Wednesday, October 9, 2013

تعدد ازواج میں اصل حکم کیا ہے؟

تعدد ازواج میں اصل حکم کیا ہے؟
اسلام چونکہ دین فطرت ہے اس لئے مرد کی فطرت سے پوری طرح مطابقت کے باعث اسلام میں اصل ترغیبی حکم یہ ہے کہ ایک سے زائد بیویاں رکھی جائیں ، یعنی تعدد اصل ہے اور ایک پر اکتفا کرنا یہ مجبوری کے وقت ہے۔
فانکحوا ماطاب لکم من النسا مثنیٰ وثلٰث وربٰع، وان خفتم ان لا تعدلوا فواحدۃ ۔
نکاح کرو دودو سے تین تین سے چار چار سے،اور اگر تمہیں خوف ہو کہ عدل قائم نہ کرسکو گے تو پھر ایک کرو۔
دیکھیں قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے ایک کا حکم نہیں دیا بلکہ دو دو تین تین چار چار بیویاں رکھنے کا حکم دیا اور مجبوری کے وقت ایک ہی رکھنے کی اجازت بھی دی۔اس سے معلوم ہوا اصل حکم تعدد ازواج کا ہے۔
ایک سے زیادہ عورتوں کی خواہش اور طلب مرد کی فطرت میں شامل ہے۔ اللہ تعالیٰ نے مرد کی فطرت ہی ایسی بنائی ہے کہ وہ صرف ایک عورت پر گزارہ نہیں کرسکتا۔ تاریخ بھی اس بات کی شاہد ہے کہ ابتدا ہی سے مردوں کا ایک سے زیادہ بیویاں رکھنے کا رجحان رہا ہے، یہی وجہ ہے کہ جنت میں بھی ایک مومن مرد کو ایک سے زیادہ بیویاں اور کئی حوریں ملیں گی۔ جیسا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ایک ادنیٰ درجے کے جنتی کے اسی ہزار خادم ہونگے اور بہتّر بیویاں ہونگی۔ ایک اور  روایت میں ہے کہ ایک جنتی مرد کی پانچ سو حوروں اور چارہزار کنواریوں اور آٹھ ہزار بیوہ عورتوں سے شادی کروائی جائے گی۔
حضرت مفتی رشید احمد لدھیانوی رحمہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
عقلاً ونقلاً وتجربۃً وقیاساً ہر لحاظ سے یہ امر مسلّم ہے کہ مرد میں عورت کی بہ نسبت شہوت کئی گنا زیادہ ہوتی ہے۔
عقلاً اس لئے کہ مرد کا مزاج گرم ہے ، جوسبب شہوت ہے اور عورت کا مزج سرد ہے۔
شرعاً اور نقلاً اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے ایک مرد کو چار بیویوں کا اختیار دیا ہے اگر عورت میں شہوت زیادہ ہوتی تو اس کے برعکس ہونا چاہئے تھا۔
تجربۃً اس لئے کہ کوئی شخص اس کا قائل نہیں اور اس کی مثال پیش نہیں کرسکتا کہ عورت ہمبستری کی دعوت دے اور مرد انکار کرے ، اس کے برعکس اس کی مثالیں روزانہ پیش آتی رہتی ہیں کہ مرد بلاتا ہے اور عوت راضی نہیں ہوتی۔
قیاساً اس طریقے سے کہ دوسرے حیوانات میں یہ امر مشاہد ہے کہ ایک مذکر سینکڑوں مونث کے لئے کافی ہوجاتا ہے۔
اس کے علاوہ مردوں میں کثرت احتلام اور عورتوں میں اس کا وجود کالعدم ہونا بھی اس بات کی دلیل ہے کہ عورتوں میں شہوت کم ہوتی ہے۔


Islam is divinely ordained by Allah (SWT) thus fully compatible with human nature, particularly the Fitrah of man. Therefore Islam encourages polygny and to become content with one is the exception and not the rule. 

Friday, July 19, 2013

ایک سے زائد شادیاں polygamy Multiple Wives

 ایک سے زائد شادیوں کے حوالے سے نئی کتاب، اس کتاب میں تعدد زوجات کے حوالے سے سیر حاصل بحث ہے، امید ہے یہ کتاب آپ کو پسند آئے گی اور آپ اس پر عمل کرنے کی بھی کوشش کریں گے۔ اسلام میں مرد کو چار شادیاں کرنے کی نہ صرف اجازت بلکہ اس کی حوصلہ افزائی کی گئی ہے جس پر خلفائے راشدی المہدین کا عمل سب سے بڑا ثبوت ہے۔
.............................................
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Tuesday, July 16, 2013

عدل کا مفہوم

بیویوں میں ‘‘عدل’’۔
جس طرح لوگ پردے کے معاملے میں ایک غلط فہمی کا شکار ہیں یعنی ‘‘ستر اور پردہ’’ میں فرق نہیں سمجھتے بالکل اسی طرح دوسری شادی کی صورت میں عدل کے بارے میں بھی غلط فہمی کا شکار ہیں۔
لہٰذا اس بات کو سمجھنا چاہئے کہ عدل کے معنی ظلم کا مقابل ہے،
 ظلم کہتے ہیں حق کے موافق برتاو نہ کرنا، مثلا ٹو پی کا مقام سرپر رکھنا ہے اگر آپ اسے پاوں پر رکھ دیں تو یہ ظلم ہے۔
 عدل کہتے ہیں حق موافق کے برتاو کرنا۔
عام طور پر لوگ عدل اور تسویہ(برابری)میں فرق کو نہیں سمجھتے۔ عدل ہر حال میں ضروری ہے چاہے بیوی ایک ہو یا ایک سے زائد جبکہ تسویہ(برابری) ایک سے زائد بیویاں ہونے کی صورت میں صرف دو چیزوں میں ضروری ہے۔۱۔بیتوتہ(رات گزارنا)  ۲۔وصلات زائدہ(اضافی تحفے تحائف) میں۔
عدل کا مطلب یہ ہوا کہ کسی پر ظلم نہ ہو، اور یہ بات تو ایک بیوی کی صورت میں بھی ضروری ہے کہ آپ اس پر ظلم اور زیادتی نہ کریں اس کے حقوق واجبہ کو ادا کریں۔
البتہ ایک سے زائد بیویاں ہونے کی صورت میں دوچیزوں میں تسویہ یعنی برابری بھی کرنا ہوگی،
یاد رکھیں ہر چیز میں برابری کرنا ضروری نہیں ہے۔ اگر دونوں بیویاں مالی حیثیت سے برابر ہیں یعنی دونوں مالدار ہیں یا دونوں غریب ہیں تو پھر نان نفقہ میں برابری ضروری ہے ورنہ نان نفقہ میں برابری ضروری نہیں ہے ، مالدار بیوی کو اچھا کھانا جو اس کے لائق ہو وہ دینا ضروری ہے اور غریب بیوی کو ہلکا کھانا جو اس کے موافق ہو وہ دینا ضروری ہے۔ البتہ دو چیزیں ایسی ہیں جن میں برابری ضروری ہے:
۱۔ رات گزارنے میں یعنی جتنی راتیں ایک بیوی کے ساتھ گزاری ہیں اتنی ہی دوسری کے پاس بھی گزارنا ہوں گی، چاہے جماع کریں یا نہ کریں۔ اور یہ کام اتنا مشکل نہیں جتنا پروپیگنڈا کیا جارہا ہے۔
۲۔ اضافی تحفے تحائف دینا۔ یعنی ضروری نان نفقہ کے علاوہ اضافی کوئی چیز دینی ہو تو پھر دونوں میں برابری کرنا ہوگی۔(مثلا شادی بیاہ یا عید کے موقع پر کپڑے وغیرہ بنانا)
کیا آپ ان دو چیزوں میں برابری نہیں کرسکتے۔۔؟؟
کیا آپ انسان نہیں ہیں آپ کو اللہ نے عقل نہیں دی کہ آپ عدل کو چھوڑ کر ظلم کریں گے۔۔؟؟
لہٰذا خود بھی زیادہ شادیاں کریں اور دوسروں کو بھی ترغیب دیں۔

Sunday, July 7, 2013

خلفاراشدین رضی اللہ عنہم کا عمل

حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے چار شادیاں کیں، حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے آٹھ شادیاں کیں، حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے آٹھ شادیاں کیں، حضرت علی رضی اللہ عنہ نے نو شادیاں کیں۔
حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی شادیوں کی تعداد باقی خلفا کے مقابلہ میں کم ہے کیونکہ ان کی عمر کا کم زمانہ اسلام میں گزراباقی خلفا سے عمر میں بھی بڑے تھے ، دوسرے نمبر پر حضرت عمر رضی اللہ عنہ ہیں ، اور پھر تیسری نمبر پر حضرت عثمان رضی اللہ عنہ ہیں انہوں نے آٹھ شادیاں کیں ، چوتھے نمبر پر حضرت علی رضی اللہ عنہ ہیں جنہوں نے نو شادیاں کیں اور وفات کے وقت چاربیویاں اور 19 باندیاں تھیں، چونکہ ان کی عمر کا زیادہ حصہ اسلام میں گزرا اس لئے انہوں نے اسلامی تعلیمات سے متاثر ہو کر باقی خلفا سے زیادہ شادیاں کیں۔
اگر زیادہ شادیاں کرنا جاہلیت کا دستور ہوتا تو پھر سب سے زیادہ شادیاں حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی ہونی چاہئے تھیں اور سب سے کم حضرت علی رضی اللہ عنہ کی، کیونکہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی عمر کا زیادہ حصہ جاہلیت میں گزرا اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کی عمر کا زیادہ حصہ اسلام میں گزرا ، معلوم ہوا زیادہ شادیوں کی اتنی ترغیب اسلام نے ہی دی۔
بعض لوگ کہتے ہیں کہ ان حضرات نے زیادہ شادیاں اس لئے کیں کہ ان کی جسمانی قوت زیادہ تھی ، یہ بات درست ہے لیکن دوسری طرف ان حضرات میں صبر کا مادہ اور دنیا سے بے رغبتی اتنی زیادہ تھی کہ ہم اس درجے کا نہ صبر کر سکتے ہیں اور نہ ہی دنیا سے بے رغبتی ۔ جب ہماری یہ حالت ہے کہ ہم نہ صبر کر سکتے ہیں اور نہ دنیا سے بے رغبتی تو پھر ہمارے لئے تو اور ضروری ہو جاتا ہے کہ ہم زیادہ شادیاں کریں۔


Enter your email address:


Delivered by FeedBurner

Friday, June 14, 2013

بعض لوگوں کا ایک عجیب اعتراض


بعض لوگ ایک عجیب قسم کا اعتراض کرتے ہیں کہ جی اس زمانے میں بیویوں کے درمیان عدل کرنا ممکن ہی نہیں۔
اس میں دو باتیں ہیں :
1۔ عدل ممکن ہی نہیں
2۔ عدل کرتے نہیں
جہاں تک دوسری بات کا تعلق ہے کہ لوگ عدل کرتے نہیں ، یہ بات کسی حد تک ٹھیک ہو سکتی ہے لیکن اس بات کو لیکر دوسری شادی ہی نہ کرنا کہ لوگ عدل نہیں کرتے یہ ایسا ہی جیسا کوئی کہے کہ لوگ نماز پڑھتے ہی نہیں لہٰذا میں بھی نہیں پڑھتا یا لوگ نماز پڑھتے ہی نہیں لہٰذا اس کی ترغیب دینا ہی فضول ہے۔
اگر لوگ نہیں کرتے تو آپ خود عدل کر کے لوگوں کے لئے مثال بنیں ، یا کم از کم اس بات کی ترغیب چلائیں لوگوں سے کہیں کہ وہ عدل کریں ، عدل کرنے سے ہوگا نہ کہ سوچنے سے ۔
جہاں تک پہلی بات کا تعلق ہے کہ عدل ممکن ہی نہیں ، یہ بالکل فضول بات ہے ۔ اس قسم کے اعتراض پرویز مشرف کی ذہنیت رکھنے والے روشن خیال دین کی اور کئی باتوں پر بھی کرتے رہے ہیں کہ فلاں کام آج کے دور میں ممکن ہی نہیں ، یاد رکھیں دین کے کسی حکم کے بارے میں یہ سوچ لینا کہ آج اس پر عمل کرنا ممکن ہی نہیں اس سے وہ معاف نہیں ہو جاتا بلکہ اس کی اہمیت مزید بڑھ جاتی ہے کہ اپنے آپ کو دین دار کہنے والے آگے بڑھ کر اس حکم پر عمل کرکے گمراہوں کی دلیل بیچ چوراہے کے باطل کرکے دکھائیں کہ دین اور شریعت کا ہر حکم قیامت تک کے لئے ہے اور اس پر عمل کرنا ہر دور اور زمانے میں ممکن ہے۔
لہٰذا آج جتنے اعتراض دوسری شادی پر ہو رہے ہیں یہ اس بات کے متقاضی ہیں کہ دین دار طبقہ خصوصا علما ، حفاظ ، اور تبلیغی حضرات فورا اس دلیل کو اپنے عمل سے باطل کرکے دکھائیں، اور باقی عوام کے لئے مثال بن کر آسانی پیدا کریں۔
مولانا مفتی طارق مسعود مدظلہ فرماتے ہیں:
حقیقت یہ ہے کہ جب انسان اخلاص اور سنجیدگی کے ساتھ کسی کام کا پختہ عزم کر لیتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے لئے راستے کھولتے چلے جاتے ہیں، چنانچہ میں دعوے سے کہتا ہوں کہ جو نوجوان تعددزوجات پر عمل کے بارے میں اللہ پر اعتماد کرتے ہوئے اخلاص اور سنجیدگی کے ساتھ عملی کوشش کرے گا، اس کے سامنے بہت سی ایسی تدبیریں اور راستے کھلتے جائیں گے جنہیں اختیار کرکے اس کے لئے اس سنت پر عمل آسان ہو جائے گا اور اگر عزم وارادہ ہی نہ ہو تو بنی اسرائیل کی طرح مختلف قسم کی شقیں اور اشکالات نکال نکال کر ساری عمر معاملے کو ٹہلانے کی کوشش ہی میں لگا رہے گا۔ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا :
تین آدمی ایسے ہیں کہ جن کی مدد اللہ تعالیٰ نے خود پر واجب کرلی ہے:
1۔وہ نکاح کا ارادہ کرنے والا جس کا مقصد نکاح کے ذریعے خود کو بے حیائی سے بچانا ہو۔
2۔اللہ کے راستے میں جہاد کرنے والا۔
3۔وہ غلام جو خودکو آزاد کرانے کی کوشش میں لگا رہے۔
(ایک سے زائد شادیوں کی ضرورت کیوں؟ص294)


Wednesday, June 5, 2013

عورت کا کنوارا رہنا۔


عورت کا کنوارا رہنا۔
جس عورت کی شادی ہو جائے اور وہ بچوں والی ہو جائے تو ایسی عورت کو  کوئی شخص آسانی کے ساتھ زنا کی طرف مائل نہیں کرسکتا ۔
نیز اللہ تعالیٰ نے عورت کی فطرت میں مرد کی نسبت حیا بہت زیادہ رکھی ہے، لہٰذا کسی عورت کے بے حیا بننے سے پہلے اسے اس کی فطری زندگی یعنی گھر بار اور بچوں میں مشغول کردیا جائےتو اس کا مستقبل محفوظ ہو جاتا ہے اور ایسی عورتوں کو وہ مرد باآسانی خراب نہیں کرسکتے اور ان پر دسترس حاصل نہیں کرسکتے جن مردوں کے لئے خواہش نفسانی کی تکمیل کے لئے حلال راستے کا حصول مشکل تھا۔
اس کے برعکس اگر کسی معاشرے میں مثلا دس عدد عورتیں مناسب رشتہ کے حصول میں غیر معمولی مشکلات کا شکار ہو کر کنواری بیٹھے رہنے پر مجبور ہوں تو ان میں سے اگر ایک کو بھی خدانخواستہ بدکاری کا چسکا لگ گیا تو ایسی ہر ایک عورت اس معاشرے کے کم از کم سو100 افراد کو زنا اور بدکاری کا چسکا لگانے کے لئے کافی ہوگی اور اس کی بد  عادات سے متاثر ہونے والے صرف کنوارے ہی نہ ہوں گے بلکہ شادی شدہ مرد بھی اس میں داخل ہوں گے۔
وجہ اس کی یہ ہے کہ مرد میں اللہ تعالیٰ نے عورت کی طرف کئی گنا زیادہ میلان رکھا ہے چنانچہ جب کوئی فاحشہ عورت از خود کسی مرد کو معاذ اللہ بدکاری کی دعوت دے تو عادۃ اس کا امکان بہت کم ہوتا ہے کہ وہ مرد یوسف علیہ السلام کی طرح اپنا دامن بچاتے ہوئے بھاگ کھڑا ہو یوسف علیہ السلام کا اس موقع پر ایک عورت کے فتنے سے بچ نکلنا ایک بہت بڑا مجاہدہ تھا۔
اس کے برعکس کوئی مرد کسی عورت کو زنا کی دعوت دے اور عورت اپنا دامن بچا کر بھاگ کھڑی ہو تو عورت کے اس کارنامے کو کوئی شخص بھی کوئی عظیم کارنامہ نہیں کہتا ۔
معلوم ہوا جس معاشرے میں عورت کو شادی میں مشکلات ہوں وہاں زنا عام ہوجاتا ہے۔
۔(مولانا طارق مسعود )۔

Enter your email address:


Delivered by FeedBurner

Saturday, June 1, 2013

خاوند کا بلانا

Talq ibn Ali reported: The Messenger of Allah, peace and blessings be upon him, said, “If a man calls his wife to fulfill his needs, let her respond to him even if she is over the oven.
Source: Sunan At-Tirmidhi 1160
Grade: Hasan (fair) according to At-Tirmidhi
عَنْ طَلْقِ بْنِ عَلِيٍّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا الرَّجُلُ دَعَا زَوْجَتَهُ لِحَاجَتِهِ فَلْتَأْتِهِ وَإِنْ كَانَتْ عَلَى التَّنُّورِ
1160 سنن الترمذي كِتَاب الرَّضَاعِ لو كنت آمرا أحدا أن يسجد لأحد لأمرت المرأة أن تسجد لزوجها
قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ