Thursday, November 13, 2014
Saturday, November 1, 2014
متعدد بیویوں کی صورت میں مشکلات اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم ۔
عرب عالم عبداللہ الفقیہ لکھتے ہیں:
ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو ان عورتوں کے خلاف بہت غیرت آتی تھی جو خود کو نکاح کے لئے از خود پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پیش کر دیتی تھیں ، نیز صحیح بخاری میں ہے کہ پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج دو جماعتوں میں منقسم تھیں۔
ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک زوجہ کے گھر تشریف فرماتھے، اسی دوران دوسری زوجہ نے ایک پیالے میں خادم کے ہاتھ کھانا بھجوایا، پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم جس زوجہ کے گھر تھے ان زوجہ کو اپنی باری میں سوکن کی اس مداخلت پر اتنی غیرت آئی کہ انہوں نے اس پیالے کو لے کر زمین پر دے مارا اور اس کے دو ٹکڑے کر دیئے، اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تمہاری ماں کو غیرت آئی اس کے بعد آپ نے زمین پر جھک کر اس پیالے کو جوڑا اور اس میں کھانا دوبارہ ڈالا اور اس وقت موجود افراد کو کھانا تناول کرنے کا حکم دیا۔
مگر یہ مشکلات پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کو متعدد بیویاں رکھنے سے باز نہیں رکھ سکیں، ہاں یہ ضرور ہے کہ مرد جب پہلی زوجہ کو اعتماد میں لئے بغیر اور اسے راضی کئے بغیر دوسری شادی کرے تو مشکلات زیادہ ہوتی ہیں اور اسے راضی کرکے یہ اقدام کرے تو مشکلات کم ہو جاتی ہیں، لیکن اگر وہ بیوی کو راضی کرنے کی کوشش کرے اور پھر بھی بیوی راضی نہ ہو تو بھی مرد کے لئے یہ اقدام جائز ہے، کیونکہ مرد کو دوسری شادی سے زبردستی روکنے کا نہ تو بیوی کو حق ہے اور نہ ہی بیوی کے ولیوں کو۔
لہٰذا عورت کو چاہئے کہ اس کا شوہر جب کسی عورت سے نکاح کا خواہش مند ہو تو اس کے راستے میں رکاوٹ نہ بنے کیونکہ اس کا یہ رکاوٹ ڈالنا بسا اوقات طلاق یا شوہر کے دل میں زوجہ کی نفرت کا سبب بنتا ہے۔ اللہ سے دعا ہے کہ مسلمانوں کے احوال کو درست فرمائے۔
Monday, October 6, 2014
کیا آپ انصاف نہیں کرسکتے۔۔۔۔؟
کیا آپ انصاف نہیں کرسکتے۔۔۔۔؟
بہت سارے دوست یہ کہہ کر دوسری شادی کا نام سننا گوارہ نہیں کرتے کہ ہم انصاف نہیں کرسکتے۔ یا ہمیں کوئی ایک مثال دیں کہ کسی نے دوسری شادی کی ہو اور انصاف کیا ہو ایسے دوستوں سے دست بستہ التجا ہے کہ وہ ذرا غور فرمائیں:
اگر آپ نے ایل ایل بی وغیرہ کی ہوئی ہو اور وہ تمام تقاضے آپ کے اندر پائے جاتے ہوں جن کے ہوتے ہوئے آپ چیف جسٹس بن سکتے ہیں اور پھر حکومت آپ کو آفر کرے کہ آپ کو چیف جسٹس بنایا جارہا ہے تو سچ بتائیں اس وقت آپ یہ کہیں گے کہ میں چیف جسٹس نہیں بنتا کیوں کہ میں انصاف نہیں کرسکتا۔۔۔؟؟
اگر آپ نے اعلیٰ تعلیم حاصل کی ہوئی ہے اور تعلیم کے شعبے میں آپ کافی تجربہ رکھتے ہیں اور ملک کے تعلیمی اداروں کو بہتر کرنے کا جذبہ اور صلاحیت بھی رکھتے ہیں حکومت آپ کو وزیر تعلیم بنانے کا اعلان کردے تو کیا آپ اس وقت کہیں گے کہ میں وزیر تعلیم نہیں بنتا کیونکہ میں اس وزارت کے تقاضے پورے نہیں کرسکتا۔۔۔؟؟
اگر حکومت آپ کو کسی صوبے کا آئی جی لگانے کا اعلان کرلے تو سچ بتائیں کیا آپ یہ کہہ کر انکار کردیں گے کہ میں اس قابل نہیں۔۔۔؟؟
اگر حکومت اعلان کر دے کہ رحمان ملک کی جگہ آپ کو وزیر داخلہ بنایا جارہا ہے تو کیا آپ انکار کردیں گے۔۔۔؟؟
کیا دنیا میں کوئی ایسا کام ہے جس کو کرنے کی کوئی شرط یا قانون یا قاعدہ نہ ہو،۔۔۔۔؟؟
جب ہر کام کی کچھ نہ کچھ شرائط اور قانون ہیں تو پھر ہر کام آپ بغیر سوچے سمجھے فوراً کرلیتے ہیں لیکن شادی کے موقع پر یہ بات کہ میں انصاف نہیں کرسکتا ہے۔۔۔؟؟
نماز پڑھنے کے لئے جگہ کا پاک ہونا ، کپڑوں کا پاک ہونا، جسم کا پاک ہونا، باوضو ہونا، قبلہ رخ ہونا وغیرہ بہت ساری شرائط ہیں کیا کوئی یہ کہہ کر نماز چھوڑ دے کہ میں ان شرائط کو نہیں پورا کرسکتا لہٰذا نماز ہی نہیں پڑھتایہ درست ہوگا۔۔۔؟؟
آپ کوئی نہ کوئی کام یا ملازمت وغیرہ کرتے ہی ہونگے کیا وہ بغیر کسی شرائط کے ہے ، آپ جو ملازمت کررہے ہیں وہ کسی نے زبردستی آپ کے حوالے کی تھی یا آپ نے خود درخواست دے کر حاصل کی تھی، کیا آپ نے اس وقت دو دن بھی یہ سوچا تھا کہ میں شاید اس کی شرائط پوری نہ کرسکوں لہٰذا میں یہ نہیں کرتا۔۔۔۔؟؟؟
میرے بھائی دوسری شادی کے لئے تین اوصاف ہونا چاہئے۔ ۱۔علم ۲۔خوف خدا ۳۔ حوصلہ
۱۔جہاں تک علم کا تعلق ہےتو وہ آپ تک پہنچ چکا مزید اس بارے میں ہم بتاتے رہیں گے اور ہمارے بلاگ پر اس بارے میں بہت سارا مواد موجود ہے۔www.4bv.blogspot.com
۲۔ دوسری چیز خوف خدا ہے ، اگر آپ کہتے ہیں میرے اندر خوف خدا نہیں تو پھر آپ اپنی خیر منائیں یہ بہت بڑی جرات کردی آپ نے۔
۳۔تیسری چیز حوصلہ ہے، اگر آپ کے اندرایک سے زائد عورتیں ۔۔۔عورتیں۔۔۔ رکھنے کا حوصلہ نہیں تو پھر آپ کو ڈوب مرنا چاہئےکہ آپ اس قابل ہی نہیں۔
ارے بھائی! اگر آپ نے دوسری شادی نہیں کرنی تو آپ پر کوئی زبردستی نہیں کرتا آپ اس بات کو اپنے دل میں چھپا کررکھیں اس کا کسی کے سامنے اظہار نہ کریں تاکہ اس غلط نظریے کی دوسروں کو تبلیغ نہ ہو۔آپ کم از کم اتنا تو کرسکتے ہیں کہ دوسروں کے سامنے ڈھینگیں ماریں کہ میں چار شادیاں کروں گا۔۔۔چند سالوں بعد میرے 73 بچے ہوں گے۔
امید رکھیں انشااللہ اس پر بھی آپ کو اجر ملے گا۔ وما توفیقی الا بااللہ
Justice, LLB, tree, teacher, officer, Professor, Minister, ChiefJustice, IG, knowledge, fear God, courage,
Tuesday, May 6, 2014
http://adf.ly/307003/www.inpage2014.blogspot.com
http://adf.ly/307003/www.inpage2014.blogspot.com
<script type="text/javascript">
var adfly_id = 307003;
var adfly_advert = 'int';
var exclude_domains = ['example.com', 'yoursite.com'];
</script>
<script src="https://cdn.adf.ly/js/link-converter.js"></script>
<script type="text/javascript">
var adfly_id = 307003;
var adfly_advert = 'int';
var exclude_domains = ['example.com', 'yoursite.com'];
</script>
<script src="https://cdn.adf.ly/js/link-converter.js"></script>
Saturday, May 3, 2014
Wednesday, April 2, 2014
اپنے خاوند سے طلاق کا مطالبہ نہ کرنے کی نصیحت
اپنے خاوند سے طلاق کا مطالبہ نہ کرنے کی نصیحت
”نصیحت پر عمل کر نے والی بیوی“ زندگی میں پیش آنے والے مسئلہ کا دائمی اور پائیدار حل تلاش کرتی ہے، اس کے دل میں طلاق کے مطالبہ کا خیال تک نہیں آتا ،”نصیحت پر عمل کر نے والی بیوی “ ازدواجی زندگی کے دوام و بقاء کی ہر ممکن کوشش کرتی ہے، لڑائی و جھگڑے کو ختم کرنے کی حتی المقدور سعی وکاوش کرتی ہے۔ ”نصیحت پر عمل کر نے والی بیوی“ اپنی خاوند کی جفا و زیادتی پر صبر کرتی ہے اور اس کی طرف سے ہونے والی غلطیوں کوبرداشت کرتی ہے، تاکہ اس کا گھر تباہ نہ ہو، ”نصیحت پر عمل کر نے والی بیوی “جب خاوند کی طرف سے جفا و زیادتی کو محسوس کرتی ہے تو اس کے اصل اسباب ومحرکات معلوم کرکے اس کو ختم کرنے کی سعی کرتی ہے۔ ”نصیحت پر عمل کر نے والی بیوی “ ایسی صورت میں اپنے خاوند کے پاس بیٹھ کر اس کے ساتھ مذاکرہ کرتی ہے اور ا سکی رضا جوئی اور راحت رسانی کی کوشش کرتی ہے۔
”نصیحت پر عمل کر نے والی بیوی“اصلاحِ حال کی مقدور بھرکو شش کرتی ہے۔
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :
﴿وان امراة خافت من بعلھا نشوزا اواعراضا فلا جناح علیھما ان یصلحا بینھما صلحاط والصلح خیر ط واحضرت الانفس الشح ط وان تحسنوا وتتقوا فان اللہ کان بما تعملون خبیرا ﴾(النساء:۱۲۸)
”اور اگر کسی عورت کو اپنے شوہر سے غالب احتمال بددماغی یا بے پرواہی کا ہو سودونوں کو اس امر میں کوئی گناہ نہیں کہ دونوں باہم ایک خاص طور پر صلح کر لیں اور یہ صلح بہتر ہے اور نفوس کو حرص کے ساتھ اقتران ہو تا ہے اور اگر تم اچھا برتاوٴ رکھو اور احتیاط رکھو تو بلاشبہ حق تعالیٰ تمہارے اعمال کی پوری خبر رکھتے ہیں ۔“
خاوند بھی جب اپنی بیوی کی طرف سے نفرت کا رویہ دیکھے تو اسے بھی صبر و ضبط سے کام لینا چاہئے ۔ کیونکہ عین ممکن ہے کہ اس کی یہ نفرت عارضی اور وقتی ہو ، جیسا کہ ارشاد عالی ہے:
فان کر ھتموھن فعسی ان تکر ھوا شیئاویجعل اللہ فیہ خیر اکثیرا۔“)(النساء :۱۹)
”اور اگر وہ تم کو ناپسند ہوں تو ممکن ہے کہ تم ایک شے کو نا پسند کرو اور اللہ تعالیٰ اس کے اندر کوئی بری منفعت رکھ دے۔::
لیکن اگر اختلاف کی علامات بدستور موجود ہوں اور باوجود کوشش کے کامیابی حاصل نہ ہو تو اس کا مطلب یہ نہیں ہوگا کہ فوری طور پر اس کو فیصلہ دے کر فارغ کردیا جائے ، بلکہ کوئی ایسا شخص دیکھنا چاہیے جوان دونوں کے درمیان صلح و صفائی کرادے ۔
جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :
﴿وان خفتم شقاق بینھما فابعثو ا حکما من اھلہ وحکمامن اھلھا ج ان یر ید ا اصلا حا یوفق اللہ بینھما ط ان اللہ کان علیما خبیرا﴾ ( النساء :۳۵)
”اوراگر تم اوپر والوں کو ان دونوں میاں بیوی میں کشاکش کا اندیشہ ہو تو تم لوگ ایک آدمی جو تصفیہ کرنے کی لیاقت رکھتا ہو مرد کے خاندان سے اور ایک آدمی جو تصفیہ کرنے کی لیاقت رکھتا ہو عورت کے خاندان سے بھجواوٴ ان دونوں کو اصلاح منظور ہوگی تو اللہ تعالیٰ ان میاں بیوی میں اتفاق پیدا فرمادیں گے بلاشبہ اللہ تعالیٰ بڑے علم اور بڑے خبروالے ہیں ۔“
اگر میاں بیوی میں صلح کرنے والے تمام ممکنہ ذرائع اور طرق بے کار ثابت ہوں تو پھرعلیٰحدگی کی صورت باقی رہ جاتی ہے ، جیسا کہ ارشاد ربانی ہے:
﴿ وان یتفر قا یغن اللہ کلا من سعتہ وکان اللہ واسعا حکیما﴾ (النساء :۱۳)
”اور اگر دونوں میاں بیوی جدا ہو جائیں تو اللہ تعالیٰ اپنی وسعت سے ہر ایک کو بے احتیاج کر دے گا اور اللہ تعالیٰ بڑی وسعت والے بڑی حکمت والے ہیں ۔ “
اے میری مسلمان بہن !
عام طور پر مشاہدہ یہ ہے کہ خاوند طیش میں آکر یا آتشِ غصب میں آکر یا نئی محبت کی خواہش میں مبتلا ہو کر بیوی کو طلا ق دیتا ہے۔
لیکن ”نصیحت پر عمل کر نے والی بیوی“اس بات کو فرامو ش یا پس پشت نہیں ڈالتی کہ اس کا خاوند اس کی خاطر طرح طرح کی مشقتیں اٹھا تا ہے اور اس کی راحت اور سکون کے لیے کوشاں رہتا ہے، اگر کسی وقت اس کی طرف سے کوئی خطایا لغزش سرزد ہوتی ہے تو وہ فوری طور پر علیٰحدگی کا مطالبہ نہیں کرتی ۔ اسی لیے حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حوا کی بیٹیوں کو اپنے شوہروں سے طلاق کا مطالبہ کرنے سے سختی سے منع کیا ہے اور اس پر شدید ترین و عید سنائی ہے، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :”جو عورت اپنے خاوند سے بلا کسی وجہ و حرج کے طلاق کا مطالبہ کرتی ہے اس پر جنت کی خوشبو بھی حرام ہوجاتی ہے۔“ (مسند احمد ۵/۲۷۷،ابو داود۲۲۲۶، والتر مذی۱۱۹۸۔
اس حدیث سے ہمیں یہ ہدایت ملتی ہے کہ جو عورت اپنے خاوند سے مطالبہ کرے کہ وہ اس کو طلاق دیدے حالانکہ کوئی ایسی شدید مجبوری نہیں ہے جو دونوں میں جدائی کا تقاضا کرتی ہو، جیسے اس عورت کو اس بات کا اندیشہ ہو کہ وہ اللہ کی حدود کی پاسداری نہیں کرسکے گی ، یعنی خاوند کے جو حقوق اس پر واجب ہیں کہ اس کے ساتھ حسن ِ معاشرت سے زندگی بسر کرے ، حسنِ سلوک سے پیش آئے اس کو ادا نہیں کر سکے گی یا خاوند اس کو خلع کرنے کے لیے پریشان کرتا ہو (ایسی کوئی صورت نہ ہو اور طلاق کا مطالبہ کرے) تو جنت کی خوشبو سے محروم ہو گی ۔
مذکورہ حدیث میں جو فرمایا گیا کہ ” جنت کی خوشبو اس پر حرام ہے۔“ یہ وعید و تہدید کے طور پر ہے یا اس کا مطلب یہ ہے کہ ایسی عورت جنت کی خوشبو ابتدائی درجہ میں نہ پائے گی جیسا کہ دوسرے جنتی پائیں گے یا پھر وہ عورت خوشبو کو بالکل نہ پائے گی اور یہ تہدید میں مبالغہ کے طور پر فرمایا گیا ہے۔ اس کی اور بھی بہت سی نظیریں موجود ہیں۔
اے میری مسلمان بہن !
اسلام کی نظر میں شادی سے مقصد ایک مربوط اور مستحکم خاندان کا وجود میں لانا ہے جس میں مودت و محبت کی حکمرانی ہو، وہ خاندان در حقیقت ایک چھوٹا سوشل ادارہ ہے جو اعلیٰ مقاصد کے حصول کے لیے کوشش کرتا ہے اگر شادی کا یہ مقصد حاصل نہ ہو رہا ہو خواہ میاں بیوی کی کوتاہی کو اس میں دخل ہو یا ان میں سے کوئی اپنی ذ مہ داری کو ادانہ کرتا ہو یا ہر ایک دوسرے کے حقوق سے انکار ی ہو تو پھر ان کے تعلق کو ختم کر دینا ہی ضروری ہو جاتا ہے ، اس لیے کہ اس تعلق کے قائم یا بر قرار رکھنے سے خاندان کی بنیاد قائم نہیں رہ سکتی بلکہ اس کی بنیادیں کھوکھلی ہوتی جائیں گی ، ایسے موقع پر اس امر کی ضرورت پید ا ہوجاتی ہے کہ خاندان کی بقاء و سلامتی کے لیے کوئی مناسب حل تجویز کیا جائے تاکہ طلاق کی نوبت ہی نہ آئے ، اس کی ذمہ داری مرد پر عائد ہوتی ہے، کیونکہ وہ خاندان کا سربراہ اور کشتی کا ربان (کپتان ) ہے، نان و نفقہ کی ساری ذمہ داری اسی پر ہے، مرد کے لیے کسی صورت میں اس بات کی گنجائش نہیں ہے کہ وہ طلاق کا حق بلا ضرورت استعمال کرے ، اس پر لازم ہے کہ وہ ضرورت کی حد میں رہتے ہوئے اس حق کا استعمال کرے ، اگر اس نے اپنے حق میں حدسے تجاوز کیا تو وہ ظالم اور گناہ گار شمار ہوگا اور ازروئے دیانت مسئول اور قابل ِ گرفت ہوگا۔ طلاق اللہ تعالیٰ کے نزدیک حلال چیزوں میں سب سے زیادہ ناپسند یدہ چیز ہے، ایک سچا مومن جو اسلامی احکام پر عمل کرنے والا ہو، وہ اپنے رب کی ناراضگی اور اس کے عذاب سے ڈرتا ہے ، اسلام نے عورت کو بھی خلع کی صورت میں ایک گونہ طلاق کا حق دیا ہے، اس کی صورت یہ ہوتی ہے کہ عورت اپنے شوہر کو کچھ رقم دے دے یا بعض چیزوں سے دستبردار ہو جائے اور خاوند اس کے بدلے میں اس کو طلاق دے دے ،
”نیک عورت “ اپنے دِل سے پوچھتی ہے اور غور کرتی ہے کہ آخر اس کے اور اس کے خاوند کے درمیان یہ فضا کیوں قائم ہوئی ہے؟ اس کا شوہر اس لغزش میں کیوں مبتلا ہوا؟ وہ اس کا جواب اور اس کے اسباب کا حتمی طور پر کھوج لگاتی ہے یوں ”نیک عورت “کی عشرت میں دوام واستمرار اور سیرت و کردار لائقِ تعریف و تحسین اور مقام و مرتبہ بلند و برتر ہوگا اور وہ کامیاب و باسعادت ازدواجی زندگی کے لیے ایک عمدہ نمونہ بنے گی۔
”نصیحت پر عمل کر نے والی بیوی“ زندگی میں پیش آنے والے مسئلہ کا دائمی اور پائیدار حل تلاش کرتی ہے، اس کے دل میں طلاق کے مطالبہ کا خیال تک نہیں آتا ،”نصیحت پر عمل کر نے والی بیوی “ ازدواجی زندگی کے دوام و بقاء کی ہر ممکن کوشش کرتی ہے، لڑائی و جھگڑے کو ختم کرنے کی حتی المقدور سعی وکاوش کرتی ہے۔ ”نصیحت پر عمل کر نے والی بیوی“ اپنی خاوند کی جفا و زیادتی پر صبر کرتی ہے اور اس کی طرف سے ہونے والی غلطیوں کوبرداشت کرتی ہے، تاکہ اس کا گھر تباہ نہ ہو، ”نصیحت پر عمل کر نے والی بیوی “جب خاوند کی طرف سے جفا و زیادتی کو محسوس کرتی ہے تو اس کے اصل اسباب ومحرکات معلوم کرکے اس کو ختم کرنے کی سعی کرتی ہے۔ ”نصیحت پر عمل کر نے والی بیوی “ ایسی صورت میں اپنے خاوند کے پاس بیٹھ کر اس کے ساتھ مذاکرہ کرتی ہے اور ا سکی رضا جوئی اور راحت رسانی کی کوشش کرتی ہے۔
”نصیحت پر عمل کر نے والی بیوی“اصلاحِ حال کی مقدور بھرکو شش کرتی ہے۔
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :
﴿وان امراة خافت من بعلھا نشوزا اواعراضا فلا جناح علیھما ان یصلحا بینھما صلحاط والصلح خیر ط واحضرت الانفس الشح ط وان تحسنوا وتتقوا فان اللہ کان بما تعملون خبیرا ﴾(النساء:۱۲۸)
”اور اگر کسی عورت کو اپنے شوہر سے غالب احتمال بددماغی یا بے پرواہی کا ہو سودونوں کو اس امر میں کوئی گناہ نہیں کہ دونوں باہم ایک خاص طور پر صلح کر لیں اور یہ صلح بہتر ہے اور نفوس کو حرص کے ساتھ اقتران ہو تا ہے اور اگر تم اچھا برتاوٴ رکھو اور احتیاط رکھو تو بلاشبہ حق تعالیٰ تمہارے اعمال کی پوری خبر رکھتے ہیں ۔“
خاوند بھی جب اپنی بیوی کی طرف سے نفرت کا رویہ دیکھے تو اسے بھی صبر و ضبط سے کام لینا چاہئے ۔ کیونکہ عین ممکن ہے کہ اس کی یہ نفرت عارضی اور وقتی ہو ، جیسا کہ ارشاد عالی ہے:
فان کر ھتموھن فعسی ان تکر ھوا شیئاویجعل اللہ فیہ خیر اکثیرا۔“)(النساء :۱۹)
”اور اگر وہ تم کو ناپسند ہوں تو ممکن ہے کہ تم ایک شے کو نا پسند کرو اور اللہ تعالیٰ اس کے اندر کوئی بری منفعت رکھ دے۔::
لیکن اگر اختلاف کی علامات بدستور موجود ہوں اور باوجود کوشش کے کامیابی حاصل نہ ہو تو اس کا مطلب یہ نہیں ہوگا کہ فوری طور پر اس کو فیصلہ دے کر فارغ کردیا جائے ، بلکہ کوئی ایسا شخص دیکھنا چاہیے جوان دونوں کے درمیان صلح و صفائی کرادے ۔
جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :
﴿وان خفتم شقاق بینھما فابعثو ا حکما من اھلہ وحکمامن اھلھا ج ان یر ید ا اصلا حا یوفق اللہ بینھما ط ان اللہ کان علیما خبیرا﴾ ( النساء :۳۵)
”اوراگر تم اوپر والوں کو ان دونوں میاں بیوی میں کشاکش کا اندیشہ ہو تو تم لوگ ایک آدمی جو تصفیہ کرنے کی لیاقت رکھتا ہو مرد کے خاندان سے اور ایک آدمی جو تصفیہ کرنے کی لیاقت رکھتا ہو عورت کے خاندان سے بھجواوٴ ان دونوں کو اصلاح منظور ہوگی تو اللہ تعالیٰ ان میاں بیوی میں اتفاق پیدا فرمادیں گے بلاشبہ اللہ تعالیٰ بڑے علم اور بڑے خبروالے ہیں ۔“
اگر میاں بیوی میں صلح کرنے والے تمام ممکنہ ذرائع اور طرق بے کار ثابت ہوں تو پھرعلیٰحدگی کی صورت باقی رہ جاتی ہے ، جیسا کہ ارشاد ربانی ہے:
﴿ وان یتفر قا یغن اللہ کلا من سعتہ وکان اللہ واسعا حکیما﴾ (النساء :۱۳)
”اور اگر دونوں میاں بیوی جدا ہو جائیں تو اللہ تعالیٰ اپنی وسعت سے ہر ایک کو بے احتیاج کر دے گا اور اللہ تعالیٰ بڑی وسعت والے بڑی حکمت والے ہیں ۔ “
اے میری مسلمان بہن !
عام طور پر مشاہدہ یہ ہے کہ خاوند طیش میں آکر یا آتشِ غصب میں آکر یا نئی محبت کی خواہش میں مبتلا ہو کر بیوی کو طلا ق دیتا ہے۔
لیکن ”نصیحت پر عمل کر نے والی بیوی“اس بات کو فرامو ش یا پس پشت نہیں ڈالتی کہ اس کا خاوند اس کی خاطر طرح طرح کی مشقتیں اٹھا تا ہے اور اس کی راحت اور سکون کے لیے کوشاں رہتا ہے، اگر کسی وقت اس کی طرف سے کوئی خطایا لغزش سرزد ہوتی ہے تو وہ فوری طور پر علیٰحدگی کا مطالبہ نہیں کرتی ۔ اسی لیے حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حوا کی بیٹیوں کو اپنے شوہروں سے طلاق کا مطالبہ کرنے سے سختی سے منع کیا ہے اور اس پر شدید ترین و عید سنائی ہے، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :”جو عورت اپنے خاوند سے بلا کسی وجہ و حرج کے طلاق کا مطالبہ کرتی ہے اس پر جنت کی خوشبو بھی حرام ہوجاتی ہے۔“ (مسند احمد ۵/۲۷۷،ابو داود۲۲۲۶، والتر مذی۱۱۹۸۔
اس حدیث سے ہمیں یہ ہدایت ملتی ہے کہ جو عورت اپنے خاوند سے مطالبہ کرے کہ وہ اس کو طلاق دیدے حالانکہ کوئی ایسی شدید مجبوری نہیں ہے جو دونوں میں جدائی کا تقاضا کرتی ہو، جیسے اس عورت کو اس بات کا اندیشہ ہو کہ وہ اللہ کی حدود کی پاسداری نہیں کرسکے گی ، یعنی خاوند کے جو حقوق اس پر واجب ہیں کہ اس کے ساتھ حسن ِ معاشرت سے زندگی بسر کرے ، حسنِ سلوک سے پیش آئے اس کو ادا نہیں کر سکے گی یا خاوند اس کو خلع کرنے کے لیے پریشان کرتا ہو (ایسی کوئی صورت نہ ہو اور طلاق کا مطالبہ کرے) تو جنت کی خوشبو سے محروم ہو گی ۔
مذکورہ حدیث میں جو فرمایا گیا کہ ” جنت کی خوشبو اس پر حرام ہے۔“ یہ وعید و تہدید کے طور پر ہے یا اس کا مطلب یہ ہے کہ ایسی عورت جنت کی خوشبو ابتدائی درجہ میں نہ پائے گی جیسا کہ دوسرے جنتی پائیں گے یا پھر وہ عورت خوشبو کو بالکل نہ پائے گی اور یہ تہدید میں مبالغہ کے طور پر فرمایا گیا ہے۔ اس کی اور بھی بہت سی نظیریں موجود ہیں۔
اے میری مسلمان بہن !
اسلام کی نظر میں شادی سے مقصد ایک مربوط اور مستحکم خاندان کا وجود میں لانا ہے جس میں مودت و محبت کی حکمرانی ہو، وہ خاندان در حقیقت ایک چھوٹا سوشل ادارہ ہے جو اعلیٰ مقاصد کے حصول کے لیے کوشش کرتا ہے اگر شادی کا یہ مقصد حاصل نہ ہو رہا ہو خواہ میاں بیوی کی کوتاہی کو اس میں دخل ہو یا ان میں سے کوئی اپنی ذ مہ داری کو ادانہ کرتا ہو یا ہر ایک دوسرے کے حقوق سے انکار ی ہو تو پھر ان کے تعلق کو ختم کر دینا ہی ضروری ہو جاتا ہے ، اس لیے کہ اس تعلق کے قائم یا بر قرار رکھنے سے خاندان کی بنیاد قائم نہیں رہ سکتی بلکہ اس کی بنیادیں کھوکھلی ہوتی جائیں گی ، ایسے موقع پر اس امر کی ضرورت پید ا ہوجاتی ہے کہ خاندان کی بقاء و سلامتی کے لیے کوئی مناسب حل تجویز کیا جائے تاکہ طلاق کی نوبت ہی نہ آئے ، اس کی ذمہ داری مرد پر عائد ہوتی ہے، کیونکہ وہ خاندان کا سربراہ اور کشتی کا ربان (کپتان ) ہے، نان و نفقہ کی ساری ذمہ داری اسی پر ہے، مرد کے لیے کسی صورت میں اس بات کی گنجائش نہیں ہے کہ وہ طلاق کا حق بلا ضرورت استعمال کرے ، اس پر لازم ہے کہ وہ ضرورت کی حد میں رہتے ہوئے اس حق کا استعمال کرے ، اگر اس نے اپنے حق میں حدسے تجاوز کیا تو وہ ظالم اور گناہ گار شمار ہوگا اور ازروئے دیانت مسئول اور قابل ِ گرفت ہوگا۔ طلاق اللہ تعالیٰ کے نزدیک حلال چیزوں میں سب سے زیادہ ناپسند یدہ چیز ہے، ایک سچا مومن جو اسلامی احکام پر عمل کرنے والا ہو، وہ اپنے رب کی ناراضگی اور اس کے عذاب سے ڈرتا ہے ، اسلام نے عورت کو بھی خلع کی صورت میں ایک گونہ طلاق کا حق دیا ہے، اس کی صورت یہ ہوتی ہے کہ عورت اپنے شوہر کو کچھ رقم دے دے یا بعض چیزوں سے دستبردار ہو جائے اور خاوند اس کے بدلے میں اس کو طلاق دے دے ،
”نیک عورت “ اپنے دِل سے پوچھتی ہے اور غور کرتی ہے کہ آخر اس کے اور اس کے خاوند کے درمیان یہ فضا کیوں قائم ہوئی ہے؟ اس کا شوہر اس لغزش میں کیوں مبتلا ہوا؟ وہ اس کا جواب اور اس کے اسباب کا حتمی طور پر کھوج لگاتی ہے یوں ”نیک عورت “کی عشرت میں دوام واستمرار اور سیرت و کردار لائقِ تعریف و تحسین اور مقام و مرتبہ بلند و برتر ہوگا اور وہ کامیاب و باسعادت ازدواجی زندگی کے لیے ایک عمدہ نمونہ بنے گی۔
Tuesday, April 1, 2014
بیوی کی بے عزّتی نہ کرنے کی نصیحت(برائے شوہر)۔
بیوی کی بے عزّتی نہ کرنے کی نصیحت
عام طور پر خاوند حضرات یہ کرلیتے ہیں کہ اپنی بیوی کی کسی غلطی پر اسے لوگوں کے سامنے روک ٹوک کرتے ہیں ۔ لوگوں کے سامنے اس کا مذاق اڑاتے ہیں ۔لوگوں کے سامنے بے عزت کے دیتے ہیں او ر ڈانٹ پلادیتے ہیں۔ اپنے طور پر تو وہ اچھے بن جاتے ہیں۔ دوسروں کوتأثر یہ مل جاتا ہے کہ دیکھو گھر میں میرا کتنا کنٹرول ہے بہن کے سامنے بیوی کو ڈانٹ پلادی ۔ ماں کے سامنے بیوی کو ڈانٹ دیا۔ اور ماں کی نظر میں بڑے اچھے بن گئے کہ ہاں ہمارا بیٹا تو گھر میں بہت کنٹرول رکھتا ہے ۔ بہن کہتی ہے کہ میرے بھائی کا تو گھر میں بہت کنٹرول ہے۔ یوں وہ اپنی ماں بہن کی نظر میں بڑے اچھے بن گئے مگر حقیقتاً اپنی بیوی کی نظر میں انہوں نے اپنے وقار کو صفر بنا دیا۔ اس لیے کہ ہر ایک کی اپنی عزت نفس ہوتی ہے۔ جب کسی کی عزت نفس کو مجروح کیا جاتا ہے تو پھر اس انسان کا دل ٹوٹ جاتا ہے اور یہ چیزگناہ میں شامل ہے ۔ اگر ایک چھوٹے بچے کو لوگوں کے سامنے ڈانٹ دیا جائے تو وہ رونا شروع کردیتا ہے کیونکہ اس کی عزت نفس مجروح ہوجاتی ہے۔ تو پھر عورت تو بالآخر بڑی ہوتی ہے، اس کوتو عزت نفس کی زیادہ پروا ہوتی ہے ۔ لہٰذا ااس کی عزت نفس کا خیال رکھنا چاہیے ۔ اس کو نصیحت کرنی ہے تو تنہائی میں کرو اور اگر تعریف کرنی ہے لوگوں کے سامنے کرو۔ اس نصیحت کو زندگی کا اصول بنالو تنہائی میں اگر بیوی کو جلی کٹی بھی سنادو گے بیوی بیچاری برداشت کرلے گی مگر لوگوں کے سامنے کی ذلت برداشت کرنا مشکل ہوتا ہے ۔ اس لئے یہ بات ذہن میں رکھیں کہ بیوی کو دوسروں کے سامنے کبھی بھی اس طرح تنقید کا نشانہ نہ بناوٴ ۔ وہ زندگی کی ساتھی ہے۔ تھوڑا وقت جو دونوں کو علیٰحد گی میں ملتا ہے اس میں ایک دوسرے کو سمجھا دو جو سمجھانا ہے لوگوں میں تم اس قسم کی باتیں نہ کرو۔
علماء نے لکھا ہے کہ بچہ جب تنہائی میں گرتا ہے اس کو زیادہ چوٹ لگتی ہے وہ نہیں روتا اور اٹھ کر کھڑا ہوجاتا ہے ۔ لیکن اگر لوگوں کے سامنے گر جائے ، اس سے آدھی چوٹ بھی لگے تو رونا شروع کر دیتاہے۔ اس لئے کہ لوگوں کے سامنے اس کی عزت نفس مجروح ہوئی ہے۔ وہ درد سے نہیں رورہا ہوتا عزت نفس مجروح ہونے کی وجہ سے رورہا ہوتا ہے ۔ لہٰذا کبھی انسان کسی کی عزت نفس کو مجروح نہ کرے ۔
عام طور پر خاوند حضرات یہ کرلیتے ہیں کہ اپنی بیوی کی کسی غلطی پر اسے لوگوں کے سامنے روک ٹوک کرتے ہیں ۔ لوگوں کے سامنے اس کا مذاق اڑاتے ہیں ۔لوگوں کے سامنے بے عزت کے دیتے ہیں او ر ڈانٹ پلادیتے ہیں۔ اپنے طور پر تو وہ اچھے بن جاتے ہیں۔ دوسروں کوتأثر یہ مل جاتا ہے کہ دیکھو گھر میں میرا کتنا کنٹرول ہے بہن کے سامنے بیوی کو ڈانٹ پلادی ۔ ماں کے سامنے بیوی کو ڈانٹ دیا۔ اور ماں کی نظر میں بڑے اچھے بن گئے کہ ہاں ہمارا بیٹا تو گھر میں بہت کنٹرول رکھتا ہے ۔ بہن کہتی ہے کہ میرے بھائی کا تو گھر میں بہت کنٹرول ہے۔ یوں وہ اپنی ماں بہن کی نظر میں بڑے اچھے بن گئے مگر حقیقتاً اپنی بیوی کی نظر میں انہوں نے اپنے وقار کو صفر بنا دیا۔ اس لیے کہ ہر ایک کی اپنی عزت نفس ہوتی ہے۔ جب کسی کی عزت نفس کو مجروح کیا جاتا ہے تو پھر اس انسان کا دل ٹوٹ جاتا ہے اور یہ چیزگناہ میں شامل ہے ۔ اگر ایک چھوٹے بچے کو لوگوں کے سامنے ڈانٹ دیا جائے تو وہ رونا شروع کردیتا ہے کیونکہ اس کی عزت نفس مجروح ہوجاتی ہے۔ تو پھر عورت تو بالآخر بڑی ہوتی ہے، اس کوتو عزت نفس کی زیادہ پروا ہوتی ہے ۔ لہٰذا ااس کی عزت نفس کا خیال رکھنا چاہیے ۔ اس کو نصیحت کرنی ہے تو تنہائی میں کرو اور اگر تعریف کرنی ہے لوگوں کے سامنے کرو۔ اس نصیحت کو زندگی کا اصول بنالو تنہائی میں اگر بیوی کو جلی کٹی بھی سنادو گے بیوی بیچاری برداشت کرلے گی مگر لوگوں کے سامنے کی ذلت برداشت کرنا مشکل ہوتا ہے ۔ اس لئے یہ بات ذہن میں رکھیں کہ بیوی کو دوسروں کے سامنے کبھی بھی اس طرح تنقید کا نشانہ نہ بناوٴ ۔ وہ زندگی کی ساتھی ہے۔ تھوڑا وقت جو دونوں کو علیٰحد گی میں ملتا ہے اس میں ایک دوسرے کو سمجھا دو جو سمجھانا ہے لوگوں میں تم اس قسم کی باتیں نہ کرو۔
علماء نے لکھا ہے کہ بچہ جب تنہائی میں گرتا ہے اس کو زیادہ چوٹ لگتی ہے وہ نہیں روتا اور اٹھ کر کھڑا ہوجاتا ہے ۔ لیکن اگر لوگوں کے سامنے گر جائے ، اس سے آدھی چوٹ بھی لگے تو رونا شروع کر دیتاہے۔ اس لئے کہ لوگوں کے سامنے اس کی عزت نفس مجروح ہوئی ہے۔ وہ درد سے نہیں رورہا ہوتا عزت نفس مجروح ہونے کی وجہ سے رورہا ہوتا ہے ۔ لہٰذا کبھی انسان کسی کی عزت نفس کو مجروح نہ کرے ۔
Subscribe to:
Posts (Atom)

