Sunday, April 29, 2012
Friday, April 27, 2012
شو ہر کے علا وہ کسی اور جگہ اپنے کپڑ ے نہ اُتارنے کی نصیحت
شو ہر کے علا وہ کسی اور جگہ اپنے کپڑ ے نہ اُتارنے کی نصیحت
حضرت عا ئشہ صد یقہ رضی اللہ عنہا فرما تی ہیں کہ رسو ل اکر م صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما یا : ” جس عورت نے اپنے شو ہر کے گھر کے علا وہ کسی اور جگہ پر اپنے کپڑ ے اتار ے اس نے اُس پر د ے کو جو اُ س کے اور اللہ کے درمیا ن میں ہے ، ہٹا د یا ۔ “
”کپڑ ے اتارنا “ اجنبیو ں کے سا منے پر دہ نہ کر نے سے کنا یہ ہے ۔ اور ” اپنے شو ہر کے گھر کے علا وہ کسی اور جگہ میں “ اور جگہ میں “ اس کا مفہو م یہ ہے کہ نصیحت پر عمل کر نے والی بیو ی اپنے شو ہر کے گھر ہی میں اپنے کپڑ ے اتار تی ہے یعنی اپنے گھر ہی میں اپنے پر د ے کو اٹھا تی ہے ، غیر و ں کے سا منے بے پر د ہ نہیں ہو تی ۔ اور ” اس نے اس پر د ے کو جو اس کے اور خد ا کے در میا ن میں ہے ہٹا دیا ۔ “ اس جملے کا مفہو م کیا ہے ؟ اس کے لیے کچھ وضا حت کی ضر ور ت ہے ۔
اے میر ی مسلما ن بہن !
اللہ تعالیٰ نے لبا س پہننے کا حکم اس لیے دیا تا کہ ہم اپنی شر م گا ہو ں کو اس کے ذریعہ ڈھا نپیں اور اللہ تعالیٰ اپنے حکم میں کلی طور پر مختار ہے ، جو چا ہتا ہے حکم دیتا ہے ، جب ایک بیو ی کو اپنے رب کا خو ف نہ ہو ، قا بلِ ستر حصوں کو غیر وں کے سا منے کھو ل دے ، اپنے شو ہر کے علا وہ کسی اور جگہ میں کپڑ ے اتاردے یعنی بے پر دہ ہو جا ئے تو اس عورت نے یقینا اس پر دے کو اٹھا دیا جو اس کے اور اس کے رب کے درمیان تھا ، عور ت کو سز ااس کے فعل کی طر ح ملی ، یعنی جیسا عمل ویسی سز ا ، اللہ تعالیٰ نے اس پر پڑ ے ہو ئے پردے کو ہٹا د یا یعنی اس کے فعل قبیح کی وجہ سے اس کو رسو ا کر دیا کہ اب اس عورت کو اس فضیحت ورسو ائی سے بچنے کے لیے کو ئی جگہ نہیں ملتی ۔
” نصیحت پر عمل کر نے والی بیو ی “ ایسی حقیر اور گھٹیا حر کت سے بہت دور ہو تی ہے ۔ ” نصیحت پر عمل کر نے والی بیو ی “ بڑ ی ذمہ دار ی او راما نت دار ی کے احسا س کے ساتھ اپنی زند گی بسر کر تی ہے ، اللہ تعالیٰ نے وہ اما نت آسما ن وز میں کو پیش کی مگر انہو ں نے اس اما نت کو اٹھا نے سے انکا ر کر دیا لیکن اس نیک عورت نے اس اما نت کو بر داشت کر نے کی ذمہ دار ی قبو ل کر لی ۔ ” نصیحت پر عمل کر نے والی بیو ی “ کی شا ن اس سے بر تر اور عا لی ہو تی ہے کہ وہ سٹر کو ں پر یا گھر و ں میں مخص سا ما نِ زینت بنے کہ لو گ اس کی طر ح دیکھیں “اور وہ ( عورت ) ان کی دلکشی کا ذریعہ بنے ۔
” نصیحت پکڑ نے والی بیو ی “ تو دنیا وآ خر ت کا بہتر ین سا ما ن اور قیمتی دو لت ہے ۔
حضرت عا ئشہ صد یقہ رضی اللہ عنہا فرما تی ہیں کہ رسو ل اکر م صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما یا : ” جس عورت نے اپنے شو ہر کے گھر کے علا وہ کسی اور جگہ پر اپنے کپڑ ے اتار ے اس نے اُس پر د ے کو جو اُ س کے اور اللہ کے درمیا ن میں ہے ، ہٹا د یا ۔ “
”کپڑ ے اتارنا “ اجنبیو ں کے سا منے پر دہ نہ کر نے سے کنا یہ ہے ۔ اور ” اپنے شو ہر کے گھر کے علا وہ کسی اور جگہ میں “ اور جگہ میں “ اس کا مفہو م یہ ہے کہ نصیحت پر عمل کر نے والی بیو ی اپنے شو ہر کے گھر ہی میں اپنے کپڑ ے اتار تی ہے یعنی اپنے گھر ہی میں اپنے پر د ے کو اٹھا تی ہے ، غیر و ں کے سا منے بے پر د ہ نہیں ہو تی ۔ اور ” اس نے اس پر د ے کو جو اس کے اور خد ا کے در میا ن میں ہے ہٹا دیا ۔ “ اس جملے کا مفہو م کیا ہے ؟ اس کے لیے کچھ وضا حت کی ضر ور ت ہے ۔
اے میر ی مسلما ن بہن !
اللہ تعالیٰ نے لبا س پہننے کا حکم اس لیے دیا تا کہ ہم اپنی شر م گا ہو ں کو اس کے ذریعہ ڈھا نپیں اور اللہ تعالیٰ اپنے حکم میں کلی طور پر مختار ہے ، جو چا ہتا ہے حکم دیتا ہے ، جب ایک بیو ی کو اپنے رب کا خو ف نہ ہو ، قا بلِ ستر حصوں کو غیر وں کے سا منے کھو ل دے ، اپنے شو ہر کے علا وہ کسی اور جگہ میں کپڑ ے اتاردے یعنی بے پر دہ ہو جا ئے تو اس عورت نے یقینا اس پر دے کو اٹھا دیا جو اس کے اور اس کے رب کے درمیان تھا ، عور ت کو سز ااس کے فعل کی طر ح ملی ، یعنی جیسا عمل ویسی سز ا ، اللہ تعالیٰ نے اس پر پڑ ے ہو ئے پردے کو ہٹا د یا یعنی اس کے فعل قبیح کی وجہ سے اس کو رسو ا کر دیا کہ اب اس عورت کو اس فضیحت ورسو ائی سے بچنے کے لیے کو ئی جگہ نہیں ملتی ۔
” نصیحت پر عمل کر نے والی بیو ی “ ایسی حقیر اور گھٹیا حر کت سے بہت دور ہو تی ہے ۔ ” نصیحت پر عمل کر نے والی بیو ی “ بڑ ی ذمہ دار ی او راما نت دار ی کے احسا س کے ساتھ اپنی زند گی بسر کر تی ہے ، اللہ تعالیٰ نے وہ اما نت آسما ن وز میں کو پیش کی مگر انہو ں نے اس اما نت کو اٹھا نے سے انکا ر کر دیا لیکن اس نیک عورت نے اس اما نت کو بر داشت کر نے کی ذمہ دار ی قبو ل کر لی ۔ ” نصیحت پر عمل کر نے والی بیو ی “ کی شا ن اس سے بر تر اور عا لی ہو تی ہے کہ وہ سٹر کو ں پر یا گھر و ں میں مخص سا ما نِ زینت بنے کہ لو گ اس کی طر ح دیکھیں “اور وہ ( عورت ) ان کی دلکشی کا ذریعہ بنے ۔
” نصیحت پکڑ نے والی بیو ی “ تو دنیا وآ خر ت کا بہتر ین سا ما ن اور قیمتی دو لت ہے ۔
Wednesday, April 25, 2012
”عورت ناقص العقل ہے“۔ (برائے شوہر)۔
”عورت ناقص العقل ہے“۔
مر د کا عورت پر درجہ بلند ہے اس لیے قدرتی طور پر وہ اس سے کمزور ہے۔ عورت کی بے وفائی ، واجب فرائض کی ادائیگی میں کو تاہی اور سستی اس کی قدر و منزلت کو ضائع کر دیتی ہیں، لیکن عادات و خصلتیں جو شوہر کو ناپسند ہیں عورت کو مارنے پیٹنے اور برابھلا کہنے کا جواز پیدا نہیں کرتیں۔ وہ محبت پیار سے اور تر غیب دے کر اس کی کمزوریوں کو دور کرنے کی کوشش کرے ۔ سستی او ر لاپرواہی کی عادتیں باربار کی پندونصائح سے دور ہو سکتی ہیں۔ شوہر کو چاہیے کہ عقل وخرد اور صبر سے کام لے اور حالات کی درستگی کی کوشش کرے۔
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کافرمان ہے:
”عورتوں کے بارے میں اللہ سے ڈرو۔ تمہارے سامنے بے دست وپاہیں ،(تمہاری حراست میں ) انہیں کسی چیز پر اختیار نہیں ہے تم نے انہیں اللہ کی امانت کے طور پر قبول کیا ہے اور تم نے ان کو اللہ کے الفاظ سے ازدواجی زندگی کے لیے اپنے اوپر حلال کیا ہے“۔
شوہر بیوی کو گالی دینے سے پہلے ایک لمحہ بھر کے لیے غور کرلے کہ وہ (بیوی) کس کی امانت ہے اور جب وہ عورت کے خلاف اپنے غم وغصہ کا اظہا ر کرنے کی کوشش دل میں لائے تو اس حقیقت کو بھی سامنے رکھے کہ اللہ تعالیٰ جس کی وہ امانت ہے اس سے بہت زیادہ طاقت رکھتا ہے ۔ اللہ تعالیٰ کے غضب و قہر سے بچ نکلنے کا کو ئی راستہ نہیں ۔
ایک نیک شوہر بہادر، بلند ہمت ، عالی دماغ ، اور دریا دل ہوتا ہے۔ اس کا اپنی بیوی کے ساتھ طرزعمل شریفانہ اور اعلیٰ ضبط و تحمل کا آئینہ دار ہوتا ہے۔
بیوی کو نظر اندازکرنا
ایک غلطی جو عموماً آج کل خاوند کرتے ہیں وہ یہ ہے کہ بیوی کو نظر انداز کرتے ہیں بیوی کو وقت نہیں دیتے ۔ یادرکھئے اپنی بیوی کو نظر انداز کرنا بہت بڑی غلطی ہے۔ اس کے بارے میں کتنی ہی حکایتیں اور داستانیں معاشرے میں ملتی ہیں ۔ خاوند یہ سمجھتا ہے کہ یہ تو اب ہے ہی بیوی اب اس کو توجہ دینے کی یا محبت دینے کی کیا ضرورت ہے۔
لطیفہ مشہور ہے کہ خاوند بیٹھا کئی گھنٹوں سے کتاب کا مطالعہ کر رہا تھا ۔ بیوی بیچاری آگے پیچھے طواف کرتی پھر رہی تھی کہ کبھی تو ہماری طرف بھی محبت کی نظر اٹھا کر دیکھیں گے ۔ مگر خاوند کو کام سے فرصت نہیں تھی ۔ چنانچہ جب اس نے دیکھا کہ اب تو سونے کا وقت بالکل ہی قریب آگیا اور اس کی تو آنکھیں ہی بند ہورہی ہیں تو بیوی قریب آئی اور آکر کہنے لگی کاش میں بھی کوئی کتاب ہوتی ۔ اتنے گھنٹے آپ مجھے بھی بیٹھ کر دیکھتے رہتے ۔ اب خاوند نے بیوی کی طرف دیکھا اور کہنے لگا ہاں تمہیں تو کوئی ڈائری ہونا چاہیے تھا تاکہ ہر سال میں ڈائری کو بدل لیا کرتا۔
اگر خاوند کی سوچ ایسی ہوگی تو سوچئے کہ بیوی کو کہاں سکون ملے گا۔ خاوند اگر دوسروں کے ساتھ محبت و پیار سے باتیں کرتا ہے تو بیوی تو ان سے بھی زیادہ پیار کی مستحق ہے۔ اس کی طرف بھی توجہ دینی چاہیے اور اس سے بھی محبت کی باتیں کرنی چاہئیں ۔ بلکہ ایک کافر نے اپنے ماحول کے اعتبار سے یہ بات کہی کہ ”جس پیار کی نظر سے خاوند اپنے ہمسائے کی لڑکی کی طرف دیکھ لیتا ہے اگر اس نظر سے ایک بار اپنی بیوی کو دیکھ لے تو اس کا گھر کبھی برباد نہ ہو“۔خاوند کو چاہیے کہ اپنی بیوی کو بھر پور توجہ دے۔ اس کو محسوس کروائے کہ میرے نزدیک تم بہت کچھ ہو اور میرے دل میں تمہارا بڑا مقام ہے۔ اس طرح بیوی کو تسکین مل جاتی ہے۔
مر د کا عورت پر درجہ بلند ہے اس لیے قدرتی طور پر وہ اس سے کمزور ہے۔ عورت کی بے وفائی ، واجب فرائض کی ادائیگی میں کو تاہی اور سستی اس کی قدر و منزلت کو ضائع کر دیتی ہیں، لیکن عادات و خصلتیں جو شوہر کو ناپسند ہیں عورت کو مارنے پیٹنے اور برابھلا کہنے کا جواز پیدا نہیں کرتیں۔ وہ محبت پیار سے اور تر غیب دے کر اس کی کمزوریوں کو دور کرنے کی کوشش کرے ۔ سستی او ر لاپرواہی کی عادتیں باربار کی پندونصائح سے دور ہو سکتی ہیں۔ شوہر کو چاہیے کہ عقل وخرد اور صبر سے کام لے اور حالات کی درستگی کی کوشش کرے۔
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کافرمان ہے:
”عورتوں کے بارے میں اللہ سے ڈرو۔ تمہارے سامنے بے دست وپاہیں ،(تمہاری حراست میں ) انہیں کسی چیز پر اختیار نہیں ہے تم نے انہیں اللہ کی امانت کے طور پر قبول کیا ہے اور تم نے ان کو اللہ کے الفاظ سے ازدواجی زندگی کے لیے اپنے اوپر حلال کیا ہے“۔
شوہر بیوی کو گالی دینے سے پہلے ایک لمحہ بھر کے لیے غور کرلے کہ وہ (بیوی) کس کی امانت ہے اور جب وہ عورت کے خلاف اپنے غم وغصہ کا اظہا ر کرنے کی کوشش دل میں لائے تو اس حقیقت کو بھی سامنے رکھے کہ اللہ تعالیٰ جس کی وہ امانت ہے اس سے بہت زیادہ طاقت رکھتا ہے ۔ اللہ تعالیٰ کے غضب و قہر سے بچ نکلنے کا کو ئی راستہ نہیں ۔
ایک نیک شوہر بہادر، بلند ہمت ، عالی دماغ ، اور دریا دل ہوتا ہے۔ اس کا اپنی بیوی کے ساتھ طرزعمل شریفانہ اور اعلیٰ ضبط و تحمل کا آئینہ دار ہوتا ہے۔
بیوی کو نظر اندازکرنا
ایک غلطی جو عموماً آج کل خاوند کرتے ہیں وہ یہ ہے کہ بیوی کو نظر انداز کرتے ہیں بیوی کو وقت نہیں دیتے ۔ یادرکھئے اپنی بیوی کو نظر انداز کرنا بہت بڑی غلطی ہے۔ اس کے بارے میں کتنی ہی حکایتیں اور داستانیں معاشرے میں ملتی ہیں ۔ خاوند یہ سمجھتا ہے کہ یہ تو اب ہے ہی بیوی اب اس کو توجہ دینے کی یا محبت دینے کی کیا ضرورت ہے۔
لطیفہ مشہور ہے کہ خاوند بیٹھا کئی گھنٹوں سے کتاب کا مطالعہ کر رہا تھا ۔ بیوی بیچاری آگے پیچھے طواف کرتی پھر رہی تھی کہ کبھی تو ہماری طرف بھی محبت کی نظر اٹھا کر دیکھیں گے ۔ مگر خاوند کو کام سے فرصت نہیں تھی ۔ چنانچہ جب اس نے دیکھا کہ اب تو سونے کا وقت بالکل ہی قریب آگیا اور اس کی تو آنکھیں ہی بند ہورہی ہیں تو بیوی قریب آئی اور آکر کہنے لگی کاش میں بھی کوئی کتاب ہوتی ۔ اتنے گھنٹے آپ مجھے بھی بیٹھ کر دیکھتے رہتے ۔ اب خاوند نے بیوی کی طرف دیکھا اور کہنے لگا ہاں تمہیں تو کوئی ڈائری ہونا چاہیے تھا تاکہ ہر سال میں ڈائری کو بدل لیا کرتا۔
اگر خاوند کی سوچ ایسی ہوگی تو سوچئے کہ بیوی کو کہاں سکون ملے گا۔ خاوند اگر دوسروں کے ساتھ محبت و پیار سے باتیں کرتا ہے تو بیوی تو ان سے بھی زیادہ پیار کی مستحق ہے۔ اس کی طرف بھی توجہ دینی چاہیے اور اس سے بھی محبت کی باتیں کرنی چاہئیں ۔ بلکہ ایک کافر نے اپنے ماحول کے اعتبار سے یہ بات کہی کہ ”جس پیار کی نظر سے خاوند اپنے ہمسائے کی لڑکی کی طرف دیکھ لیتا ہے اگر اس نظر سے ایک بار اپنی بیوی کو دیکھ لے تو اس کا گھر کبھی برباد نہ ہو“۔خاوند کو چاہیے کہ اپنی بیوی کو بھر پور توجہ دے۔ اس کو محسوس کروائے کہ میرے نزدیک تم بہت کچھ ہو اور میرے دل میں تمہارا بڑا مقام ہے۔ اس طرح بیوی کو تسکین مل جاتی ہے۔
Tuesday, April 24, 2012
Sunday, April 22, 2012
Friday, April 20, 2012
شوہر کے لیے بناوٴ سنگھار کی نصیحت
شوہر کے لیے بناوٴ سنگھار کی نصیحت
آجکل کی آزادی پسند مسلم خواتین نے کفار کے برے اطوار میں سے یہ طور بھی اپنا لیا ہے کہ غیروں کے سامنے بناوٴ سنگھار کرکے آتی ہیں اور اپنی لوچدار آوازسے ان کے دلوں کو گرماتی ہیں جبکہ اسلام کا یہ حکم ہے کہ مسلم بیوی بناوٴ سنگھار صرف اپنے شوہر کے لئے کرے۔
دیکھنے میں آیا ہے کہ گھر میں تو عورت برے حالوں میں رہتی ہے اور جب گھر سے باہر نکلتی ہے تو بن ٹھن کر۔ اسے اس امر کا ذرا احسا س نہیں ہوتا کہ شوہر کے سامنے نہ تو کنگھی پٹی، نہ کپڑوں کی صفائی ستھرائی اور نہ گفتگو میں نرمی اور لوچ لیکن جو نہی باہر نکلی تو کپڑوں کا بھی اہتمام ۔ چال اور گفتگو میں بھی شگفتگی ۔ یہ سب کچھ کس کے لئے؟ کیا غیروں کے لئے؟ باہر تو نا محرم ہی ہونگے جو للچائی ہوئی نگاہوں سے اس کی خوبصورتی کو جسے بناوٴ سنگھار نے چار چاند لگادیئے ہونگے ،دیکھیں گے ، جو منہ پھٹ ہو نگے وہ تو سرعام ہی اس کی تعریف میں رطب اللسان ہو جائیں گے اور دوسرے دل ہی دل میں اس کی خوبصورتی پر مرمٹنے کے لئے تیار ۔
سورة النور ۳۱ میں اس کی صاف طور پر ممانعت کردی گئی ہے۔
﴿ولا یبدین زینتھن الاما ظھر منھا ولیضربن بخمر ھن علی جیوبھن ولا یبدین زینتھن الا لبعو لتھن او ابائھن اواباء بعولتھن اوابنائھن اوابناء بعولتھن اواخوانھن اوبنی اخوانھن اوبنی اخواتھن اونسائھن اوماملکت ایمانھن اوالتبعین غیراولی الا ربة من الرجال اوالطفل الذین لم یظھر واعلی عورت النساء﴾ (النور۳۱)
”اپنی زینت نہ دکھائیں اس کے سوا جو از خود ظاہر ہوجائے اور اپنے سینے پر اپنی اوڑھنیوں کے آنچل ڈال لیا کریں اور اپنی زینت نہ ظاہر کریں مگر ان لوگوں کے سامنے شوہر، باپ ،شوہر کے باپ، اپنے بیٹے ،شوہروں کے بیٹے ،بھائی، بھائیوں کے بیٹے، بہنوں کے بیٹے ، اپنے دین کی عورتیں ، اپنی کنیزیں اوروہ زیر دست مرد جو کسی قسم کی غرض نہ رکھتے ہوں اور وہ بچے جو عورتوں کی پوشیدہ باتوں سے ابھی واقف نہ ہوئے ہوں ۔ “
عورت سے اس معاملے میں اب تک جو لغزش ، غلطی او ر کوتاہی ہو تی رہی ہے اس سے توبہ کرے اور آیندہ کے لیے اپنے طرزِ عمل کی اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدایات کے مطابق اصلاح کرلے۔
عورت پر واجب ہے کہ اپنے شوہر کے سامنے بن سنور کر رہے۔ اس کے لئے یہ قطعی حرام ہے کہ غیر وں کو اپنی سج دھج دکھائے ، ایسی عورت جو نامحرموں کے لئے سجاوٹ کرتی ہے اسلام کی نظر میں قابل ملامت ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا موازنہ قیامت کے دن کی تاریکی سے کیا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ ایسی عورت بغیر کسی نور کے ہوگی ۔ ایک اور حدیث میں ہے:
(ایماامراة استعطرت فمرت علی قوم لیجد وا من ریحھا فھی زانیة (بہ روایت اشعری ۔ نسائی)
”جو عورت خوشبو لگاکر لوگوں کے پاس سے گزرتی ہے اس کی مثال ایک زانیہ کی سی ہے۔“
عورت کے لئے ضروری ہے کہ صفائی ، سلیقہ اور آرائش و زیبائش کا پورا پورا اہتمام کرے ۔ گھر کو بھی صاف ستھرا رکھے اور ہر چیز کو سلیقے سے سجائے اور سلیقے سے استعمال کرے ۔ صاف ستھرا گھر ، قرینے سے سجے ہوئے صاف ستھرے کمرے ، گھریلو کاموں میں سلیقہ اور سگھڑپن اور بناوٴ سنگھار کی ہوئی بیوی کی پاکیزہ مسکراہٹ سے نہ صرف گھریلو زندگی پیار و محبت اور خیرو برکت سے مالامال ہوتی ہے بلکہ ایک بیوی کے لئے اپنی عاقبت سنوارنے اور اللہ کو خوش کرنے کا بھی یہی ذریعہ ہے۔
ایک بار زوجہ عثمان ابن مطعون رضی اللہ عنہ سے حضرت عا ئشہ رضی اللہ عنہا کی ملاقات ہوئی تو آپ نے دیکھا کہ بیگم عثمان نہایت سادہ کپڑوں میں ہیں اور کوئی بناوٴ سنگھار بھی نہیں کیا ہے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو بہت تعجب ہو ا اور ان سے پوچھا:
”بی بی ! کیاعثمان کہیں باہر سفرپر گئے ہوئے ہیں ۔“
اس تعجب سے اندازہ کیجئے کہ سہاگنوں کا اپنے شوہروں کے لئے بناوٴ سنگھار کرناکیسا پسندیدہ فعل ہے ۔ ایک صحابیہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں ۔ وہ اپنے ہاتھوں میں سونے کے کنگن پہنے ہوئے تھیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کوپہننے سے منع فرمایا تو کہنے لگیں ”یارسول اللہ !( صلی اللہ علیہ وسلم )اگر عورت شوہر کے لئے بناوٴ سنگھارنہ کرے گی تو اس کی نظروں سے گر جائے گی (نسائی )
بیوی پر شوہر کے حقوق میں سے ایک یہ بھی ہے کہ وہ اس کی خاطربن سنور کررہے ۔ اسلام نے مرد کویہ حق دیا ہے کہ وہ اپنی بیوی کو مجبور کرے کہ وہ اس کے لئے بناوٴ سنگھار کرے ۔ شریعت کے اس دستور کا اسلامی قوانین پر ایک مشہور اور مستند کتاب میں ذکر ہے۔ کبیری میں لکھاہے:
”مرد کو یہ حق حاصل ہے کہ بیوی کو مارے اگر وہ خود کونہ بنائے سنوارے جب مرد ایسا چا ہے۔“
آجکل کی آزادی پسند مسلم خواتین نے کفار کے برے اطوار میں سے یہ طور بھی اپنا لیا ہے کہ غیروں کے سامنے بناوٴ سنگھار کرکے آتی ہیں اور اپنی لوچدار آوازسے ان کے دلوں کو گرماتی ہیں جبکہ اسلام کا یہ حکم ہے کہ مسلم بیوی بناوٴ سنگھار صرف اپنے شوہر کے لئے کرے۔
دیکھنے میں آیا ہے کہ گھر میں تو عورت برے حالوں میں رہتی ہے اور جب گھر سے باہر نکلتی ہے تو بن ٹھن کر۔ اسے اس امر کا ذرا احسا س نہیں ہوتا کہ شوہر کے سامنے نہ تو کنگھی پٹی، نہ کپڑوں کی صفائی ستھرائی اور نہ گفتگو میں نرمی اور لوچ لیکن جو نہی باہر نکلی تو کپڑوں کا بھی اہتمام ۔ چال اور گفتگو میں بھی شگفتگی ۔ یہ سب کچھ کس کے لئے؟ کیا غیروں کے لئے؟ باہر تو نا محرم ہی ہونگے جو للچائی ہوئی نگاہوں سے اس کی خوبصورتی کو جسے بناوٴ سنگھار نے چار چاند لگادیئے ہونگے ،دیکھیں گے ، جو منہ پھٹ ہو نگے وہ تو سرعام ہی اس کی تعریف میں رطب اللسان ہو جائیں گے اور دوسرے دل ہی دل میں اس کی خوبصورتی پر مرمٹنے کے لئے تیار ۔
سورة النور ۳۱ میں اس کی صاف طور پر ممانعت کردی گئی ہے۔
﴿ولا یبدین زینتھن الاما ظھر منھا ولیضربن بخمر ھن علی جیوبھن ولا یبدین زینتھن الا لبعو لتھن او ابائھن اواباء بعولتھن اوابنائھن اوابناء بعولتھن اواخوانھن اوبنی اخوانھن اوبنی اخواتھن اونسائھن اوماملکت ایمانھن اوالتبعین غیراولی الا ربة من الرجال اوالطفل الذین لم یظھر واعلی عورت النساء﴾ (النور۳۱)
”اپنی زینت نہ دکھائیں اس کے سوا جو از خود ظاہر ہوجائے اور اپنے سینے پر اپنی اوڑھنیوں کے آنچل ڈال لیا کریں اور اپنی زینت نہ ظاہر کریں مگر ان لوگوں کے سامنے شوہر، باپ ،شوہر کے باپ، اپنے بیٹے ،شوہروں کے بیٹے ،بھائی، بھائیوں کے بیٹے، بہنوں کے بیٹے ، اپنے دین کی عورتیں ، اپنی کنیزیں اوروہ زیر دست مرد جو کسی قسم کی غرض نہ رکھتے ہوں اور وہ بچے جو عورتوں کی پوشیدہ باتوں سے ابھی واقف نہ ہوئے ہوں ۔ “
عورت سے اس معاملے میں اب تک جو لغزش ، غلطی او ر کوتاہی ہو تی رہی ہے اس سے توبہ کرے اور آیندہ کے لیے اپنے طرزِ عمل کی اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدایات کے مطابق اصلاح کرلے۔
عورت پر واجب ہے کہ اپنے شوہر کے سامنے بن سنور کر رہے۔ اس کے لئے یہ قطعی حرام ہے کہ غیر وں کو اپنی سج دھج دکھائے ، ایسی عورت جو نامحرموں کے لئے سجاوٹ کرتی ہے اسلام کی نظر میں قابل ملامت ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا موازنہ قیامت کے دن کی تاریکی سے کیا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ ایسی عورت بغیر کسی نور کے ہوگی ۔ ایک اور حدیث میں ہے:
(ایماامراة استعطرت فمرت علی قوم لیجد وا من ریحھا فھی زانیة (بہ روایت اشعری ۔ نسائی)
”جو عورت خوشبو لگاکر لوگوں کے پاس سے گزرتی ہے اس کی مثال ایک زانیہ کی سی ہے۔“
عورت کے لئے ضروری ہے کہ صفائی ، سلیقہ اور آرائش و زیبائش کا پورا پورا اہتمام کرے ۔ گھر کو بھی صاف ستھرا رکھے اور ہر چیز کو سلیقے سے سجائے اور سلیقے سے استعمال کرے ۔ صاف ستھرا گھر ، قرینے سے سجے ہوئے صاف ستھرے کمرے ، گھریلو کاموں میں سلیقہ اور سگھڑپن اور بناوٴ سنگھار کی ہوئی بیوی کی پاکیزہ مسکراہٹ سے نہ صرف گھریلو زندگی پیار و محبت اور خیرو برکت سے مالامال ہوتی ہے بلکہ ایک بیوی کے لئے اپنی عاقبت سنوارنے اور اللہ کو خوش کرنے کا بھی یہی ذریعہ ہے۔
ایک بار زوجہ عثمان ابن مطعون رضی اللہ عنہ سے حضرت عا ئشہ رضی اللہ عنہا کی ملاقات ہوئی تو آپ نے دیکھا کہ بیگم عثمان نہایت سادہ کپڑوں میں ہیں اور کوئی بناوٴ سنگھار بھی نہیں کیا ہے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو بہت تعجب ہو ا اور ان سے پوچھا:
”بی بی ! کیاعثمان کہیں باہر سفرپر گئے ہوئے ہیں ۔“
اس تعجب سے اندازہ کیجئے کہ سہاگنوں کا اپنے شوہروں کے لئے بناوٴ سنگھار کرناکیسا پسندیدہ فعل ہے ۔ ایک صحابیہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں ۔ وہ اپنے ہاتھوں میں سونے کے کنگن پہنے ہوئے تھیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کوپہننے سے منع فرمایا تو کہنے لگیں ”یارسول اللہ !( صلی اللہ علیہ وسلم )اگر عورت شوہر کے لئے بناوٴ سنگھارنہ کرے گی تو اس کی نظروں سے گر جائے گی (نسائی )
بیوی پر شوہر کے حقوق میں سے ایک یہ بھی ہے کہ وہ اس کی خاطربن سنور کررہے ۔ اسلام نے مرد کویہ حق دیا ہے کہ وہ اپنی بیوی کو مجبور کرے کہ وہ اس کے لئے بناوٴ سنگھار کرے ۔ شریعت کے اس دستور کا اسلامی قوانین پر ایک مشہور اور مستند کتاب میں ذکر ہے۔ کبیری میں لکھاہے:
”مرد کو یہ حق حاصل ہے کہ بیوی کو مارے اگر وہ خود کونہ بنائے سنوارے جب مرد ایسا چا ہے۔“
Wednesday, April 18, 2012
شوہر کو سر زنش کے اختیار میں نصیحت (برائے شوہر)۔
شوہر کو سر زنش کے اختیار میں نصیحت
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (وعاشر وھن بالمعروف)”اور ان کے ساتھ بھلے طریقے سے زندگی گزارو“
اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حجة الوداع کے موقع پر ایک بڑے اجتماع کو خطاب کرتے ہوئے ہدایت فرمائی :
الاواستو صوا بالنساء خیر ا فانما ھن عوان عند کم لیس تملکون منھن شیئا غیر ذلک الا ان یاتین بفا حشة مبینتہ فان فعلن فاھجروھن فی المضاجع واضربوھن ضربا غیر مبرح فان اطعنکم فلا تبغوا علیھن سبیلا الا ان لکم علی نسائکم حقا ولنسائکم علیکم حقا فحقکم علیھن ان لا یوطئن فرشکم من تکرھون ولا یاذن فی بیوتکم لمن تکرھون الا وحقھن علیکم ان تحسنوا الیھن فی کسوتھن وطعامھن (سنن الترمذی ۔ باب ۷۸۹ماجاء فی حق المراة علی زوجھا، روایت عمرو )
”لوگو! سنو! عورتوں کے ساتھ اچھے سلوک سے پیش آوٴ کیونکہ وہ تمہارے پاس قیدیوں کی طرح ہیں ۔ تمہیں ان کے ساتھ سختی کا برتاوٴ کرنے کا کوئی حق نہیں۔ سوائے اس صورت کے جب ان کی طرف سے کھلی ہو ئی نافرمانی سامنے آئے ۔ اگر وہ ایسا کر بیٹھیں تو پھر خواب گاہوں میں ان سے علیٰحدہ رہو اور انہیں ماروتو ایسا نہ مارنا کہ کوئی شدید چوٹ آئے ۔ اورپھر جب وہ تمہارے کہنے پر چلنے لگیں تو ان کو خواہ مخواہ ستانے کے بہانے نہ ڈھونڈو ۔ دیکھو سنو! تمہارے کچھ حقوق تمہاری بیویوں پر ہیں اور تمہاری بیویوں کے کچھ حقوق تمہارے اوپر ہیں۔ ان پر تمہارا حق یہ ہے کہ وہ تمہارے بستر وں کو ان لوگوں سے نہ روندوائیں جن کو تم ناپسند کرتے ہواور تمہارے گھروں میں ایسے لوگوں کو ہرگز نہ گھسنے دیں جن کا آنا تمہیں ناگوار ہو اور سنو ان کا تم پر یہ حق ہے کہ تم انہیں اچھا کھلاوٴ اور اچھا پہناوٴ۔
حکیم ابن معاویہ رضی اللہ عنہ اپنے باپ معاویہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں ۔ انہوں ( معاویہ رضی اللہ عنہ )نے کہا میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا ۔
ماحق زوجة احد نا علیہ ؟ قال ان تطعمہا اذاطعمت وتکسو ھااذا(اکتسیت) ولا تضرب الوجہ ولاتقبح ولا تہجرالافی البیت ) ( ابو داوٴد)
”کسی شخص کی بیوی کا اس کے شوہر پر کیا حق ہے؟“
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اس کا حق یہ ہے کہ جب تو کھائے تو اسے کھلائے اور جب تو پہنے تو اسے پہنائے اور اس کے چہرہ پر نہ مارے ، اور اس کو بد دعا کے الفاظ نہ کہے ، اور اگر اس سے ترک تعلق کرے تو صرف گھر میں کرے“
آخری جملے کا مطلب یہ ہے کہ اگر بیوی کی طرف سے نافرمانی اور شرارت ظاہر ہو تو قرآن کی ہدایت کے مطابق پہلے اس کو نر می سے سمجھا ئے ۔ اگر اس سے بھی وہ ٹھیک نہ ہو تو گھر میں اپنا بستر الگ کرلے اور بات باہر نہ پہنچنے دے کیونکہ یہ شرافت کے خلاف ہے۔ اس سے بھی اگر ٹھیک نہ ہو تو پھر اس کو ماراجاسکتا ہے ۔لیکن چہرہ پر نہیں بلکہ دوسرے حصہ جسم پر اور اس میں بھی یہ ہدایت ہے کہ ہڈی کو توڑ دینے والی یا زخمی کر دینے والی مار نہ ماری جائے۔ مار کا مقصد بیوی کو زخمی کرنا بلکہ حالات کے بگاڑ کا احساس دلانا ہے ۔اگر بیوی کی کسی غلطی یا کمزوری کی وجہ سے شوہر خفا ہے تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ فوراً مار کٹائی شروع کردے یا گھر چھوڑ کر باہر جاسوئے ۔بعض شوہر غصے میں بکتے جھکتے گھر سے نکل جاتے ہیں اور اپنی دانست میں بیوی کو سزا دینے کے لیے کہیں اور جاسوتے ہیں اور اس طرح کی بات گلی کوچے کوچے عام ہوجاتی ہے۔
بیوی کو تنبیہ کرتے وقت اسے بیوی کو گالی دینے، اس کی بے عزتی کرنے اور اخلاق سے گری ہوئی زبان استعمال کرنے کی قطعاً اجازت نہیں ۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے۔ کہ ”بیوی کو نہ مارو اور نہ گالی دو۔“ ایک دوسرے موقع پرآ پ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (سباب المسلم فسوق و قتالہ کفر)
(صحیح بخاری ، کتاب الایمان بہ روایت ابن مسعود رضی اللہ عنہ صحیح مسلم کتاب الایمان )
”ایک مسلمان کو گالی دینا غیر اخلاقی فعل ہے اور اس سے لڑنا کفر کا کام ہے“۔
یہ حدیث ہر مسلمان کے لیے ہے اس میں کسی خاص و عام کی تخصیص نہیں ۔ لیکن دیکھا گیا ہے کہ بعض شوہر بیوی کو حقیر سمجھ کر خواہ مخواہ اسے گالی دینا اور معمولی معمولی باتوں پر مارنا پیٹنا اپنا حق سمجھتے ہیں۔شوہر جہاں تک دوسرے مردوں کا تعلق ہے اس حدیث کو صحیح جان کر عمل پیرا ہوتا ہے مگر خود کو اعلیٰ مخلوق سمجھتے ہوئے بیوی کے ساتھ بدسلوکی کو اپنا پیدائشی حق سمجھتا ہے۔ حقیقت اس کے برعکس ہے۔ اس حدیث کا تعلق زیادہ تر زن شوہر سے ہے۔ مزید براں بیوی کی حیثیت ایک مسلمان کی بھی ہے اور و ہ اللہ کے نام سے اس کے ساتھ وابستہ ہوئی ہے وہ ا س کی حفاظت اور زیر کفالت میں بطور امانت ، نکاح کے متبرک بندھن سے بندھ کرآئی ہے۔ اس لیے شوہر پر واجب ہے کہ اس کی عزت و تو قیر کرے۔
شوہر کو یہ امر یاد رکھنا چاہیے کہ بیوی اس کے پاس بطور امانت ہے جو اسے اللہ کے نام پر سپرد کی گئی ہے ۔ وہ اس سے اچھا برا، جیسا چاہے سلوک نہیں کر سکتا ۔
ایک شوہر جب بیوی کے ساتھ گالی گلوچ کرتا ہے اور بازاری زبان استعمال کرتا ہے تو اسے علم ہونا چاہیے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کا مرتکب ہو رہا ہے۔ وہ بیوی کو بیاہ کر اپنے گھر لاتا ہے اور وہ اللہ کے نام سے اس کے رحم و کرم پر اس کے حوالے کی گئی ہے۔ اللہ کی امانت کی کسی طور پر تذلیل نہیں ہونی چاہیے اور نہ ہی اس سے برا سلوک، کیا ایسا کرکے وہ اللہ تعالیٰ کی ناشکرگزاری کا مرتکب نہیں ٹھہرایا جائے گا؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:
الدنیا کلھا متاع وخیر متاع الدنیا المراة الصالحة (بہ روایت حضرت عبد اللہ بن عمر وابن عاص ، صحیح مسلم)
”دنیا کل کی کل برتنے کی چیز ہے اور اس دنیا کی بہترین متاع نیک عورت (بیوی)ہے“۔
حضرت ابو ہریر ہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”کامل ایمان والاوہ ہے جو اخلاق میں اچھا ہو اور تم سے بہترین وہ لوگ ہیں جو اپنی عورتوں کے حق میں بہترین ہوں“۔
شوہر کو چاہیے کہ عفوو درگزر کی روش اختیار کرے اور بیوی کی کوتاہیوں ، نادانیوں اور سرکشیوں سے چشم پوشی کرے ۔عورت عقل و خر د کے اعتبار سے کمزور اور نہایت ہی جذباتی ہوتی ہے۔ صبر و سکون رحمت و شفقت اور دلسوزی کے ساتھ اس کو سدھارنے کی کوشش کرے اور صبرو ضبط سے کام لیتے ہوئے اس کے ساتھ نباہ کرے ۔اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
(یایھاالذین امنو اان من ازواجکم واولادکم عدوالکم فاحذروھم وان تعفوا وتصفحوا وتغفروا فان اللہ غفور رحیم ) (التغابن ۱۴)
”مومنو! تمہاری بعض بیویاں اور بعض اولاد تمہارے دشمن ہیں ۔ سو ان سے بچتے رہو اور اگر تم عفوو کرم ، درگزر اور چشم پوشی سے کام لو تو یقین رکھو کہ خدا بہت ہی زیادہ رحم کرنے والا ہے“۔
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات ہیں :
(استو صو ابالنساء خیر ا فانھن خلقن من ضلع وان اعوج شیٴ فی الضلع اعلاہ فان ذھبت تقیمہ کسر تہ وان ترکتہ لم یزل اعوج فاستوصوا بالنساء ) (بہ روایت حضرت ابو ہریرة رضی اللہ عنہ، مسلم، بخاری )
”عورت کے ساتھ اچھا سلوک کرو ۔ عورت پسلی سے پیدا کی گئی ہے اور پسلیوں میں سب سے زیادہ اوپر کا حصہ ٹیڑھا ہے ۔ اس کو سیدھا کرو گے تو ٹوٹ جائے گی ۔ اور اگر اس کو چھوڑے رہو تو ٹیڑھی رہے گی۔ پس عورتوں کے ساتھ اچھا سلوک کرو“
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (وعاشر وھن بالمعروف)”اور ان کے ساتھ بھلے طریقے سے زندگی گزارو“
اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حجة الوداع کے موقع پر ایک بڑے اجتماع کو خطاب کرتے ہوئے ہدایت فرمائی :
الاواستو صوا بالنساء خیر ا فانما ھن عوان عند کم لیس تملکون منھن شیئا غیر ذلک الا ان یاتین بفا حشة مبینتہ فان فعلن فاھجروھن فی المضاجع واضربوھن ضربا غیر مبرح فان اطعنکم فلا تبغوا علیھن سبیلا الا ان لکم علی نسائکم حقا ولنسائکم علیکم حقا فحقکم علیھن ان لا یوطئن فرشکم من تکرھون ولا یاذن فی بیوتکم لمن تکرھون الا وحقھن علیکم ان تحسنوا الیھن فی کسوتھن وطعامھن (سنن الترمذی ۔ باب ۷۸۹ماجاء فی حق المراة علی زوجھا، روایت عمرو )
”لوگو! سنو! عورتوں کے ساتھ اچھے سلوک سے پیش آوٴ کیونکہ وہ تمہارے پاس قیدیوں کی طرح ہیں ۔ تمہیں ان کے ساتھ سختی کا برتاوٴ کرنے کا کوئی حق نہیں۔ سوائے اس صورت کے جب ان کی طرف سے کھلی ہو ئی نافرمانی سامنے آئے ۔ اگر وہ ایسا کر بیٹھیں تو پھر خواب گاہوں میں ان سے علیٰحدہ رہو اور انہیں ماروتو ایسا نہ مارنا کہ کوئی شدید چوٹ آئے ۔ اورپھر جب وہ تمہارے کہنے پر چلنے لگیں تو ان کو خواہ مخواہ ستانے کے بہانے نہ ڈھونڈو ۔ دیکھو سنو! تمہارے کچھ حقوق تمہاری بیویوں پر ہیں اور تمہاری بیویوں کے کچھ حقوق تمہارے اوپر ہیں۔ ان پر تمہارا حق یہ ہے کہ وہ تمہارے بستر وں کو ان لوگوں سے نہ روندوائیں جن کو تم ناپسند کرتے ہواور تمہارے گھروں میں ایسے لوگوں کو ہرگز نہ گھسنے دیں جن کا آنا تمہیں ناگوار ہو اور سنو ان کا تم پر یہ حق ہے کہ تم انہیں اچھا کھلاوٴ اور اچھا پہناوٴ۔
حکیم ابن معاویہ رضی اللہ عنہ اپنے باپ معاویہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں ۔ انہوں ( معاویہ رضی اللہ عنہ )نے کہا میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا ۔
ماحق زوجة احد نا علیہ ؟ قال ان تطعمہا اذاطعمت وتکسو ھااذا(اکتسیت) ولا تضرب الوجہ ولاتقبح ولا تہجرالافی البیت ) ( ابو داوٴد)
”کسی شخص کی بیوی کا اس کے شوہر پر کیا حق ہے؟“
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اس کا حق یہ ہے کہ جب تو کھائے تو اسے کھلائے اور جب تو پہنے تو اسے پہنائے اور اس کے چہرہ پر نہ مارے ، اور اس کو بد دعا کے الفاظ نہ کہے ، اور اگر اس سے ترک تعلق کرے تو صرف گھر میں کرے“
آخری جملے کا مطلب یہ ہے کہ اگر بیوی کی طرف سے نافرمانی اور شرارت ظاہر ہو تو قرآن کی ہدایت کے مطابق پہلے اس کو نر می سے سمجھا ئے ۔ اگر اس سے بھی وہ ٹھیک نہ ہو تو گھر میں اپنا بستر الگ کرلے اور بات باہر نہ پہنچنے دے کیونکہ یہ شرافت کے خلاف ہے۔ اس سے بھی اگر ٹھیک نہ ہو تو پھر اس کو ماراجاسکتا ہے ۔لیکن چہرہ پر نہیں بلکہ دوسرے حصہ جسم پر اور اس میں بھی یہ ہدایت ہے کہ ہڈی کو توڑ دینے والی یا زخمی کر دینے والی مار نہ ماری جائے۔ مار کا مقصد بیوی کو زخمی کرنا بلکہ حالات کے بگاڑ کا احساس دلانا ہے ۔اگر بیوی کی کسی غلطی یا کمزوری کی وجہ سے شوہر خفا ہے تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ فوراً مار کٹائی شروع کردے یا گھر چھوڑ کر باہر جاسوئے ۔بعض شوہر غصے میں بکتے جھکتے گھر سے نکل جاتے ہیں اور اپنی دانست میں بیوی کو سزا دینے کے لیے کہیں اور جاسوتے ہیں اور اس طرح کی بات گلی کوچے کوچے عام ہوجاتی ہے۔
بیوی کو تنبیہ کرتے وقت اسے بیوی کو گالی دینے، اس کی بے عزتی کرنے اور اخلاق سے گری ہوئی زبان استعمال کرنے کی قطعاً اجازت نہیں ۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے۔ کہ ”بیوی کو نہ مارو اور نہ گالی دو۔“ ایک دوسرے موقع پرآ پ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (سباب المسلم فسوق و قتالہ کفر)
(صحیح بخاری ، کتاب الایمان بہ روایت ابن مسعود رضی اللہ عنہ صحیح مسلم کتاب الایمان )
”ایک مسلمان کو گالی دینا غیر اخلاقی فعل ہے اور اس سے لڑنا کفر کا کام ہے“۔
یہ حدیث ہر مسلمان کے لیے ہے اس میں کسی خاص و عام کی تخصیص نہیں ۔ لیکن دیکھا گیا ہے کہ بعض شوہر بیوی کو حقیر سمجھ کر خواہ مخواہ اسے گالی دینا اور معمولی معمولی باتوں پر مارنا پیٹنا اپنا حق سمجھتے ہیں۔شوہر جہاں تک دوسرے مردوں کا تعلق ہے اس حدیث کو صحیح جان کر عمل پیرا ہوتا ہے مگر خود کو اعلیٰ مخلوق سمجھتے ہوئے بیوی کے ساتھ بدسلوکی کو اپنا پیدائشی حق سمجھتا ہے۔ حقیقت اس کے برعکس ہے۔ اس حدیث کا تعلق زیادہ تر زن شوہر سے ہے۔ مزید براں بیوی کی حیثیت ایک مسلمان کی بھی ہے اور و ہ اللہ کے نام سے اس کے ساتھ وابستہ ہوئی ہے وہ ا س کی حفاظت اور زیر کفالت میں بطور امانت ، نکاح کے متبرک بندھن سے بندھ کرآئی ہے۔ اس لیے شوہر پر واجب ہے کہ اس کی عزت و تو قیر کرے۔
شوہر کو یہ امر یاد رکھنا چاہیے کہ بیوی اس کے پاس بطور امانت ہے جو اسے اللہ کے نام پر سپرد کی گئی ہے ۔ وہ اس سے اچھا برا، جیسا چاہے سلوک نہیں کر سکتا ۔
ایک شوہر جب بیوی کے ساتھ گالی گلوچ کرتا ہے اور بازاری زبان استعمال کرتا ہے تو اسے علم ہونا چاہیے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کا مرتکب ہو رہا ہے۔ وہ بیوی کو بیاہ کر اپنے گھر لاتا ہے اور وہ اللہ کے نام سے اس کے رحم و کرم پر اس کے حوالے کی گئی ہے۔ اللہ کی امانت کی کسی طور پر تذلیل نہیں ہونی چاہیے اور نہ ہی اس سے برا سلوک، کیا ایسا کرکے وہ اللہ تعالیٰ کی ناشکرگزاری کا مرتکب نہیں ٹھہرایا جائے گا؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:
الدنیا کلھا متاع وخیر متاع الدنیا المراة الصالحة (بہ روایت حضرت عبد اللہ بن عمر وابن عاص ، صحیح مسلم)
”دنیا کل کی کل برتنے کی چیز ہے اور اس دنیا کی بہترین متاع نیک عورت (بیوی)ہے“۔
حضرت ابو ہریر ہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”کامل ایمان والاوہ ہے جو اخلاق میں اچھا ہو اور تم سے بہترین وہ لوگ ہیں جو اپنی عورتوں کے حق میں بہترین ہوں“۔
شوہر کو چاہیے کہ عفوو درگزر کی روش اختیار کرے اور بیوی کی کوتاہیوں ، نادانیوں اور سرکشیوں سے چشم پوشی کرے ۔عورت عقل و خر د کے اعتبار سے کمزور اور نہایت ہی جذباتی ہوتی ہے۔ صبر و سکون رحمت و شفقت اور دلسوزی کے ساتھ اس کو سدھارنے کی کوشش کرے اور صبرو ضبط سے کام لیتے ہوئے اس کے ساتھ نباہ کرے ۔اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
(یایھاالذین امنو اان من ازواجکم واولادکم عدوالکم فاحذروھم وان تعفوا وتصفحوا وتغفروا فان اللہ غفور رحیم ) (التغابن ۱۴)
”مومنو! تمہاری بعض بیویاں اور بعض اولاد تمہارے دشمن ہیں ۔ سو ان سے بچتے رہو اور اگر تم عفوو کرم ، درگزر اور چشم پوشی سے کام لو تو یقین رکھو کہ خدا بہت ہی زیادہ رحم کرنے والا ہے“۔
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات ہیں :
(استو صو ابالنساء خیر ا فانھن خلقن من ضلع وان اعوج شیٴ فی الضلع اعلاہ فان ذھبت تقیمہ کسر تہ وان ترکتہ لم یزل اعوج فاستوصوا بالنساء ) (بہ روایت حضرت ابو ہریرة رضی اللہ عنہ، مسلم، بخاری )
”عورت کے ساتھ اچھا سلوک کرو ۔ عورت پسلی سے پیدا کی گئی ہے اور پسلیوں میں سب سے زیادہ اوپر کا حصہ ٹیڑھا ہے ۔ اس کو سیدھا کرو گے تو ٹوٹ جائے گی ۔ اور اگر اس کو چھوڑے رہو تو ٹیڑھی رہے گی۔ پس عورتوں کے ساتھ اچھا سلوک کرو“
Subscribe to:
Posts (Atom)


