Wednesday, June 5, 2013

عورت کا کنوارا رہنا۔


عورت کا کنوارا رہنا۔
جس عورت کی شادی ہو جائے اور وہ بچوں والی ہو جائے تو ایسی عورت کو  کوئی شخص آسانی کے ساتھ زنا کی طرف مائل نہیں کرسکتا ۔
نیز اللہ تعالیٰ نے عورت کی فطرت میں مرد کی نسبت حیا بہت زیادہ رکھی ہے، لہٰذا کسی عورت کے بے حیا بننے سے پہلے اسے اس کی فطری زندگی یعنی گھر بار اور بچوں میں مشغول کردیا جائےتو اس کا مستقبل محفوظ ہو جاتا ہے اور ایسی عورتوں کو وہ مرد باآسانی خراب نہیں کرسکتے اور ان پر دسترس حاصل نہیں کرسکتے جن مردوں کے لئے خواہش نفسانی کی تکمیل کے لئے حلال راستے کا حصول مشکل تھا۔
اس کے برعکس اگر کسی معاشرے میں مثلا دس عدد عورتیں مناسب رشتہ کے حصول میں غیر معمولی مشکلات کا شکار ہو کر کنواری بیٹھے رہنے پر مجبور ہوں تو ان میں سے اگر ایک کو بھی خدانخواستہ بدکاری کا چسکا لگ گیا تو ایسی ہر ایک عورت اس معاشرے کے کم از کم سو100 افراد کو زنا اور بدکاری کا چسکا لگانے کے لئے کافی ہوگی اور اس کی بد  عادات سے متاثر ہونے والے صرف کنوارے ہی نہ ہوں گے بلکہ شادی شدہ مرد بھی اس میں داخل ہوں گے۔
وجہ اس کی یہ ہے کہ مرد میں اللہ تعالیٰ نے عورت کی طرف کئی گنا زیادہ میلان رکھا ہے چنانچہ جب کوئی فاحشہ عورت از خود کسی مرد کو معاذ اللہ بدکاری کی دعوت دے تو عادۃ اس کا امکان بہت کم ہوتا ہے کہ وہ مرد یوسف علیہ السلام کی طرح اپنا دامن بچاتے ہوئے بھاگ کھڑا ہو یوسف علیہ السلام کا اس موقع پر ایک عورت کے فتنے سے بچ نکلنا ایک بہت بڑا مجاہدہ تھا۔
اس کے برعکس کوئی مرد کسی عورت کو زنا کی دعوت دے اور عورت اپنا دامن بچا کر بھاگ کھڑی ہو تو عورت کے اس کارنامے کو کوئی شخص بھی کوئی عظیم کارنامہ نہیں کہتا ۔
معلوم ہوا جس معاشرے میں عورت کو شادی میں مشکلات ہوں وہاں زنا عام ہوجاتا ہے۔
۔(مولانا طارق مسعود )۔

Enter your email address:


Delivered by FeedBurner

Saturday, June 1, 2013

خاوند کا بلانا

Talq ibn Ali reported: The Messenger of Allah, peace and blessings be upon him, said, “If a man calls his wife to fulfill his needs, let her respond to him even if she is over the oven.
Source: Sunan At-Tirmidhi 1160
Grade: Hasan (fair) according to At-Tirmidhi
عَنْ طَلْقِ بْنِ عَلِيٍّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا الرَّجُلُ دَعَا زَوْجَتَهُ لِحَاجَتِهِ فَلْتَأْتِهِ وَإِنْ كَانَتْ عَلَى التَّنُّورِ
1160 سنن الترمذي كِتَاب الرَّضَاعِ لو كنت آمرا أحدا أن يسجد لأحد لأمرت المرأة أن تسجد لزوجها
قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ
 

Wednesday, May 29, 2013

خاوندوں کو تنگ کرنے والی


خاوندوں کو تنگ کرنے والی بہنیں حوروں کی بات سن لیں ذرا 

حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ''جب کوئی عورت دنیا میں اپنے خاوند کو تکلیف پہنچاتی ہے تو حور عین میں سے اس کی بیوی کہتی ہے: "اللہ تعالیٰ تجھے ہلاک کرے، اسے تکلیف نہ پہنچا یہ تو تمہارے پاس صرف ایک مہمان اور عنقریب یہ تمہیں چھوڑ کر ہمارے پاس آنے والا ہے۔''
(ترمذی۔ اور فرمایا یہ حدیث حسن ہے۔)

توثیق الحدیث: صحیح۔ أخرجہ الترمذی (1174)، و ابن ماجہ (2014)، و أحمد (2425)

جب مرد اپنی بیوی کو بلائے اور وہ نہ آئے

Abu Huraira reported: The Messenger of Allah, peace and blessings be upon him, said, “If a man calls his wife to his bed and she refuses him, causing him to be angry during the night, then the angels will curse her until the morning.”
Source: Sahih Bukhari 3065, Sahih Muslim 1736
Grade: Mutaffaqun Alayhi (authenticity agreed upon) according to Al-Bukhari and Imam Muslim
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا دَعَا الرَّجُلُ امْرَأَتَهُ إِلَى فِرَاشِهِ فَأَبَتْ فَبَاتَ غَضْبَانَ عَلَيْهَا لَعَنَتْهَا الْمَلَائِكَةُ حَتَّى تُصْبِحَ
3065 صحيح البخاري كِتَاب بَدْءِ الْخَلْقِ رأيت الليلة رجلين أتياني قالا الذي يوقد النار
1736 صحيح مسلم كِتَاب النِّكَاحِ ما من رجل يدعو امرأته إلى فراشها فتأبى عليه إلا كان الذي في السماء ساخطا عليها حتى يرضى عنها
 

Thursday, May 9, 2013

طلاق بالکل آخری مرحلہ پرہے


بعض اوقات ایسی صورتیں بھی پیش آجاتی ہیں کہ اصلاح اعمال کی تمام کوششیں ناکام ہوجاتی ہیں، کسی طریقہ سے اتفاق نہیں ہوتا، ازدواجی زندگی سے مطلوبہ ثمرات حاصل ہونے کے بجائے میاں بیوی کا آپس میں مل کر رہنا ایک عذاب بن جاتا ہے، ایسے سنگین حالات میں دونوں کے اس ازدواجی تعلق کو ختم کردینا ہی طرفین کے لئے راحت اور سلامتی کا باعث ہوتاہے۔ ایسے آخری اور انتہائی حالات میں شریعت نے خاوندکو طلاق کا اختیار دیا ہے، اور یہ کہہ کر دیا ہے کہ اس اختیار کا استعمال کرنابہت ہی ناپسندیدہ، مبغوض اور مکروہ ہے، صرف مجبوری میں اس کی اجازت ہے اور ا س کا طریقہ بھی خود ہی بتلایا ہے اور اس کے مطابق عمل کرنے کی تاکید کی ہے، جس میں بے شمار دینی اور دنیوی فوائد ہیں۔
طلا ق دینے کا احسن طریقہ
چنانچہ قرآن و سنت کے ارشادات اور صحابہ و تابعین کے عمل سے طلاق دینے کے طریقے کے متعلق جو کچھ ثابت ہوتا ہے اس کا خلاصہ یہ ہے کہ جب میاں بیوی میں کسی طرح صلح و صفائی او رمیل جول نہ ہوتا ہو اور طلاق دینے کے سوا کوئی چارہ ہی نہ رہا ہو تو طلاق دینے کا احسن (بہترین) طریقہ یہ ہے کہ جب بیوی ماہواری سے پاک ہو اور اس پاکی کے زمانہ میں خاوند نے بیوی سے صحبت بھی نہ کی ہو تو خاوند صاف الفاظ میں بیوی کو صرف ایک طلاق دے دی، مثلاًیوں کہہ دے کہ ”میں نے تجھے ایک طلاق دی۔“ اس کے بعد عدت گزرنے دے۔ عدت کے دوران رجوع کرے تو بہترہے، ورنہ ا س طرح عدت ختم ہونے کے ساتھ ہی نکاح کا رشتہ خودبخود ٹوٹ جائے گا، بیوی شوہر سے بالکل جدا ہوجائے گی اور آزاد ہوگی، اور اس کو اختیار ہوگا کہ جہاں چاہے نکاح کرے۔ فقہائے کرام نے اس طرح طلاق دینے کو طلاق احسن کہاہے اور صحابہٴ کرام رضی اللہ عنہم نے بھی اسی کو طلاق کا بہترین طریقہ قرار دیاہے۔ لہٰذا جب طلاق دینا بہت ہی ناگزیر ہو تو اسی طریقہ کے مطابق طلاق دینا چاہئے۔

Latest Results Election 2013 in pakistan