائیگی میں ناکام رہا ہو۔ خود غرضی اور ناانصافی پر مبنی اس کا ہتک آمیز رویہ خاوند کے سردرد کا باعث بنتا ہے۔ وہ بے جا طور پر اصرار کرتی ہے کہ شوہر صلہ رحمی کے کاموں سے باز رہے۔
عورت کی چالبازیوں اور عشوہ طرازیوں سے مرعوب ہو کر وہ اس کی خواہشات کا غلام بن جاتا ہے۔ گھر کے سکون اور چین کو برباد ہو نے سے بچانے کے لئے اس کی غلط روش کے آگے سپر ڈال دیتا ہے ۔عورت ایک کمزور شوہر پر بظاہر فتح پالیتی ہے مگر یہ فتح کمزور، عارضی اور کھوکھلی فتح ہوتی ہے جو شوہر کے دل سے اس کی محبت کھرچ کر نکال دیتی ہے اور شوہر کو الحاد اور بے وفائی کی طرف دھکیل دیتی ہے اور وہ اپنی آخرت سے بھی لاپرواہ ہوجاتا ہے۔
عورت کو اپنے اس قابل نفرت عمل اور کردار پر فخر نہیں کرنا چاہئے ۔ اس کی یہ جھوٹی فتح درحقیقت دونوں جہانوں میں اس کے لئے بہت بڑی مصیبت کا باعث ہوگی کیونکہ اس غیر اخلاقی فعل سے وہ اپنے شوہر کو ناخوش کرتی ہے اور اللہ تعالیٰ کے غضب کو دعوت دیتی ہے۔ شوہر کی خوشی اس کی جنت کا راستہ ہے اور شوہر کی ناراضگی اس کو جہنم کے راستے پر ڈال دیتی ہے ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: اے عورت! دیکھ ۔ وہ (تمہارا شوہر ) تمہاری جنت ہے یا تمہاری دوزخ۔
مسلمان عورت کو چاہئے کہ اپنی سفلی خواہشات کو اپنے مجاہدہ کے ذریعہ قابو میں رکھے ۔ نفس امارہ کی خواہشات کتنی ہی منہ زور کیوں نہ ہوں اسے چاہئے کہ کمال ہو شیاری اور عقل مندی سے ان کو قابو میں رکھے ۔ ایسا نہ ہو کہ نفس کی گٹیا خواہشات اس کو اپنے دام فریب میں گرفتار کر لیں ۔ وہ اپنے مجاہدہ سے انہیں کچل ڈالے ایمان کی روشنی میں اپنی عقل کا امتحان لے۔
نفس کے آگے ہتھیار ڈال دینے سے وقتی طور پر اسے خوشی نصیب ہوگی لیکن بعد میں بد نصیبی کا سایہ اس کے سر پر منڈلائے گا۔ وہ اپنے شوہر کی محبت سے محروم ہو چکی ہوگی ۔ پاکیزگی اور خدمت کے جذبہ سے یکسر خالی زندگی اللہ تعالیٰ کی ناراضگی کے گھٹا ٹوپ اندھیرے سے اور تاریک ہو جائے گی ۔
اچھی ،سچی اور عقل مند مسلمان بیوی خاوند کو خوش رکھنے کی ضرورت سے بخوبی واقف ہوتی ہے اس کی اپنی ذاتی خوشی کا انحصار اس کے شوہر کی خوشی پر ہے ۔ وہ ایسا رویہ کیونکر اختیار کرے گی جس سے خاوند کی خوشی دھند لاجائے ۔ بری بیوی یہ کیوں نہیں سوچتی کہ خاوند سے اس کے ماں باپ ، بہن بھائیوں اور دوسرے رشتہ داروں سے دور کرکے وہ خود کبھی لازوال خوشیاں حاصل نہیں کر سکتی ۔ اپنے عزیزو اقارب کی مدد اور ان کے ساتھ محبت اور مہربانی کا برتاوٴ پاک اور مقدس عمل ہے۔
خاندان میں تفرقہ ڈالنا بہت بڑا گناہ ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بہت سی احادیث میں خاندان میں پھوٹ ڈالنے کے خلاف سخت تنبیہ آئی ہے۔ صلہ رحمی پارہ پارہ کرنے کی بہت سخت سزا ہے ۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:
اللہ تعالیٰ نے اپنی شان و شوکت ، طاقت ، عزت اور نور کی قسم کھائی ہے کہ جو خاندان کو توڑنے اور برباد کرنے کا باعث بنے گا اللہ اسے تباہ برباد کردے گا۔
لیکن دیکھا گیا ہے کہ اکثر بیویاں اس بری عادت میں مبتلا ہیں ۔ اپنے دلوں اور دماغوں میں اس ندی کو راہ دے کر وہ شریعت کے احکام کی خلاف ورزی کرتی ہیں اور اپنی رذیل خواہشات کی آبیاری کرتی ہیں۔حسد نے انہیں اندھا کر رکھا ہوتا ہے۔شوہر کے قریبی رشتہ داروں سے اس کے تعلقات کو خراب اور منقطع کرنے میں وہ دن رات ایک کردیتی ہیں ۔ اپنے نارواطور واطوار سے وہ نہ صر ف اپنے خاوند کو آخرت کے بہت بڑے ثواب سے محروم کردیتی ہیں بلکہ اپنے گھر کو تباہی کی غار میں دھکیل دیتی ہیں اور اللہ کی پھٹکار کی مستحق ٹھہرتی ہیں اس کے علاوہ عورت یہ بھی جان رکھے کہ اس کا یہ فعل صرف براہی نہیں بلکہ حرام ہے اور انتہادرجے کا گناہ بھی۔
حسد اور جلاپاانسانی جبلت کا خاصہ ہے۔ جب تک ان بری خواہشات پر قابو رکھا جائے اور ان کے اظہار سے پرہیز ، تو عورت گناہ میں ملوث نہیں ہوتی ۔
حق تو یہ ہے کہ اگر اس کا شوہر اپنے عزیزوں کی کچھ امداد کرتا ہے تو اس پر اسے بھی خوش ہونا چا ہیئے، شوہر کی خوشی اس کی اپنی خوشی ہو۔ اس طور کو اپنانے سے وہ جنت کی حقدار ٹھہریگی اور اس پر اللہ تعالیٰ کی رحمتوں کی بارش ہوگی ۔ اللہ تعالیٰ نے جہاں انسان کو زور دے کر عدل و احسان کرنے کے لئے کہاہے وہاں خاص طور پر رشتہ داروں کے ساتھ حسن سلوک کرتے رہنے کی تلقین بھی کی ہے۔
(
ان اللہ یا مربا لعدل والاحسان وایتای ذی القربی ) (النحل۹۰)
بے شک اللہ تعالیٰ انصاف اور حسن سلوک کرنے اور قر ابت داروں کو دینے کا حکم کرتا ہے
جولوگ رشتہ داروں کے فطری تعلق کو منقطع کرتے ہیں اور ان سے برا سلوک کرتے ہیں ان پراللہ تعالیٰ نے اس حد تک ناراضگی کااظہار کیاہے کہ انہیں ”فاسق“ کہہ دیا ہے۔
ومایضل بہ الا الفسقین ْالذین ینقضون عھد اللہ من بعد میثاقہ ویقطعون ماامر اللہ بہ ان یوصل۔ (البقرہ ۲۶)
اس سے وہ انہی کو گمراہ کرتا ہے جو خدا کا حکم نہیں مانتے اور خدا کا عہد باندھ کر توڑتے ہیں اور خدا نے جس کو جوڑنے کو کہا ہے اس کو کاٹتے ہیں۔
من سر ہ ان یبسط لہ فی رزقہ اوینسألہ فی عمر ہ فلیصل رحمہ (بخاری)
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ راوی ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے ”جس کو یہ پسند ہو کہ اس کی روزی میں وسعت ہو اور عمر میں برکت ہو تو اس کو چاہیے کہ صلہ رحمی کرے۔
اس حدیث سے یہ مترشح ہوتا ہے کہ انسان اپنے عزیزوں کو مالی امداد دے گا تو اس کا اپنا رزق کشادہ ہوگا اور اگر وقت صرف کرکے خدمت کرے گا تو اس کی عمر میں اضافہ ہوگا ۔ عورت کو چاہیے کہ اگر وہ خود اپنے سسرالی رشتہ داروں کی ضرورتیں پوری کر سکتی ہے تو ایسا کرنے سے دریغ نہ کرے ورنہ اپنے شوہر سے تقاضا کرکے ا ن کی مدد کر وائے۔ شوہر صلہ رحمی کا ثواب پائے گا اور وہ اس کو ترغیب دینے کے ثواب کی مستحق ہوگی۔ 
Enter your email address:


Delivered by FeedBurner

Tuesday, May 8, 2012

بیوی کو وقت دینے کی نصیحت (برائے شوہر)۔

بیوی کو وقت دینے کی نصیحت
عام طور پر خاوند یہ غلطی کرتے ہیں کہ بیوی کو وقت نہیں دیتے بلکہ جب وقت ملا ۔اب امی کے پاس بیٹھے باتیں چل رہی ہیں ۔رات کے بارہ بج گئے نیند سے جب آنکھیں پر ہوگئیں اب کمرے میں آکر دھم سے لیٹ گئے اور بیوی سے بات بھی نہ کی۔ کچھ پوچھا بھی نہیں کہ تم جیتی ہو یا مرتی ہو، تمہاری طبیعت ٹھیک ہے یا بیمار ہو ۔ اب اگر خاوند وقت ہی نہ دے تو صاف ظاہر ہے کہ یہ بہت بڑی غلطی ہے۔ بیوی کا شرعی تقاضا ہے کہ اسے خاوند کا وقت ملے۔ لہٰذا وقت دینا چاہیے۔ کچھ نو جوانوں میں یہ عادت ہوتی ہے کہ دوستوں کی محفل کی زینت بن کر بیٹھ جاتے ہیں اور رات کو بارہ ایک بجے گھر آنے کی عادت ہوتی ہے۔ یہ لوگ دوستوں کی محفل کو سنوار بیٹھتے ہیں اور اپنے گھر کو اجاڑ بیٹھتے ہیں۔ بھلا کیا فائدہ اس کا، بیوی کو زیادہ سے زیادہ وقت دینا چاہیے۔ کئی گھر میں آتو جلدی جاتے ہیں لیکن بہن بھائیوں میں بیٹھے رہتے ہیں یا ماں یا باپ کے پاس بیٹھے رہتے ہیں ۔ دوسرے افراد خانہ کے پاس بیٹھے رہتے ہیں مگر بیوی کو وقت نہیں دیتے ۔ یہ چیز بالآخر جھگڑے کا ذریعہ بنتی ہے۔ یہ بیوی کا بنیادی حق ہے۔ کہ خاوند اس کو وقت دے۔
بعض نیکو کا ر مردوں کی غلطی
کئی مرتبہ نیکوکاربھی اپنی بیو ی کو وقت نہیں دیتے۔ اوریہ بہت بڑی غلطی کر لیتے ہیں۔ جب یہ بیوی کو وقت نہیں دیتے تو اس کا کیا نتیجہ ہوتا ہے کہ گھر کی زندگی بے مزہ ہوتی ہے۔
ایک مرتبہ امیر الموٴمنین حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے دور میں ایک عورت آئی ۔
ابی ابن کعب رضی اللہ عنہ کی عدالت تھی ۔ اس کے سامنے آکر اس نے اپنے خاوند کی تعریفیں شروع کردیں ۔ کہنے لگی کہ میر ا خاوند بڑا نیک ہے، بہت اچھا ہے، سارا دن روزہ رکھتا ہے ، ساری رات عبادت کرتا ہے، اللہ تعالیٰ کا قرآن پڑھنے میں وقت گزار دیتا ہے اور یہ کہہ کر وہ چپ ہوگئی ۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ بڑے حیران ہوئے کہ یہ عورت اپنے خاوند کی بڑی تعریفیں کررہی ہے۔ تھوڑی دیر بعد پھر پوچھا تو کیوں آئی اس نے پھر کہا میرا خاوند بڑانیک ہے سارا دن روزہ رکھتا ہے ساری رات عبادت میں گزار دیتا ہے ۔ یہ کہہ کر پھر چپ ہوگئی۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ بات نہ سمجھ سکے حیران تھے تو ابی ابن کعب رضی اللہ عنہ نے کہا ، اے امیر الموٴمنین ! اس عورت نے بڑے پیارے لفظوں میں اپنے خاوند کی ایک کمزوری آپ کے سامنے پیش کردی اور یہ آپ کی خدمت میں حاضر ہوئی ہے تاکہ آپ اس کے خاوند کو سمجھا ئیں ۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا ، کونسی کمزوری ؟ اس کا خاوند تو بڑا نیک نظر آتا ہے۔ اس نے کہا، کہ یہی تو وہ کہنا چاہتی ہے کہ سارا دن روزہ رکھتا ہے اور ساری رات عبادت کرتا ہے لیکن بیوی کے پاس وقت گزارنے کے لئے فرصت ہی نہیں۔ تب حضرت عمر رضی اللہ عنہ سوچنے لگے کہ کتنے پیارے انداز سے بیوی نے اپنے خاوند کی شکایت کی ۔ چنانچہ آپ رضی اللہ عنہ نے اس کے خاوند کو بلایا ۔ وہ ایک صحابی تھے۔ بڑے نیک تھے ۔ اللہ تعالیٰ کی محبت سے سر شار تھے ۔ اللہ تعالیٰ کی محبت ان کو دن میں بھی روزے سے رکھتی اور ساری رات مصلےٰ پہ کھڑا رکھتی ۔ قرآن کی تلاوت کے مزے لیتے تھے ،جب وہ آئے تو انہوں نے کہا جی ہاں ۔ میں اللہ تعالیٰ کے قرآن میں اتنا مزہ پاتا ہوں میری بیوی کی طرف توجہ نہیں جاتی ۔ تو حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ نے ابی ابن کعب رضی اللہ عنہ سے فرمایا کہ جب آپ نے مسئلے کو سمجھا اب مسئلے کا حل بھی آپ سمجھادیجئے۔ چنانچہ ابی ابن کعب رضی اللہ عنہ نے ان کو کہا کہ دیکھو شریعت نے حکم دیا ہے۔ اس لئے تم اپنی بیوی کو وقت دو۔ تمہیں چاہیے کہ اگر تم تین دن روزہ رکھنا بھی چاہتے ہو تو رکھو مگر چوتھا دن افطار کرو اور دن تم اپنی بیوی کے ساتھ گزارو ۔ یہ سن کر وہ تو چلے گئے اور بیوی بھی خوش تھی کہ ہر تین دن کے بعد خاوند سے وقت مل جائیگا۔ لیکن حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے حضرت ابی ابن کعب رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ آپ نے یہ تین دن کی شرط کیسے لگائی۔کہنے لگے کہ میں نے قرآن مجید کو دیکھ کر لگائی ۔ قرآن مجید میں ایک مرد کو زیادہ سے زیادہ چار عورتوں کے ساتھ شادی کی اجازت دی ۔اگر بالفرض کوئی چار شادیاں بھی کر لے تو ہر عورت کو تین دنوں کے بعد چوتھی رات مل جائے گی ۔ اس لئے میں نے شرط لگا دی کہ تم زیادہ سے زیادہ تین دن تک روزے رکھ سکتے ہو۔ چوتھے دن افطار کرکے تمہیں اپنی بیوی کے ساتھ وقت گزارنا پڑے گا۔ تو کئی مرتبہ نیک لوگ بھی اپنی نیکیوں میں لگ کے اپنی بیویوں سے غافل ہوجاتے ہیں۔ اور یہ بہت خطرناک غلطی ہے۔
Enter your email address:


Delivered by FeedBurner

Sunday, May 6, 2012

شو ہر سے محبت ودوستی رکھنے کی نصیحت

شو ہر سے محبت ودوستی رکھنے کی نصیحت
اے میر ی مسلما ن بہن !
نصیحت پر عمل کر نے والی بیو ی “ وہ ہے جو ہمیشہ اپنے شو ہر کے سا منے اپنی خو ش بختی کا اظہا ر کر تی ہے اور اس کو اپنے قریب تر ین لو گو ں میں مقد م رکھتی ہے ۔
حکما ء کہتے ہیں کہ ’ چار آ د می عورت کی آ نکھو ں کی ٹھنڈ ک ہیں ۔ اس کا با پ ، اس کا بھا ئی ، اس کی اولا د اور اس کا شو ہر ، اور بہتر ین عورت وہ ہے جو اپنے تما م رشتہ دارو ں پر اپنے شو ہر کر تر جیح دیتی ہو ، بلکہ اس کو اپنی ذات پر بھی تر جیح دیتی ہو ۔
پس ” نصیحت پر عمل کر نے والی بیو ی “ وہ ہے کہ جب کبھی شو ہر کے ساتھ کو ئی نز اع یا اختلا ف پید ا ہو تو معا ملہ اپنے یا اس کے خا ند ان تک نہیں پہنچا تی بلکہ اپنے گھر کے اندر ہی اس کو نمٹا تی ہے ۔
اے میر ی مسلما ن بہن !
جو عورتیں شو ہر کی عد م مو جو د گی میں اپنے خا و ند کی با تیں آ پس میں کر تی ہیں اپنے شو ہر کی شکو ة وشکایت ایسی بد مز اج عورتو ں سے کر تی ہیں جو اپنے شو ہر و ں کے ساتھ بد سلیقہ اور بد اطو ارہو تی ہیں تو اس و قت معلوم ہو جاتا ہے کہ ان کو شو ہر سے کو ئی دِ لی محبت نہیں ہے ۔ لیکن ” نصیحت پر عمل کر نے والی بیو ی “ ایسی نہیں ہو تی ، وہ شو ہر کے ساتھ عد اوت ودشمنی کے اسبا ب کو اپنے گھر میں ہی دفن کر دیتی ہے ۔ ” نیک بیو ی “ اپنے شر یک حیا ت کی غلطیو ں کا مُسکر ا کر مقا بلہ کر تی ہے ، کیو نکہ وہ اپنے شو ہر سے دِ لی تعلق اورمحبت رکھتی ہے ، تاکہ رائی کا پہا ڑ نہ بنے ۔ نیک بیو ی کا اپنے شو ہر کو اپنے رشتے دار وں پر تر جیح دینا اوراس تعلق ومحبت کی بہتر ین مثا ل ہے ۔ ایک دیہا تی عورت نے اپنی بیٹی کو اسی با ت کی نصیحت کی تھی، اس نے اپنی بیٹی سے کہا : ” خو ب جا ن لے کہ تم اپنے شو ہر کی رضا مند ی کو اس وقت تک حاصل نہیں کر سکتی جب تک کہ تم اس کی خو اہش کو اپنی خو اہش پر تر جیح نہ دو گی ۔
اس زما نے میں محبت وتعلق کی سب سے نما یاں صورت جو نیک بیو ی سے مطلو ب ہے ، وہ یہ ہے کہ اپنے خا وند کی طبیعت ومزا ج کا خیا ل رکھے ، اس کا طر یقہ یہ ہے کہ وہ خا وند کے را ز کا افشا ء نہ کر ے ، کیو نکہ یہ وہ چیز ہے کہ اگر اس کا خیا ل نہ رکھا جا ئے تو شو ہر کے سینہ میں غصہ کی آ گ بھڑ ک جا تی ہے ۔لہٰذا اس سے بچنا چا ہئے ۔

Enter your email address:


Delivered by FeedBurner

Friday, May 4, 2012

زوجہ صالحہp


تلاش معاش پر جانے والوں کی غلطی (برائے شوہر)۔

تلاش معاش پر جانے والوں کی غلطی
بعض دفعہ لوگ تلاش معاش کے سلسلے میں لمبے عرصے کیلئے جاتے ہیں۔ لہٰذا بیوی کو وقت نہیں دے پاتے ۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ ایک مرتبہ آرہے تھے ۔ رات کا وقت تھا ایک گھر سے ان کواشعار کی آواز سنائی دی جس سے پتہ چلا کہ ایک جوان بیوی اپنے خاوند کی محبت میں شعر پڑھ رہی تھی ۔ چنانچہ وہ گھر آئے اور ام الموٴمنین سید ہ حفصہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے پوچھا کہ مجھے بتاوٴ کہ ایک عورت اپنے میاں کے بغیر کتنا وقت آرام سے گزارسکتی ہے۔ انہوں نے کہا، جتنی اللہ تعالیٰ نے عدت متعین کی ہے۔ یعنی چار مہینے دس دن کی بات ہے۔ چنانچہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے قانون بنادیا کہ ہر مجاہد جو جہاد میں جائے گا چار مہینے کے بعد بالآخر گھر آئے گا اور اپنی بیوی کے ساتھ کچھ وقت گزار ے گا۔ سوچئے کہ اگر ام الموٴمنین سید ہ حفصہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا جیسی پاکیزہ شخصیت جو امت کی ماں ہیں وہ فرماتی ہیں کہ چار مہینے کی مدت زیادہ سے زیادہ ہے تو جو لوگ سالوں اپنی روزی کی خاطر دوسرے ملکوں میں رہتے ہیں ۔ اور جی جوان بیٹا ہے مگر انگلینڈ چلاگیا اور اس کی بیوی ہمارے پاس رہتی ہے۔ اب ذراسوچئے کہ بیوی ایک سال دوسال خاوند کے بغیر رہے گی ۔ پھر گھر میں کیا معاملہ ہوگا ۔شیطان کو کتنا موقع ملے گا اس کی بیوی کو ورغلانے کا اور گنا ہ پر اکسانے کا۔ اِدھر بیوی گناہ کرے گی اُ دھر خا وند گناہ کرے گا ۔ اور اگر گناہ نہیں کریں گے تو گناہ کی حسرت تو ا ن کے ذہن میں رہے گی ہی سہی ۔ تو پھر بھی تو عبادت میں دل نہیں لگے گا۔ لہٰذا ایسی صورت حال سے بچنا چاہیے ۔ میاں بیوی ایک دوسرے سے چار مہینے سے زیادہ جدا نہ ہوں ۔ ہاں کبھی کوئی ایسی ضرورت ایک مرتبہ پڑجائے جیسے بالفرض کوئی نو مہینے کے لئے چلاگیا یا سال کے لئے چلا گیا ۔ بیوی بھی بخوشی اجازت دیتی ہے اور خاوند بھی راضی ہے تو پھر ایسی صورت حال میں یقینا بیوی اپنے وعدے کا پاس کرے گی ۔ اس لئے کہ اس کے مشورے سے یہ بات طے ہوئی ۔مگر عام حالات میں دیکھا جاتا ہیں کہ بچے دوسرے ملک میں کاروبار کرنے کے لئے کو ئی سعودی عرب گیا پانچ سال سے نہیں آیا ۔ کوئی فلاں وجہ سے گیا سات سال سے نہیں آیا ۔ یہ بہت معیوب بات ہے۔ بیوی کا حق ہے اور یہ وقت دیناخاوند کی ذمہ داری ہے ۔ روزی ملتی ہے نہیں ملتی گھر واپس آوٴ تم بھی بھوکے رہوگے بیوی بھی تمہارے ساتھ بھو ک برادشت کرلے گی ۔ اسے تمہاری ضرورت ہے، اسے مرغن غذاوٴ ں کی ضرورت نہیں ۔ لہٰذا اس نصیحت کو ذہن میں رکھنا چاہیے اور یہ غلطی کبھی نہیں کرنی چاہیے کہ انسان اپنی بیوی کو وقت نہ دے۔

Enter your email address:


Delivered by FeedBurner

Tuesday, May 1, 2012

شو ہر کے سامنے اپنی آ و از کو پست رکھنے کی نصیحت

شو ہر کے سامنے اپنی آ و از کو پست رکھنے کی نصیحت
اے میر ی مسلما ن بہن !
نصیحت پر عمل کر نے والی بیو ی “ گفتگو کے آ د اب وحد ود سے واقف ہو تی ہے ، وہ کبھی کبھا ر اپنے شوہر سے بحث ومبا حثہ بھی کر تی ہے لیکن اپنی آ واز کو بلند نہیں کر تی ۔
نصیحت پر عمل کر نے والی بیو ی “ جا نتی ہے کہ شو ہر کے سا منے بلند آ و از سے گفتگو کر نا بے حیا اورآوارہ عورتو ں کا شیو ہ ہے ، اسی لیے وہ ڈرتی ہے کہ کہیں وہ اس فعلِ شنیع میں مبتلا نہ ہو جا ئے ۔
اچھی بیو ی “ وہ ہے کہ اگر کبھی اس سے آ واز اونچی بھی نکل جا ئے تو وہ اپنے کیے پر نا دم و شر مند ہ ہو تی ہے اور رو تی ہے اور شو ہر کی رضا جو ئی کی طلبگا ر ہو تی ہے ۔
نصیحت پر عمل کر نے والی بیو ی “ پست آ و از ، خو ش گفتا ر اور پا ک دل ہو تی ہے ۔
لیجئے! حد یثِ نبو ی صلی اللہ علیہ وسلم پڑ ھیے ! اور اس سے سبق حا صل کیجئے !
حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ فرما تے ہیں کہ :” (ا یک مر تبہ ) حضر ت ابو بکر صد یق رضی اللہ عنہ نے نبی کر یم صلی اللہ علیہ وسلم سے اند ر آ نے کی اجا زت ما نگی ، ( گھر آ ئے تو دیکھا کہ ) حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا با ٓ وازِ بلند یہ کہہ رہی ہیں کہ خد ا کی قسم ! حضرت علی رضی اللہ عنہ آ پ صلی اللہ علیہ وسلم کو میر ے والد سے زیا دہ محبو ب ہیں ، ( یہ سن کر ) حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ طما نچہ ما ر نے کے لیے ان کی طر ف لپکے اور فر ما یا: اے فلا ں کی بیٹی ! میں تمہیں دیکھتا ہو ں کہ تم رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سا منے اپنی آ واز کو بلند کر رہی ہو ! رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابو بکر صد یق رضی اللہ عنہ کو پکڑ لیا ، حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ غصے کی حا لت میں گھر سے نکل گئے، پھر آ نحضو ر صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما یا : ” اے عائشہ ! تم نے دیکھا ! میں نے تجھے ایک آ د می سے کیسے چھڑ ایا ؟ اس کے بعد ابوبکر صد یق رضی اللہ عنہ دو بار ہ گھر میں داخل ہو ئے اور دیکھا کہ رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت عا ئشہ رضی اللہ عنہا کی صلح ہو چکی ہے ، فرمایا : مجھے بھی اپنی صلح میں شا مل کر لو ، جس طر ح تم نے مجھے اپنی لڑ ائی میں شا مل کیا تھا ، رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما یا : ”ٹھیک ہے ! ہم نے آ پ کو بھی شا مل کر لیا ۔ “ ( ابو د واد : ۴۹۹۹)
اے میر ی مسلما ن بہن !
ایک دیہا ئی شخص سے کسی نے کہا کہ عورتو ں کی بُرا ئی بیا ن کر و تو وہ کہنے لگا : ” عورتو ں کی بُر ائی یہ ہے کہ عورتیں ، زبا ن دراز ، مغر ور ومتکبر ، نفر ت کر نے والی اور کو دکر د کر پڑ نے والی ہو تی ہیں ، ان کی زبا ن نیز ے کی ما نند ہو تی ہے ، نا ک آسما ن پر اور سر ین پا نی میں ہو تی ہے ، غصے میں رگیں پھو ل جا تی ہیں ، گفتگو ایسے جیسے کو ئی دھمکی دے رہا ہو اور آ واز کڑ ک دار او رسخت ہو تی ہے ۔
غور کیجئے ! اس آ خر ی جملے میں : ” گفتگو ایسی جیسے کو ئی دھمکی دے رہا ہو اور آ واز کڑ ک دار اور سخت ہو تی ہے ۔ “ اس میں کو ئی شک نہیں کہ ایسی عورت ” زوجہ صا لحہ “ کے مر تبہ کو نہیں پہنچ سکتی ۔ یقینا ایسی عورت بد تر ین عورت ہے ۔
اسی طر ح ایک دیہا تی آ د می سے جب نیک بیو ی کے بار ے میں پو چھا گیا تو کہنے لگا : ” نیک عورت “ وہ ہے کہ با ت کر ے تو سب سے زیا دہ سچ بو لنے والی ہو ، جب غصے میں آ ئے تو بر دبا ر ہو جا ئے ، جب ہنسے تو مسکر ا ہٹ اس کے لبوں پر کھلنے لگے ، جب کوئی چیز بنا ئے تو عمد ہ بنا ئے ، اپنے خا و ند کی فر ماں بر دار ہو ، اپنے گھر میں قرار سے رہتی ہو ، اپنے قبیلہ وخا ند ان میں معز ز ومحتر م ہو ، اپنے آپ کو کم تر سمجھتی ہو ، اپنے خا وند سے بہت محبت کر نے والی ہو اور زیا دہ بچے جنتے والی ہو ، اس کا ہر کا م قا بلِ ستا ئش ہو ۔ “ 
Enter your email address:


Delivered by FeedBurner