Tuesday, November 5, 2013

مالداری اور نکاح


1۔حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تین آدمی وہ ہیں کہ جن کی مدد اللہ تعالیٰ (نے خود) پر واجب (کرلی) ہے ،
۱۔وہ نکاح کرنے والا شخص جس کا مقصد نکاح سے خود کو بے حیائی سے بچانا ہو۔
۲۔وہ غلام جو غلامی کے طوق سے آزادی کی خاطر عقدِ مکا تبت(مالک سے ایک خاص قسم کا مالی عقد) کرکے آزاد ہونا چاہتا ہو۔
۳۔وہ مجاہد جو اللہ تعالیٰ کے راستے میں جہاد کررہا ہو۔
2۔ حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک شخص حاضر ہوا جو اپنی غربت وفقر وفاقہ کی شکایت کررہا تھا، اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے حکم دیا کہ وہ نکاح کرلے۔
3۔حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ (لوگو!) اللہ تعالیٰ نے تمہیں جو نکاح کا حکم دیا ہے تو اس حکم کی تکمیل کی خاطر تم اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرو، اس پر اللہ تعالیٰ نے تم سے جو غنٰی(مال میں وسعت وبرکت کا وعدہ) کیا ہے، تو اللہ تعالیٰ تم سے کئے گئے اس وعدہ کو پورا کرے گا اس لئے کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: اگر فقیر ہوگے تو اللہ (اس نکاح کی برکت سے) غنی کردے گا۔
4۔حضرت عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ (لوگو!) غِنٰی کو نکاح میں تلاش کرو اس لئے کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ اگر فقیر ہوگے تو اللہ (اس نکاح کی برکت سے) غنی کردے گا۔
5۔حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ: رزق نکاح میں تلاش کرو۔
6۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ عورتوں سے نکاح کرو اس لئے کہ یہ عورتیں تمہارے مال میں برکت واضافے کا سبب ہیں۔
7۔ثعلبی اپنی سند سے رویات کرتے ہیں کہ ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے غربت کی شکایت کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے فرمایا : نکاح کو لازم پکڑو۔
8۔ایوب رحمہ اللہ فرماتے ہیں محمد(غالبا ابن سیرین ) مجھے کاروبار،جائیداد، مال بڑھانے کے لئے نکاح کی ترغیب دیتے تھے۔
9۔ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اے لوگو!(جس نے مال تلاش کرنا ہوتو وہ) نکاح میں مال تلاش کرے۔
10۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ایک مرتبہ خطبہ میں فرمایا : کسی بھی شخص کے لئے ایمان کے بعد اس سے بڑی نعمت کوئی نہیں کہ اسے اچھے اخلاق اور محبت والی ایسی بیوی مل جائے جو کثرت سے بچے جنتی ہو۔
Richness, poverty, marriage, provision, blessing, wealth, property,business,



Enter your email address:


Delivered by FeedBurner

Sunday, November 3, 2013

Inpage Urdu 2014 Full Version Free Download

Inpage Urdu 2014 Full Version Free Download

On 4shared:  Download
On 2shared: Download
on MediaFire: Download
On speedyshare: Download




Wednesday, October 9, 2013

تعدد ازواج میں اصل حکم کیا ہے؟

تعدد ازواج میں اصل حکم کیا ہے؟
اسلام چونکہ دین فطرت ہے اس لئے مرد کی فطرت سے پوری طرح مطابقت کے باعث اسلام میں اصل ترغیبی حکم یہ ہے کہ ایک سے زائد بیویاں رکھی جائیں ، یعنی تعدد اصل ہے اور ایک پر اکتفا کرنا یہ مجبوری کے وقت ہے۔
فانکحوا ماطاب لکم من النسا مثنیٰ وثلٰث وربٰع، وان خفتم ان لا تعدلوا فواحدۃ ۔
نکاح کرو دودو سے تین تین سے چار چار سے،اور اگر تمہیں خوف ہو کہ عدل قائم نہ کرسکو گے تو پھر ایک کرو۔
دیکھیں قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے ایک کا حکم نہیں دیا بلکہ دو دو تین تین چار چار بیویاں رکھنے کا حکم دیا اور مجبوری کے وقت ایک ہی رکھنے کی اجازت بھی دی۔اس سے معلوم ہوا اصل حکم تعدد ازواج کا ہے۔
ایک سے زیادہ عورتوں کی خواہش اور طلب مرد کی فطرت میں شامل ہے۔ اللہ تعالیٰ نے مرد کی فطرت ہی ایسی بنائی ہے کہ وہ صرف ایک عورت پر گزارہ نہیں کرسکتا۔ تاریخ بھی اس بات کی شاہد ہے کہ ابتدا ہی سے مردوں کا ایک سے زیادہ بیویاں رکھنے کا رجحان رہا ہے، یہی وجہ ہے کہ جنت میں بھی ایک مومن مرد کو ایک سے زیادہ بیویاں اور کئی حوریں ملیں گی۔ جیسا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ایک ادنیٰ درجے کے جنتی کے اسی ہزار خادم ہونگے اور بہتّر بیویاں ہونگی۔ ایک اور  روایت میں ہے کہ ایک جنتی مرد کی پانچ سو حوروں اور چارہزار کنواریوں اور آٹھ ہزار بیوہ عورتوں سے شادی کروائی جائے گی۔
حضرت مفتی رشید احمد لدھیانوی رحمہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
عقلاً ونقلاً وتجربۃً وقیاساً ہر لحاظ سے یہ امر مسلّم ہے کہ مرد میں عورت کی بہ نسبت شہوت کئی گنا زیادہ ہوتی ہے۔
عقلاً اس لئے کہ مرد کا مزاج گرم ہے ، جوسبب شہوت ہے اور عورت کا مزج سرد ہے۔
شرعاً اور نقلاً اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے ایک مرد کو چار بیویوں کا اختیار دیا ہے اگر عورت میں شہوت زیادہ ہوتی تو اس کے برعکس ہونا چاہئے تھا۔
تجربۃً اس لئے کہ کوئی شخص اس کا قائل نہیں اور اس کی مثال پیش نہیں کرسکتا کہ عورت ہمبستری کی دعوت دے اور مرد انکار کرے ، اس کے برعکس اس کی مثالیں روزانہ پیش آتی رہتی ہیں کہ مرد بلاتا ہے اور عوت راضی نہیں ہوتی۔
قیاساً اس طریقے سے کہ دوسرے حیوانات میں یہ امر مشاہد ہے کہ ایک مذکر سینکڑوں مونث کے لئے کافی ہوجاتا ہے۔
اس کے علاوہ مردوں میں کثرت احتلام اور عورتوں میں اس کا وجود کالعدم ہونا بھی اس بات کی دلیل ہے کہ عورتوں میں شہوت کم ہوتی ہے۔


Islam is divinely ordained by Allah (SWT) thus fully compatible with human nature, particularly the Fitrah of man. Therefore Islam encourages polygny and to become content with one is the exception and not the rule. 

Friday, July 19, 2013

ایک سے زائد شادیاں polygamy Multiple Wives

 ایک سے زائد شادیوں کے حوالے سے نئی کتاب، اس کتاب میں تعدد زوجات کے حوالے سے سیر حاصل بحث ہے، امید ہے یہ کتاب آپ کو پسند آئے گی اور آپ اس پر عمل کرنے کی بھی کوشش کریں گے۔ اسلام میں مرد کو چار شادیاں کرنے کی نہ صرف اجازت بلکہ اس کی حوصلہ افزائی کی گئی ہے جس پر خلفائے راشدی المہدین کا عمل سب سے بڑا ثبوت ہے۔
.............................................
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Tuesday, July 16, 2013

عدل کا مفہوم

بیویوں میں ‘‘عدل’’۔
جس طرح لوگ پردے کے معاملے میں ایک غلط فہمی کا شکار ہیں یعنی ‘‘ستر اور پردہ’’ میں فرق نہیں سمجھتے بالکل اسی طرح دوسری شادی کی صورت میں عدل کے بارے میں بھی غلط فہمی کا شکار ہیں۔
لہٰذا اس بات کو سمجھنا چاہئے کہ عدل کے معنی ظلم کا مقابل ہے،
 ظلم کہتے ہیں حق کے موافق برتاو نہ کرنا، مثلا ٹو پی کا مقام سرپر رکھنا ہے اگر آپ اسے پاوں پر رکھ دیں تو یہ ظلم ہے۔
 عدل کہتے ہیں حق موافق کے برتاو کرنا۔
عام طور پر لوگ عدل اور تسویہ(برابری)میں فرق کو نہیں سمجھتے۔ عدل ہر حال میں ضروری ہے چاہے بیوی ایک ہو یا ایک سے زائد جبکہ تسویہ(برابری) ایک سے زائد بیویاں ہونے کی صورت میں صرف دو چیزوں میں ضروری ہے۔۱۔بیتوتہ(رات گزارنا)  ۲۔وصلات زائدہ(اضافی تحفے تحائف) میں۔
عدل کا مطلب یہ ہوا کہ کسی پر ظلم نہ ہو، اور یہ بات تو ایک بیوی کی صورت میں بھی ضروری ہے کہ آپ اس پر ظلم اور زیادتی نہ کریں اس کے حقوق واجبہ کو ادا کریں۔
البتہ ایک سے زائد بیویاں ہونے کی صورت میں دوچیزوں میں تسویہ یعنی برابری بھی کرنا ہوگی،
یاد رکھیں ہر چیز میں برابری کرنا ضروری نہیں ہے۔ اگر دونوں بیویاں مالی حیثیت سے برابر ہیں یعنی دونوں مالدار ہیں یا دونوں غریب ہیں تو پھر نان نفقہ میں برابری ضروری ہے ورنہ نان نفقہ میں برابری ضروری نہیں ہے ، مالدار بیوی کو اچھا کھانا جو اس کے لائق ہو وہ دینا ضروری ہے اور غریب بیوی کو ہلکا کھانا جو اس کے موافق ہو وہ دینا ضروری ہے۔ البتہ دو چیزیں ایسی ہیں جن میں برابری ضروری ہے:
۱۔ رات گزارنے میں یعنی جتنی راتیں ایک بیوی کے ساتھ گزاری ہیں اتنی ہی دوسری کے پاس بھی گزارنا ہوں گی، چاہے جماع کریں یا نہ کریں۔ اور یہ کام اتنا مشکل نہیں جتنا پروپیگنڈا کیا جارہا ہے۔
۲۔ اضافی تحفے تحائف دینا۔ یعنی ضروری نان نفقہ کے علاوہ اضافی کوئی چیز دینی ہو تو پھر دونوں میں برابری کرنا ہوگی۔(مثلا شادی بیاہ یا عید کے موقع پر کپڑے وغیرہ بنانا)
کیا آپ ان دو چیزوں میں برابری نہیں کرسکتے۔۔؟؟
کیا آپ انسان نہیں ہیں آپ کو اللہ نے عقل نہیں دی کہ آپ عدل کو چھوڑ کر ظلم کریں گے۔۔؟؟
لہٰذا خود بھی زیادہ شادیاں کریں اور دوسروں کو بھی ترغیب دیں۔

Sunday, July 7, 2013

خلفاراشدین رضی اللہ عنہم کا عمل

حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے چار شادیاں کیں، حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے آٹھ شادیاں کیں، حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے آٹھ شادیاں کیں، حضرت علی رضی اللہ عنہ نے نو شادیاں کیں۔
حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی شادیوں کی تعداد باقی خلفا کے مقابلہ میں کم ہے کیونکہ ان کی عمر کا کم زمانہ اسلام میں گزراباقی خلفا سے عمر میں بھی بڑے تھے ، دوسرے نمبر پر حضرت عمر رضی اللہ عنہ ہیں ، اور پھر تیسری نمبر پر حضرت عثمان رضی اللہ عنہ ہیں انہوں نے آٹھ شادیاں کیں ، چوتھے نمبر پر حضرت علی رضی اللہ عنہ ہیں جنہوں نے نو شادیاں کیں اور وفات کے وقت چاربیویاں اور 19 باندیاں تھیں، چونکہ ان کی عمر کا زیادہ حصہ اسلام میں گزرا اس لئے انہوں نے اسلامی تعلیمات سے متاثر ہو کر باقی خلفا سے زیادہ شادیاں کیں۔
اگر زیادہ شادیاں کرنا جاہلیت کا دستور ہوتا تو پھر سب سے زیادہ شادیاں حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی ہونی چاہئے تھیں اور سب سے کم حضرت علی رضی اللہ عنہ کی، کیونکہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی عمر کا زیادہ حصہ جاہلیت میں گزرا اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کی عمر کا زیادہ حصہ اسلام میں گزرا ، معلوم ہوا زیادہ شادیوں کی اتنی ترغیب اسلام نے ہی دی۔
بعض لوگ کہتے ہیں کہ ان حضرات نے زیادہ شادیاں اس لئے کیں کہ ان کی جسمانی قوت زیادہ تھی ، یہ بات درست ہے لیکن دوسری طرف ان حضرات میں صبر کا مادہ اور دنیا سے بے رغبتی اتنی زیادہ تھی کہ ہم اس درجے کا نہ صبر کر سکتے ہیں اور نہ ہی دنیا سے بے رغبتی ۔ جب ہماری یہ حالت ہے کہ ہم نہ صبر کر سکتے ہیں اور نہ دنیا سے بے رغبتی تو پھر ہمارے لئے تو اور ضروری ہو جاتا ہے کہ ہم زیادہ شادیاں کریں۔


Enter your email address:


Delivered by FeedBurner