Thursday, July 5, 2012

بچے کی پیدائش(بیوی)۔

بچے کی پیدائش پر نصیحت
مسلمان کے گھر میں بچے کی پیدائش ایک خوشگوار واقعہ ہوتا ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے ماں کے رحم کو زندگی کے لئے محفوظ تر ین مقام قرار دیا ہے ۔ ماں کا رحم ایک مقدس امانت کو اپنے پیٹ میں سنبھا لے رکھنے اور پیدائش کے وقت تک بہت سی الجھنوں اورتکلیفوں سے گزرتی ہے ۔ قرآن مجید میں ہے :
﴿ حملتہ امہ وھنا علی وھن ﴾ (لقمان ۱۴)
اس کی ماں نے اس کو بہت تکلیف سے (اپنے رحم میں ) رکھا اور بہت تکلیف سے اس کو جنا “۔
اس امانت کو سنبھا لے رکھنے کا اس کا صلہ بھی بہت بڑا ہے ۔ زچگی میں اس کا ثواب اور بڑھ جا تا ہے ۔ حتی کہ بچے کی پیدائش کے بعد وہ گنا ہوں سے پاک ہو چکی ہو تی ہے ۔ گھر یلو ذمہ داریوں سے اس کا عہد برا ہو نا اور خا وند کی اطاعت اس کے لئے جہاد کا ثواب پانے کا ذریعہ ہے ۔ اس سے آپ اندازہ کر سکتے ہیں کہ بچوں کی پیدائش پر ماں کو کس قدر ثواب ملتا ہے ۔ اس ثواب کو پورا حاصل کر نے کے لئے ضروری ہے کہ عورت اس موقع پر شرعی اوراخلا قی اقدار کو پا مال نہ کر ے ۔
آج کل کے نئی روشنی کے زمانے میں اکثر عورتیں پرد ے کے قوا نین کی خلاف ورزی بڑے شرمناک طریقو ں سے کر تے ہو ئے اللہ تعالیٰ کی ناراضگی کا خطرہ مو ل لیتی ہیں ۔ پہلے وقتوں میں اسلامی روایات و اقدار کو مدنظر رکھتے ہو ئے بچے کی پیدائش گھر کے نجی ماحول میں ہو تی تھی جس کا اب دور دور تک پتہ نہیں ۔
مغر بی مما لک میں اکثر عورتیں زچگی کے لئے ہسپتال کا رخ کر تی ہیں جہاں مرد ڈاکٹر بچے کی پیدا ئش کے وقت نہ صرف موجود ہو تے ہیں بلکہ زچگی میں مدد بھی دیتے ہیں وہ عورتیں غیر شرعی ، غیر اسلامی ، شرم حیا سے پا ک اور حرام میڈیکل ٹسٹ اور چیک اپ کے مر حلوں سے گز رتی ہیں۔ وہ ڈھٹا ئی اور بے حیا ئی سے خود کو مرد ڈاکٹروں کے سامنے ظاہر کر دیتی ہیں ۔
مغر بی انداز فکر اور تہذیب نے مسلمانوں کے عقلو ں پر پٹی با ند ھ دی ہے اور اس امر کا یقین کر لیا ہے کہ سوائے ہسپتال کے مرد ڈاکٹروں کی نگرانی کے بچے کی پیدائش اگر نا ممکن نہیں تو محال ضرور ہے ۔ یہ ایک شیطانی سوچ ہے جسے کفار طبی اداروں نے ہو ا دی ہے ۔ تیسری دنیا کے ممالک کی لا تعدا د عورتیں اور مغر بی ممالک میں بھی مذہبی سوچ رکھنے والی مسلمان اور غیر مسلمان عورتیں جن میں شرم و حیا کی رمق ابھی با قی ہے بچوں کو اپنے گھر وں میں جنم دیتی ہیں ۔ وہاں ان کی مدد دائیاں اور نر سیں کر تی ہیں ۔
بعض نا گزیر حالا ت میں جہا ں زچہ بچہ کی جان خطرے میں ہو ہسپتال سے رجوع کیا جاسکتا ہے، مگر نارمل کیس کی صورت میں کبھی ہسپتا ل کا رخ نہ کر یں جہاں مر دانہ سٹاف ہو۔ یہ اسلا می طور اطوار ، پاکدامنی، شرم وحیا اور پر دہ کے قوانین کے سراسر خلاف ہے ۔ اس بے شرمی اور بے حیا ئی کے خلاف مسلمان عورت کو چا ہیے کے علم بغا وت بلند کر دے۔ بچے کی پیدائش کے پا کیزہ اور متبر ک کام میں ایسے حرام اور غیر اخلاقی رویوں کو اپنا نا جنہیں کفار طبی اداروں نے رواج دیا ہے ، بر کت سے محرومی کا سبب ہو گا ۔
ایک عورت زچگی کے بعد جب ہسپتال سے گھر واپس آتی ہیں ، جہاں بچے کی پیدائش کے دوران اخلاق باختہ ، بے شرمی اورحرام طریقے اپنا ئے گئے ہو ں تو اس کی واپسی اسلا می عزت واحترام کی نہیں ہو تی ۔ بر کت سے بھی محروم رہتی ہے ۔ نسوانیت کا نور بجھ جا تا ہے اور امر اة صالحہ کا اعزاز اس سے چھن جا تا ہے ۔

Enter your email address:


Delivered by FeedBurner

Sunday, July 1, 2012

ناراضگی کی حالت میں کبھی نہ سوئیں(برائے شوہر)۔

آپس میں ناراضگی کی حالت میں کبھی نہ سونے کی نصیحت
یہ بھی نصیحت ہے نصیحت ما ننے والو ں کیلئے کہ اگر کبھی کسی وجہ سے آپس میں بحث ہو جائے یاآپس میں کوئی بات ہو جائے ۔ اوّل تو ہونی ہی نہیں چاہیے۔ اگر فرض کرو ہو جائے تو اب میاں بیوی کو چا ہیئے کہ ناراض حالت میں کبھی نہ سوئیں ۔ یہ جو ہوتا ہے کہ پہلے آپس میں کوئی بات چل رہی تھی ، پھر ناراض ہو کر خاوند نے ادھر کروٹ لے لی ۔ بیوی نے ادھر رخ کرلیا اور سمجھتے ہیں کہ ہم سوگئے ،ہر گز نہیں یہ گھر بگڑنے کی ایک ابتداء ہوتی ہے۔ زندگی میں یہ فیصلہ کر لیجئے کہ ہم نے ہمیشہ کسی نہ کسی نتیجے پر متفق ہونے کے بعد سونا ہے ۔ اگر کوئی بات آپس میں اختلاف رائے کی ہوجائے تو اول تو اس محبت کے وقت میں اختلاف رائے کی باتیں ہی نہ کریں ۔ اگر کوئی بات نکل بھی آئی ، بیوی نے اعتراض کر دیا ، خاوند نے اعتراض کردیا اور آپس میں دلائل چل پڑے تو جب تک ایک دوسرے کو سمجھا نہ لیں ، جب تک ایک دوسرے کو منانہ لیں اس وقت تک ناراضگی کی حالت میں سونا اپنے اوپر آپ ایسے سمجھیں کہ جس طرح حرام ہو تا ہے
اس لئے کہ حدیث پاک میں آیا ہے کہ جب کوئی بیوی اس حالت میں سوتی ہے کہ خاوند اس سے ناراض ہو، اللہ کے فرشتے اس پر لعنت کرتے ہیں۔ جب تک وہ اپنے خاوند کو منا نہیں لیتی تو بیوی کو چاہیے کہ وہ عقل کے ناخن لے کہ ایسی حالت میں کیوں سورہی ہے جبکہ خاوند اس سے ناراض ہے۔ اور آدمی سوچے کہ میری بیوی میری خادمہ ہے اس کے دل کو میں نے تکلیف پہنچادی ، اس کا دل دکھی ہے تبھی تو ناراض ہے۔ اگر اس دکھی دل کو میں نے اس وقت نہ خوش کیا ایسا نہ ہو کہ کہیں اللہ مجھ سے ناراض ہو جائے کہ تو نے اپنی بیوی کو خوش کیوں نہ کیا جبکہ اس کو خوش کرنے کا حکم شر یعت میں دیا گیا۔ لہٰذا بیوی کو چاہیے کہ خاوند کو منالے اور خاوند کو بھی چاہیے کہ بیوی کو منالے ۔ ناراضگی کی حالت میں کبھی نہیں سونا چاہیے ۔ بلکہ ایسے وقت میں بھی یہی سوچنا چاہیے کہ
#
فرصت زندگی کم ہے محبتوں کے لئے
لاتے ہیں کہا ں سے وقت لوگ نفرتوں کے لئے
یہ تو زندگی اتنی چھوٹی ہے کہ اگر ساری زندگی محبت میں گزاردی جائے پھر بھی زندگی کا وقت تھوڑا ہے۔ پتہ نہیں لوگ نفرت کے لئے کہا ں سے وقت نکال لیتے ہیں ۔ نفرتوں کے لئے تو وقت ہے ہی نہیں ۔ اس وقت کو محبتوں میں گزار دیجئے۔
میاں بیوی میں فقط جیت ہوتی ہے
اگر کبھی بحث و تکرار ہو بھی جائے تو اس نصیحت کو تھام لیجئے کہ ہم نے ایک دوسرے سے ناراض ہو کر نہیں سونا۔ منا ہی لینا ہے، چاہے خاوند کو معذرت کرنی پڑے چاہے بیوی کو۔ موقع کے مناسب جو بھی ہو، دونوں کو ایک دوسرے سے معذرت کرلینی چاہیے ۔ احساس کر لینا چاہیے اور ناراضگی کی حالت میں کبھی نہیں سونا چاہیے ۔ اس لئے کہ جب ناراضگی کی حالت میں سوئیں گے تو شیطان کو دلوں میں نفرتیں ڈالنے کا بیج مل جائے ، اور بیج کو پانی دے گا اور پھر دلوں میں نفرتیں بڑھتی چلی جائیں گی۔ اس لئے جب ناراضگی ہو تو ایک دوسرے کو کوئی شعر سنادیں ۔ جیسے کسی شاعر نے کہا ۔
#
اتنے اچھے موسم میں روٹھنا نہیں اچھا
ہار جیت کی باتیں کل پہ ہم اٹھا رکھیں
آج دوستی کر لیں
تو یہ بات اگر انسان کر لے کہ بھئی ہار جیت تو ہم کل پر اٹھا رکھتے ہیں۔ اس بحث کا فیصلہ کل کر لیں گے، آج دوستی کر لیں ۔ آج محبت سے وقت گزار لیتے ہیں۔ تو جب اس طرح آپس میں پیار محبت سے میاں بیوی وقت گزاریں گے تو نفرتیں ختم ہو جائیں گی۔ اور واقعی میاں بیوی میں تو ہار ہوتی نہیں میاں بیوی میں تو جیت ہی جیت ہوتی ہے ۔ یہ بیوی کی جیت ہے کہ اس نے خاوند کو قر یب کر لیا اور خاوند کی جیت ہے کہ اس نے بیوی کو قریب کرلیا ۔ لہٰذا میاں بیوی کے درمیان ہار نہیں ہوتی ، میاں بیوی کے درمیان فقط جیت ہوتی ہے، جس نے بھی معافی مانگ لی گویا اس نے جیت لیا، کیا جیت لیا؟ دوسر ے کا دل جیت لیا۔ تو معافی مانگنا ہار نہیں ، معافی مانگنا تو جیت ہے۔ اب بیوی جیتے یا خاوند جیتے اللہ کرے دونوں جیت جائیں اور محبت و پیار کی زندگی گزاریں ۔
Enter your email address:


Delivered by FeedBurner

Tuesday, June 26, 2012

بیوی کے زبان دراز ہونے پر شوہر کیلئے نصیحت (برائے شوہر)۔


بیوی کے زبان دراز ہونے پر شوہر کیلئے نصیحت
بعض مردوں کو اپنی بیویوں کے زبان دراز ہو نے کا شکوہ ہوتا ہے اور وہ اس سلسلہ میں اپنی بیویوں کو قصو روار اور بد اخلاق قرار دیتے ہیں حالانکہ مرداگر سمجھدار ہو تو بیوی کے بد زبان اور بد اخلاق ہونے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ ہم لوگ بیویوں پر بے جا ظلم و زیادتی کرتے ہیں اور اوپر سے یہ توقع بھی رکھتے ہیں کہ وہ زبان نہ کھولیں ۔ اگر وہ اپنی صفائی بھی پیش کرنا چاہیں تو ہم انہیں فوراً زبان دراز اور بد اخلاق ہونے کی ڈگری جاری کر دیتے ہیں۔
سمجھدار شوہر وہ ہے جو بیوی کے زبان دراز ہونے کی وجوہات تلاش کرکے ان کا سد باب کرتا ہے نہ کہ وہ جو سید ھا بیوی کی زبان کا ٹنے کو لپکتا ہے ۔ آپ اپنی بیوی کو زبان چلانے کا موقع ہی نہ دیں تو پھر وہ کیسے زبان چلائے گی۔ اگر آپ کے جائز شکووں کو زبان درازی خیال کرتے ہیں تو یہ آپ کی بھول ہے۔ اپنے دل کی بھڑاس آپ کے سامنے نکال لے تو اس میں فائدہ ہے ، بجائے اس کے کہ وہ گھر کی باتیں سارے محلے میں سناتی پھرے اور آپ کے سامنے خاموش رہے۔
بعض اوقات عورت کی گفتگو کا انداز ہی ایسا ہوتا ہے کہ ہم اسے بد اخلاقی اور زبان درازی خیال کر لیتے ہیں حالانکہ وہ دل سے آپ کو چاہنے والی ہوتی ہے ۔ سمجھدار شوہر وہی ہے جو ان نزاکتوں کو خوب سمجھتااور بیوی کے لیے مہربان ہو۔ اس کے جائز شکوے خوشی سے سنے ۔ اس کو اجازت دے کہ دوسروں کی بجائے مجھ (شوہر ) پر اپناغصہ جیسے چاہو نکالا کرو۔ اس کے سامنے خود زبان درازی نہ کرتا ہو اور نہ ہی اس پر ہاتھ اٹھاتا ہو۔ کبھی کبھار ایسے بھی ہو سکتا ہے کہ بیوی غصے میں آکر آپ کو واقعی ناز یبا جملے کہہ بیٹھے ۔ ایسے موقع پر اس پر کوئی حکم صادر کرنے سے پہلے آپ خود یہ سوچ لیں کہ اس نے اگر آج آپ کو کچھ سخت الفاظ کہہ دیئے ہیں تو کیا آپ نے کبھی اسے سخت الفاظ نہیں کہے ۔ کبھی اسے برا بھلا نہیں کہا۔ کبھی اسے گندی گالیاں نہیں دیں ۔ کبھی اس پر غصے کا اظہار نہیں کیا۔ آپ تو اپنا ماضی بھول جائیں اور یہ نہ سوچیں کہ آپ کے ایسے بے شمار غلط رویوں پر کبھی اس بیوی نے اُف تک نہ کہا اور آج ایک مرتبہ اس کی زبان سے کچھ سخت جملے نکلے ہیں تو آپ اسے جان سے ماردینے پر تلے بیٹھے ہیں ……!
یہ بھی ہو سکتا ہے کہ آپ کی بیوی واقعی بڑی بدزبان اور بد اخلاق ہو ۔ ایسی صورت میں بہادری یہ نہیں کہ آپ اسے اٹھا کر گھر سے باہر جا پھینکیں اور ہمیشہ کے لیے اپنا دروازہ اس پر بند کردیں بلکہ بہادری یہ ہے کہ آپ اسے خوش اَ خلاق اور خوش گفتار بنادیں ۔ اس کا رویہ اور طرزِ زندگی درست کردیں ۔ اس کا کردار اور گفتار بااخلاق بنادیں۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تو بے شمار بد اخلاقوں کو بااخلاق بنادیں مگر آپ ایک عورت کو نہ بدل سکیں۔ آپ یہ کام نہیں کر سکتے تو دنیا میں اور کوئی اہم کام کی آپ توقع کیسے کر سکتے ہیں ؟
Enter your email address:


Delivered by FeedBurner

Saturday, June 23, 2012

سو تیلی اولاد (بیوی)۔

سو تیلی اولاد کے با رے میں نصیحت
دیکھا گیا ہے کہ اکثر اوقات عورت کا اپنے شو ہر کی پہلی بیوی سے اولا د کے ساتھ سلوک بہت خراب اوردلوں کو لرزا دینے والا ہوتا ہے ۔ ایک عورت جب وہ ایسے مرد سے شادی کر تی ہے جس کی پہلے سے اولاد ہو تی ہے کو بہت سنبھل سنبھل کر چلنا چا ہیے ۔ آج کل کے جہا لت کے دور میں شروع شروع میں اکثر بچے اپنی نئی ماں سے خائف رہتے ہیں اور اسے بن بلا یا مہمان تصور کر تے ہیں ۔ اسلامی تعلیمات سے لا علمی اور اسلامی اقدار اور تر بیت میں کمی کے با عث وہ اپنی نئی ماں کے صحیح مقام اور رتبہ کو جاننے سے قاصر رہتے ہیں ۔ عام طور پر وہ اپنی سوتیلی ماں کے سا تھ گستا خانہ ، نا روا ، نا فرما نبرداری اورغیر اسلامی رویہ اپنا تے ہیں جسے وہ اپنے ذہن میں ایک نا مہر بان ، ظالم اور ان کی ضرورت کا خیال نہ رکھنے والی تصور کر تے ہیں ۔
سو تیلی اولاد کے ذہنوں سے اس تصور کو دور کر نے کی کو شش کرنا عورت کا پہلا کام ہو نا چاہیے۔ یہ ایک دن کا کام نہیں ۔ یقینا اس کے لئے وقت اور صبر درکار ہو گا ۔ عورت کو ہر حال میں بچوں کے اعتماد کو جیتنا اوربحال کرنا ہو گا ۔ اسے ایسے راستے اختیا ر کر نا ہوں گے جن سے وہ ان کے دلوں کو جیت سکے ۔ اس کے لئے انتہا ئی درجے کی سوجھ بوجھ اور صبر کی ضرورت ہو گی ۔
عورت ہر گز ان کے باپ کے پاس ان کی غلطی یا نا فرما نی کی شکایت نہ کر ے۔ اس سے ان کے دل اور سخت ہو جا ئیں گے اور وہ اپنی ماں کے ساتھ دشمنی میں بہت آگے بڑھ جا ئیں گے ۔ اگر کبھی کبھا ر اس کی اشد ضرورت پیش آبھی جا ئے بچوں کے نا رواسلوک اور غلطیوں پر سر زنش کے لیے ان کے باپ کو بتا ئے بغیر چارہ نہ ہو تو وہ ایسا تنہا ئی میں کر ے تاکہ بچے اس سے آگا ہی نہ پا سکیں ۔ نیز وہ اپنے شو ہر سے وعدہ لے لے کہ وہ بچوں کو اس امر سے آگاہ نہیں کر ے گا کہ شکایت ان کی ماں نے کی ہے ۔ اب یہ باپ پر مو قوف ہے کہ بیوی کو شریک کیے بغیر وہ خود ان سے کس طرح نپٹتا ہے ۔
شوہر جب اپنے بچوں کو سر زنش کر رہا ہو تو کبھی کبھار وہ خود بچوں کی طرفداری کرے اور شوہر کے آگے ان کے لیے ڈھا ل بن کر کھڑی ہو جا ئے ۔ شوہر بیوی کے اس رویے کا ہر گز برا نہیں منا ئے گا بلکہ ایک طرح کی فرحت محسوس کر ے گا ۔ وہ سمجھے گا کہ بچوں کی طرفداری کے اظہار سے بچے اپنی نئی ماں کے ساتھ جلد مانو س ہو جا ئیں گے اور اسے اپنا ہمدرد اورمحافظ سمجھیں گے ۔اس قسم کے دوسرے طریقوں سے اسے بچوں کے دلوں کو جیتنا ہو گا ۔
سو تیلے بچوں کے ساتھ سلوک کے لیے عورت کو تھوڑی سی سمجھ داری اورصبر کی ضرورت ہو گی ۔ عقلمند ی کے طریقے اپنا کر وہ بچوں کے دل جیت لے گی اور یوں خود کو اور اپنے شوہر کو بہت سے مصائب سے بچا لے گی جن کا سامنا ایسے بہت سے گھروں کو کرنا پڑتا ہے جہاں سو تیلی ماں اور بچے ہو تے ہیں ۔
بعض عورتیں بہت غیر معقول رویہ اختیار کر تی ہیں اور کو شش کر تی ہیں کہ سو تیلے بچوں اور اس کے شوہر کے درمیان اختلافات کی دیوار کھڑی ہو جائے ۔ وہ چا ہتی ہیں کہ خاوند کے دل سے بچوں کی محبت کھرچ کر نکال دیں ۔ یہ بہت ظالمانہ فعل ہے اور گنا ہ عظیم۔ وہ یہ کیوں بھول جا تی ہیں کہ ایسے نا رواطرز عمل سے اپنی خوشیوں کی منز ل کو خود سے دور کر رہی ہیں۔
سو تیلے بچے اس کے پاس امانت ہیں ۔ اسے ان سے محبت کر نی چا ہیے ۔ ان کے مسائل کو سمجھنا چا ہیے اور ان کے حل کرنے میں ان کی مدد کر نی چا ہیے ۔ عورت کو چا ہیے کہ سو تیلے بچوں کو ان کاصحیح مقام دے اور ان کو تحفظ فراہم کر ے ۔ وہ ان کے ساتھ دشمنی مول نہ لے۔ہمسری اور رقابت نہ کر ے ۔ بعض اوقات سو تیلی ماں اپنی نو جوان سو تیلی بچیوں کی ہمسری کرنے لگتی ہے ۔ایسا رویہ ایک عورت کے لیے جب کہ وہ ماں کی حیثیت رکھتی ہو شایان شان نہیں بیوی کبھی بھی خاوند کو اس امتحان میں نہ ڈالے جہاں اسے مجبور ہو کر دونوں میں سے ایک کا انتخاب کر نا پڑے ، بیوی یا بچوں کا ۔ بعض اوقات بیوی محسوس کر تی ہے کہ اس کا خاوند اپنے بچوں کی بے جا طور پر طرفداری کر تا ہے اور کسی وقت اس کے ساتھ سلوک بہتر نہیں ہو تا۔ مگر بیوی کو چا ہیے کہ اپنی نا پسند یدگی کا اظہار کسی طور شو ہر کو نہ ہونے پا ئے ۔ اگر وہ اپنے دل میں بھی ملال نہ لا ئے تو سب سے بہتر ہے ۔ ذہن کی پختگی اورصبر انسان کے مر تبے اور شان میں اضا فہ کرتا ہے ۔
Enter your email address:


Delivered by FeedBurner

Wednesday, June 20, 2012

بیوی کے شکوہ مزاج ہونے پر شوہر کیلئے نصیحت (برائے شوہر)۔

بیوی کے شکوہ مزاج ہونے پر شوہر کیلئے نصیحت
ہوسکتا ہے کہ آپ کی بیوی کا مزاج شکایتی ہو اور آئے دن وہ آپ کو اپنے دکھڑے سناتی رہتی ہو۔ آپ سارے دن کے تھکے ماندہ گھر لوٹیں اور آگے سے وہ شکایتوں کا رجسڑ کھول کر بیٹھ جائے ۔ ایسی صورت میں اچھا اور سمجھدار شوہر وہ ہے جو یہ جانتا ہوکہ میں نے برداشت سے کام لینا ہے ، میرے علاوہ اور کون ہے جو اس کے دکھڑے سنے گا، اس لیے آپ کو چاہیے کہ اس کے شکوے توجہ سے سنیں ۔ اس کی شکایتوں پر اسے برابھلا نہ کہیں آپ کا یہ عمل آ پ کے لیے بڑا خوشگوار ثابت ہوگا اور اس کا بوجھ ہلکاہو جائے گا۔ لیکن اگر آپ غصے کا رویہ ظاہر کریں گے تو اس کے کئی نقصانات پیدا ہوں گے مثلاً:
(
۱)…اگر وہ آپ کو اپنے شکوے نہیں سنائے گی تو دل ہی دل میں کڑھتی اور جلتی بجھتی رہے گی اور کئی بیماریوں میں مبتلا ہو جائے گی ۔
(
۲)…اگر وہ آپ کے سامنے شکوے رکھ کر دل کا غبار ہلکا نہیں کرے گی تو پھر بچوں پر غصہ نکالے گی ۔ ان کی تربیت کی طرف پوری توجہ نہیں دے گی ۔
(
۳)…بچوں پر نہیں تو آپ کے گھر کے دوسرے افراد مثلاً ساس، سسر اور نندوں وغیرہ کے ساتھ بدتمیزی کرے گی۔ گھر میں توڑ پھوڑاور نقصان کرے گی۔
(
۴)…یہ بھی ہو سکتا ہے کہ وہ اپنے والدین اور بہنوں بھائیوں کو جاکر آپ کی شکایتیں کرے ، انہیں آپ کے خلاف بھڑکائے اور آپ کو ظالم اور خود کو مظلوم ظاہر کرے ، ظاہر ہے اس سے دو گھرانوں میں نفرت کی آگ بھڑکے گی ۔
(
۵)… یہ بھی ہو سکتا ہے کہ وہ اپنی سہیلیوں اور گھر میں آنے والی محلے کی دوسری عورتوں کے سامنے شکوے کرے۔ اس کا نقصان یہ ہو گا کہ سارے محلے اور رشتہ داروں میں آپ اور آپ کے گھروالوں کو ظالم سمجھاجائے گا۔
ان تمام نقصانات کا حل یہی ہے کہ آپ کی بیوی اپنے سارے دکھڑے آپ کے سامنے ہی پیش کرے ۔اس طرح گھر کی بات گھر کی چار دیواری بلکہ صرف میاں بیوی کے اندر ہی رہے گی اور وہیں حل ہو جایا کرے گی۔ نہ گھر میں شور وغوغا ہو گا نہ محلے میں ڈھنڈ ورا پیٹا جائے گا اور نہ خاندانوں کی باہمی لڑائیوں کو سرا ٹھانے کا موقع ملے گا۔
Enter your email address:


Delivered by FeedBurner

Saturday, June 16, 2012

اگر شوہر دوسری شادی کر لیتا ہے تو؟

اگر شوہر دوسری شادی کر لیتا ہے تو؟
اگر ایسا اتفاق ہو جائے کہ مرد دوسری شادی رچالے تو پہلی بیوی کو نہ تو ایسا سوچنا چاہیے اور نہ ہی ایسا بر تاؤ کرنا چا ہیے جیسا کہ غیر مسلم عورتیں کرتی ہیں۔
وہ تو شوہر کی دوسری شادی کا سوچ بھی نہیں سکتیں کیونکہ ان کے معاشرہ میں یہ قا بل قبو ل نہیں۔
یاد رکھو!اللہ تعالیٰ نے مرد کو ایک سے زا ٰئد شا دیو ں کی اجا زت دی ہے ، اسلا م کی رو سے ایک مر د کو حق حا صل کہ وہ ایک سے زائد عورتوں سے شاد ی کرے۔
دوسری شادی کی صورت میں پہلی بیوی نہ اس طرح برتاوکرے جیسے اس کی دنیا اندھیرا ہو گئی ہو اور اس کی زندگی سے رو شنی مفقود ہو گئی ہو ۔ایسا ہوجانے کی صورت میں ذہنی طو ر پراسے جھٹکاضرور لگے گااور وہ غمزدہ بھی ہو گی مگر اسے حالا ت کا مقابلہ سو جھ بو جھ ، عقلمندی، ذہن کی پختگی اور صبر سے کرنا ہو گا ۔ اسے اپنی نفسا نی خواہشات جن کو شیطان ابھا رتا ہے کو دبا نا ہو گا اور احسا سات کو بے لگا م ہو نے سے روکنا ہو گا ۔
اگر ان حالات کا مقابلہ وہ حسد ، نفرت ، بغض ، کینہ اور عداوت سے کر ے گی تو اس کو یہ امر یا درکھنا چا ہیے کہ اس کی حا لت مزید خراب ہو جائے گی ۔ شوہر کو دوسری بیوی سے بد ظن اور علیٰحدہ کر نے کی اسکی کو ششیں بار آ ور نہیں ہو ں گی ۔ اپنے نا رواسلوک سے اس کا خاوند اس طرف سے بر گشتہ ہو جائے گا اور اسے وہ کٹنی نظر آنے لگے گی ۔ عورت اپنے برے روئیے سے کچھ اپنا ہی نقصان کر ے گی اور فا ئدہ کچھ حاصل نہ ہو گا ۔
پہلی بیوی کو اپنے خاوند کی دوسری شادی کی حقیقت کو عزت اور پر وقار طریقے سے قبول کر لینا چا ہیے ۔ وہ اللہ تعالیٰ کے قانون کے ساتھ جنگ نہیں کر سکتی ۔ اسے ایسی کوشش سے احتراز کر نا ہو گا جس سے وہ اپنے خاوند کو اللہ کی طرف سے دیئے گئے حق سے دستبر دار ہونے کے لیے مجبور کر ے ۔
عورت کو چا ہیے کہ اپنے خاوند کے دوسری شادی کے فیصلے کو پر وقاررویئے سے قبول کر لے۔ اس طرح وہ اپنے خاوند کی عزت اور محبت کو پا لے گی ۔ اس کے علاوہ اس کے لیے ثواب اور اللہ تعالیٰ کی خوشنودی مزید ہو گی ۔ یقینا نقصا ن میں نہ رہے گی ۔ اپنے نفس پر قابو پا کر نئے حالا ت سے سمجھوتہ کر نا ہی اس کے حق میں بہتر ہو گا ۔ اللہ تعالیٰ نے ہمیں اس دنیا میں اپنے نفس سے جنگ کر نے کے لیے ہی تو بھیجا ہے ۔
نفس کے خلاف مجاہد ہ ہر مسلمان پر خواہ وہ مرد ہو یا عورت فرض ہے اور جب تک وہ اس زمین پر مقیم ہے اسے نفس اما رہ کے خلاف نبرد آزما ہو نا پڑے گا ۔ ایک مسلمان کو اس امر کی اجازت نہیں کہ ایسی خواہشات کی پیروی کر ے جن کی اسلام نے اجازت نہیں دی ۔ پہلی بیوی کو یہ جان لینا چا ہیے کہ ردّعمل حسد کی بنا پر ہے ۔ اس پر واجب ہے کہ اللہ تعالیٰ کی رضا کی خا طر حسد کو ترک کر دے۔
یاد رکھو ! ایک مسلمان اس دنیا میں آزاد نہیں کہ جو مر ضی میںآ ئے کہے اور کرے ۔ ہماری رہا ئش ، ہماری سوچ ، ہمارے احساسات و کردار پر لا تعداد بندشیں اللہ کی طرف سے عائد ہیں ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے : ﴿الدنیا سجن المو من و جنة الکافر
(
بہ روایت ابو ہر یرہ رضی اللہ عنہ ، مسلم کتاب الزہد۔ ترمذی کتاب الزھد ۔ ابن ماجہ ۔ ابواب الزہد)
دنیا موٴمن کا قید خانہ اور کافر کی جنت ہے “۔
اچھی اور سچی مسلمان عورت اپنے خاوند کی دوسری بیوی کی عزت کر یگی ۔ اپنے مجروح جذبات پر قابو پا ئے گی ۔ خواہ اس کے لیے کتنا ہی مشکل کیوں نہ ہو پھر بھی وہ سوت کے ساتھ مہر بانی اور شا ئستگی سے پیش آئیگی ۔ اسلامی طور طریقے اپنانے سے اس کے شو ہر کی دوسری بیوی کے ساتھ تعلقات صحت مندانہ ماحول میں ترقی کر یں گے اور ان دونوں میں آپس میں پیا ر و محبت بڑھے گا ۔
عورت کو اپنے شوہر سے دوسری بیوی کے متعلق حقارت آمیز ، طعن آمیز اور تمسخر آمیز گفتگو نہیں کرنی چا ہیے ۔ کیا وہ یہ سمجھتی ہے ایسا کر نے سے خاوند کو دوسری بیوی سے بر گشتہ کر نے میں کامیاب ہو جائے گی ؟ اس کے بر عکس اس کا یہ طرز عمل خاوند اور دوسری بیوی کے تعلقا ت کو مزید استوار کر نے کا با عث ہو گا ۔وہ اپنی پہلی بیوی کی نا جائز غیبت پر نالاں ہو کر دوسری بیوی کی طرف زیادہ رجوع کر ے گا ۔ وہ سمجھے گا کہ دوسری بیوی کے ساتھ زیادتی ہو رہی ہے جس وجہ سے وہ اس کی زیادہ تو جہ اور ہمدردی کی مستحق ہو گی ۔
اگر تجزیہ کیا جائے تو عقد ہ کھلے گا کہ اس کے خاوند کی دوسری شادی اللہ تعالیٰ کی رضا سے ہوئی ہے ۔ اسے ایک سچی مسلمان عورت ہونے کے نا طے اللہ تعالیٰ کی رضا پر راضی ہوجا نا چا ہیے اور صبر کرنا چا ہیے ۔ ایسا با عزت رویہ اپنا کر وہ یقینا فا ئدہ میں رہے گی ۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے :
ایک عورت ، جب اس کا شوہر دوسری عورت سے شادی کر تا ہے ، اس پر صبر کرتی ہے ، ایک شہید کا ثواب پائیگی “۔
عورت اپنے صبر کی بدولت اور دوسری شادی کی حقیقت کو پر وقار اور حوصلہ مندی سے قبول کرنے کی صورت میں بہت بڑا ثواب کما ئیگی اور اللہ کے ہاں بڑا رتبہ پا ئے گی پھر وہ کیوں غمزدہ اور مایوسی کا شکار ہو ؟ بہتر ہے کہ وہ جان لے کہ اس کا برا طرز عمل اس کی اپنی شادی کو تباہی کے غار میں دھکیل دینے میں معاون ثا بت ہو گا ۔
دنیوی زندگی ، بہر حال مصیبتوں ، کو ششوں اور سختیوں سے عبا رت ہے جس سے ہر ایک مسلمان کو دو چار ہونا پڑتا ہے اور ان سے سمجھوتہ کرنا پڑتا ہے ۔ مکمل خوشی کا ملنا اس دنیا میں تو ممکن نہیں ۔ اس کے لیے جنت ہے اور اس میں پہنچنے کے لیے نیک اعمال کی ضرورت ۔ اگر وہ یہ خیال کر تا ہے کہ سختیاں اور مصیبتیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے آزمائش ہیں اور اس پر برداشت و صبر کی روش اختیار کر تا ہے تو اسے کوئی دکھ اور رنج نہیں ہو تا کیونکہ اسے معلوم ہے کہ یہ عارضی ہے اور اس دنیا کا رنج و غم بھی عارضی ہے ۔ اصل زندگی آخرت کی ہے جو مستقل جائے قرار ہے ۔ اس دنیا میں اگر انسان نے نیک اعمال کئے ہو ں گے تکلیف میں اللہ کی رضا پر راضی رہتے ہوئے صبر و استقامت کا مظاہر کیا ہو گا تو اسے اس دنیا میں بھی رنج و تکلیف محسوس نہ ہو گی اور آخرت میں اس کے لئے جنت کا وعدہ اللہ نے کیا ہو ا ہے ۔

Thursday, June 14, 2012

بے جا تنقید نہ کرنے کی نصیحت (برائے شوہر)۔

بے جا تنقید نہ کرنے کی نصیحت
بعض مردوں کی یہ عادت ہوتی ہے کہ وہ ہر وقت اپنی بیویوں کے کاموں پر تنقید ی نگاہ رکھتے ہیں۔ ہرکام میں سوالات کی بوچھاڑ کردیتے ہیں ؟ یہ کیا کیا؟ یہ کیوں کیا؟ یہ کیسے کیا؟ وہ کیو ں نہ کیا؟ یہ پہلے کیوں کیا؟ وہ بعد میں کیوں کیا؟ اس طرح کی تنقیداور بے جا سوالات سے عورت چڑ چڑاتی ہے اور ظاہر ہے اگر وہ بھی آگے سے ترکی بہ ترکی جواب دے تو آپ کو غصہ آئے گا اور بات بڑھے گی ۔ اور اگر وہ آپ پر غصہ نہ کرے گی تو دل ہی دل میں کڑھے گی یا گھر کے سامان یا بچوں پر اپنا غصہ نکالے گی۔
بیوی کو طعنہ نہ دینے کی نصیحت
کہتے ہیں تلوار کا زخم تو مندمل ہو جاتا ہے مگر زبان کا زخم مندمل نہیں ہوتا ۔ یہی حال طعنوں کا ہے ۔ کسی کو طعنہ دینے سے بظاہر کو ئی نقصان ہوتا نظر نہیں آتا مگر اندر ہی اندر وہ طعنہ اپنا اثر دکھاتا ہے بعض ماہرین ِ نفسیات کا کہنا ہے کہ کئی عورتیں پیچیدہ امراض کا شکار اس لیے ہوتی ہیں کہ انہیں زندگی بھر دوسروں سے طعنے سننا پڑتے ہیں ۔ کبھی خاوند اسے طعنے دے رہا ہے ، کبھی ساس طعنے دے رہی ہے، کبھی نندوں کی باری ہے اور کبھی جیٹھانیاں اور دیورانیاں اس پر برس رہی ہیں ۔اگر آپ سمجھدار شوہر ہیں تو آپ کبھی اپنی بیوی کو طعنے نہ دیں ۔ اس پر طنز یہ جملے نہ کسیں ۔ اس سے یا تو وہ نفسیاتی مریض بن جائے گی یا پھر برداشت سے باہر ہوجائے گی اور آپ پر زبان درازی شروع کردے گی ۔ اور ظاہر ہے یہ دونوں صورتیں خود آپ کے لیے نقصان دہ ثابت ہوگی اور آپ کی اِ زدواجی زندگی خوشیوں کی بجائے اُ لجھنوں کا شکار ہوجائے گی۔ 

Enter your email address:


Delivered by FeedBurner