Thursday, January 17, 2013

بیوی کو اپنے اند ر صبر و تحمل پیدا کر نے کی نصیحت

عورت کے اندر صبر و تحمل بہت ہو نا چا ہیے ۔ اس لئے عورت کو گھر والی کہا جا تا ہے کہ گھر کی بنیا د ہو تی ہی عورت کے اوپر ہے ۔ ہمارے بڑوں نے کہا کہ عورت اگرگھر آباد کر نا چا ہے تو گھر آ بادرہتا ہے اور بر باد کرنا چا ہے تو بر با د ہو جا تا ہے ۔ مرد اگر کلہاڑا لے کر بھی بنیا دیں گرانا چا ہے تو نہیں گرا پا تا ، عورت اگر سو ئی لے کر بھی بنیا دیں گر انا چا ہے تو مرد سے پہلے گھر کی بنیا د یں گر ادیتی ہے ۔ تو اس لئے اس کے اندر صبر و تحمل ہونا چاہیے ۔ اگر کبھی کوئی بات خلا ف طبیعت ہو بھی جا ئے تو یوں سو چے کہ صبر کر نے والے سے اللہ تعالیٰ محبت کے مو ڈ میں آئے گا کہ عورت سمجھے گی کہ زیاد ہ محبت کرتے ہیں ۔﴿ولربک فاصبر﴾ اللہ کے لئے صبر کر لو۔ تو میں اس بات پر صبر کرتی ہوں ۔ اللہ سے اجر کی امیدوارہوں ۔ تھو ڑی دیر یہ صبر کر ے گی تو وہی خا وند جس نے کوئی نا گوار بات کر دی تھی وہ اتنی محبت کے مو ڈ میں آئے گا کہ عورت سمجھے گی کہ اس سے زیادہ محبت کر نے والا دنیا میں کوئی نہیں ہو سکتا ۔ آخر انسان ہے اور اس کے اند ر بھی احسا سات اور جذبات ہیں ۔ کسی وقت اگر غصے میں آگیا تو کیا ہوا۔اکٹھا رہنے سے اگر بے جان بر تن بج سکتے ہیں تو پھر جاندار انسانوں کا بجنا تو کوئی اتنی بڑی بات نہیں ہے ۔ ممکن ہے ایک خوشی کے موڈ میں ہو اور دوسرا اس وقت کسی اور موڈ میں ہو ۔ ایک نے بات کسی انداز سے کہی اور دوسرے نے اس کو کسی اور انداز سے سمجھا ۔ تو غلط فہمیوں کا ہو جا نا کو ئی اتنی بڑی بات نہیں ہے ۔ ایسے معاملے میں اگر صبرو تحمل ہو تو زندگی اچھی گزرتی ہے ۔ اور اگر صبرو تحمل نہ ہو اور انسان فو ری ردعمل ظاہر کر ے تو اس جیسا براانسان کوئی نہیں ہو تا ۔ بس ذراسی با ت ہو ئی غصے کی آگ فو راً بھڑک اٹھی ۔ دو سرے کی بات سمجھنے کی بجا ئے بس اپنی زبان سے کچھ بولنا شروع کر دیا ۔
غلطی کو مان لینے میں عظمت ہے اور خا مو شی میں عا فیت ہے
غلطی کو مان لینا عظمت ہے ۔ اگر ایسی بات ہے کہ خاوند کہہ رہا ہے کہ تمہا ری غلطی ہے تو اتنا ہی کہہ دیں کہ ہاں میری غلطی ہے ۔ اس سے کیا ہو جائے گا ۔غلطی کو تسلیم کر لینے میں عزت ہو تی ہے ۔ یہ ہتک نہیں ہو اکر تی ۔ خاوند ہی ہے نا ، خا وند کے سامنے ہی آپ کہہ رہی ہیں کہ جی غلطی ہو گئی ، تو کیا ہو ا۔ یا اگر خا وند نے کوئی بات کر دی تو آپ اس کے جواب میں فورًابولنے کی عادت نہ ڈالیں ، تر کی بہ ترکی جو اب دینا گھروں کے اجڑ نے کا ذریعہ بن جا تا ہے ۔ یا د رکھنا کہ چپ رہنا بھی ایک جواب ہے ۔ کئی مقامات پر خاوند کی با ت سن کے چپ رہنا ، اس سے خا وند کو اس کا جواب مل جا تا ہے ۔ بعض مر تبہ الفا ظ کی بجائے خا مو شی میں زیادہ وضا حت ہو تی ہے ۔ جب خاموشی اور اعتراف کی بجائے دفاع شروع ہو جا ئے تو یہ سمجھئے کہ جنگ کا بگل بج گیا ۔
ایک میاں بیوی میں اکثر جھگڑا ہو تا تھا اور ہوتا بھی اسی طرح کہ خا وند جب گھر آتا تو وہ آتے ہی کہتا یہ کیوں ہو ا اور وہ کیوں ہو ا۔ اور بیوی آگے سے جو اب دینے لگ جا تی اور اسی وقت سے جھگڑا شروع ہو جا تا ۔ چنانچہ بیوی کسی اللہ والے کے پاس گئی کہ جی گھر میں جھگڑا بہت ہوتا ہے ، کوئی تعویذ دے دیں ۔ انہوں نے پا نی دم کر کے دے دیا اور کہا کہ جب تمہا را میاں گھر میں داخل ہو اس پانی کو پا نچ دس منٹ تک منہ میں رکھنا ، ان شا ء اللہ جھگڑا نہیں ہو گا ۔ اب وہ جب بھی آتا بیوی پا نی کو گھو نٹ بھر کے منہ میں رکھ لیتی اور خا وند کا پا نچ دس منٹ میں غصہ اتر جا تا پھر خاوند پیا ر کے موڈ میں آجا تا اور میاں بیوی کی اچھی زندگی گزرتی۔چنانچہ دم شدہ پا نی نے گھر کے جھگڑوں کو ختم کر دیا ۔ 

Friday, January 11, 2013

بیوی کو خا وند سے عزّت کے صیغے میں بات کرنے کی نصیحت


بیوی کیلئے ضروری ہے کہ خا وند کے ساتھ بات ہمیشہ نر م لہجہ میں کی جا ئے اور عزت کے صیغے میں کی جائے ۔ اس لئے اللہ تعالیٰ نے اس کو گھر کا قوام بنایا عورتوں کے قوام ۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :
﴿ الرجال قوامون علی النسا ء ﴾ ( النسآ ء : ۳۴
”
مرد عورتوں کے سر پر ست و نگہبان ہیں “
اور فرمایا :
﴿وللرجال علیھن درجة ﴾ ( البقرة : ۲۲۸)
”
اور مر دوں کو عورتوں پر ایک درجہ حا صل ہے “
اب جب اللہ تعالیٰ نے تر تیب ایسی بنا دی تو اللہ کی بند یا ں اس با ت پر را ضی ہو ں خو ش ہو ں کہ اللہ نے ہما رے میا ں کو ہما را سردار بنا یا ، ہمارا بڑا بنایا۔ یہ بھی اس کو بڑا بنا کر رکھے ۔ اللہ تعالیٰ کی تر تیب پر راضی رہے گی تو اس کا اپنا دنیا کا بھی فا ئدہ آخرت کا بھی فا ئدہ ۔ مگر دیکھا یہ گیا ہے کہ عورت اگر پڑھی ہو ئی زیادہ ہے یا سمجھ دار زیا دہ ہے، عقل مند زیادہ ہے تو یہ پھر خا وند کے سا تھ حا کمانہ لہجے میں بات کر نے لگ جا تی ہے ۔ جیسے آ رڈر پا س ہو رہا ہو تا ہے ۔ یہ ایسے اس کے سا تھ ڈیل کرنا شروع کر دیتی ہے اور یہ چیز پھر خا وند کے دل میں نفرت پیدا کر دیتی ہے ۔ عورت حسن میں زیا دہ ہے ، تعلیم میں زیادہ ہے ، عقل میں زیا دہ ہے ، مال میں زیادہ ہے مگر درجہ پروردگار نے خاوند ہی کا رکھا ۔ اس کو چا ہیے کہ اپنے خا وند سے نرم لہجے میں گفتگو کر ے عزت کے لہجے میں گفتگو کر ے ۔ ”تو“ کی بجا ئے ”آپ“ کے لہجے میں گفتگو کرے ۔ جب یہ عزت کے ساتھ اس کا نام لے گی تو یہ چیز خاوند کے دل میں محبت کو بڑھا دے گی ۔
چنا نچہ صحا بیات کے با رے میں آتا ہے کہ جب وہ اپنے خا وند کی بات نقل کر نے لگتی تھیں۔ تو کہتی تھیں ۔ ﴿حدثنی سیدی ﴾ میرے سردار نے یوں کہا ۔ اب اندازہ لگا ئیے اگر صحا بیا ت اپنے خا وندوں کے بار ے میں یہ لفظ استعمال کر سکتی ہیں ۔ ﴿حد ثنی سیدی﴾ میرے سردار نے مجھ سے یہ بات کہی ۔ تو پھر آج کی عورت کو کم ازکم ” آپ “ کے لفظ کے ساتھ تو گفتگو کر نی چا ہیے ۔

Tuesday, December 25, 2012

انگلینڈ میں پڑھنے والی پاکستانی لڑکیوں کی حالت زار


انگلینڈ سمیت دنیا کے دیگر ممالک میں سٹوڈنٹ ویزے پر جا کر پڑھنے والی لڑکیا کس طرح زندگی گزارتی ہیں اس کی ایک تصویر آپ اس ویڈیو میں دیکھ سکتے ہیں۔ بلاشبہ یہ والدین کے لئے لمحہ فکریہ ہے 

Thursday, December 20, 2012

کیا حلالہ عورت پر ظلم ہے ؟


حلالہ کے منکرین ایک نفسیاتی حربہ استعمال کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ حلالہ عورت پر ظلم ہے۔ لیکن یہ اعتراض جہالت پر مبنی ہے، کیونکہ ہر اہل علم جانتا ہے کہ جب عورت کو تین طلاقیں دی جائیں یا ایک دو طلاقوں کی صورت میں عدت گزر جائے تواب عورت کی اجازت اور مرضی کے بغیر نکاح نہیں ہوسکتا۔ اسی طرح جب عورت نے دوسرے خاوند سے نکاح کرلیا اور اب اس نے طلاق دے دی تو پہلے خاوند سے نکاح کے سلسلے میں بھی عور ت کی مرضی اور اجازت ضروری ہے۔ لہٰذا جب تک عورت اجازت نہیں دے گی اس کا نکاح نہیں ہوسکتا، تو کس طرح اس عمل کو عورت پر ظلم قرار دیا جائے گا۔ عورت کو کون مجبور کرتا ہے کہ حلالہ کرائے اور پہلے خاوند سے دوبارہ نکاح کرے!
خلاصہ:
(۱)…جب عورت کو تین طلاقیں دی جائیں، چاہے تینوں اکٹھی ہوں یا الگ الگ دی گئی ہوں، دونوں صورتوں میں رجوع نہیں ہوسکتا اور نہ ہی وہ خاوند (حلالہ کے بغیر) اس عورت سے دوبارہ نکاح کرسکتا ہے۔
(۲)… اگر اس عور ت نے دوسری جگہ نکاح کرلیا اور پھر اس دوسرے خاوند نے حقوق زوجیت ادا کرنے کے بعد اپنی مرضی سے طلاق دے دی تو اب عدت گزارنے کے بعد پہلے خاوند سے نکاح جائز ہوگا۔ یہ عمل حلالہ کہلاتا ہے اور یہ سب کے نزدیک جائز ہے۔
(۳)… اگر دوسرے خاوند نے اس نیت سے نکاح کیا کہ وہ بعد میں اسے طلاق دے دے گا تاکہ وہ عورت پہلے خاوند کے لئے حلال ہوجائے اور اس کا گھر دوبارہ آباد ہوجائے، لیکن نکاح میں حلالہ کی شرط نہیں رکھی گئی تو یہ صورت بھی جائز ہے بلکہ باعث اجر و ثواب ہے۔
(۴)…اگر دوسرے خاوند سے نکاح اس شرط پر کیا جائے کہ وہ اسے بعد میں طلاق دے دے، تاکہ پہلا خاوند اس عورت سے نکاح کرلے، تو حلالہ کے لئے نکاح کرنے والے اور جس کے لئے حلالہ کیا گیا دونوں پر اللہ تعالیٰ کی لعنت ہے اور یہ عمل حرام ہے۔ لہذا مسلمانوں کو اس سے بچنا چاہئے۔
(۵) …تاہم اگر ایسا کرلیا گیا تو شرط باطل ہوجائے گی اور یہ نکاح صحیح ہوگا اور دوسرا خاوند اسے طلاق دینے کا پابند نہیں ہوگا۔ البتہ اپنی مرضی سے طلاق دے دے تو عورت پہلے خاوند کے لئے حلال ہوجائے گی۔
(۶)… بیک وقت تین طلاقیں دینا بدعت اور ناجائز عمل ہے۔ لہٰذا اس سے بچنا چاہئے اور صرف ایک طلاق دی جائے یا ضروری ہو تو تین طہروں میں ایک ایک کرکے تین طلاقیں مکمل کی جائیں۔
(۷)… اگر کوئی شخص بیک وقت تین طلاقیں دے دیتا ہے تو اگرچہ اس کا یہ عمل حرام ہے اور وہ گنہگار ہوگا لیکن تینوں طلاقیں نافذ ہوجائیں گی۔ انہیں ایک طلاق قرار دینا نہ صرف یہ کہ صحابہٴ کرام، تابعین اور تبع تابعین کے طریقے سے روگردانی ہے بلکہ عورت پر ظلم ہے اور حرام کاری کا دروازہ کھولنا ہے۔
اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں دین کی سمجھ عطا فرمائے، ہٹ دھرمی کی بجائے کھلے دل اور دیانت داری کے ساتھ حق قبول کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔
اسلام کا قانون خلع
اسی طرح کے نازک وقت کیلئے اسلام نے کشمکش کی آخری شکل میں ”خلع“ کی اجازت بخشی ہے، ناجائز فائدہ اٹھانے والوں کے لئے پیش بندی کے طور پر سختی کے ساتھ خلع سے روکا ہے۔ رحمت عالم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:
ایما امرأة سألت زوجھا طلاقاً فی غیر ماباس فحرام علیہ رائحة الجنة۔ (رواہ احمد، مشکوٰة باب الخلع)
جو عورت ذرا ذرا سی بات پر اپنے شوہر سے طلاق کی درخواست کرے اس پر جنت کی بوحرام ہے۔
ایک دفعہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
المنتزعات والمختلعات ھن المنافقات (مشکوٰة باب الخلع)
شوہر سے علیٰحدہ ہونے والی اور خواہ مخواہ خلع کی طالب عورتیں منافق ہیں۔
ان حدیثوں کا منشاء یہی ہے کہ عورتیں خواہ مخواہ اپنے شوہروں سے جدائی کی خواہش نہ کریں، تلذذ کی خاطر ایساکرنا اسلام کے ایک عظیم الشان قانون کو بازئچہ اطلاق بنالیتا ہے۔
لیکن اگر واقعی عورت دیانتداری سے یہ محسوس کرتی ہے کہ اگر خلع کی صورت اختیارنہ کی گئی تو رب العزت کے قائم کردہ حدود باقی نہ رہ سکیں گے، اور عورت کو ظن غالب ہے کہ موجودہ تعلقات دین و دنیا کے لئے مضر ہیں، توایسی مجبوری اور نزاکت کے وقت عورت خلع کے

قانون سے فائدہ اٹھا سکتی ہے۔ ارشاد ربانی ہے:
فان خفتم الا یقیما حدوداللہ فلا جناح علیھما فیما افتدت بہ (بقرہ۔ ۲۹)
سو اگر تم لوگوں کو احتمال ہو کہ وہ دونوں ضوابط خواندی کو قائم نہ کرسکیں گے تو دونوں پر اس میں کوئی گناہ نہ ہوگا، جس کو دے کر عورت اپنی جان چھڑالے۔
عہد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں خلع
گو حدود اللہ کے عدم قیام کی شرط کے ساتھ خلع کی اسلام نے اجازت دی ہے، اس سے پہلے ہرگز اجاز ت نہیں ہے۔ خلع کی مثال عہد نبوی میں موجود ہے، حدیث کی کتابوں میں یہ واقعہ تفصیل کے ساتھ مذکور ہے کہ حبیبہ بنت سہل انصاری ، حضرت ثابت بن قیس بن شماس رضی اللہ عنہما سے بیاہی گئی تھیں، ایک صبح کو سویرے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فجر کی نماز کے لئے کاشانہ نبوی سے نکلے، دروازہ پر پہنچے تو دیکھا کہ ایک عورت کپڑوں میں لپٹی سمٹی ہوئی کھڑی ہے۔ صبح کی تاریکی ابھی باقی تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا آپ کون ہیں؟ آواز آئی یارسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) میں سہل کی بیٹی حبیبہ ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، کیا بات ہے؟
حضرت حبیبہ رضی اللہ عنہا نے کہا۔ نہ تو میں ثابت بن قیس کے ساتھ ہوں اور نہ ثابت میرے ساتھ۔ یعنی ہم دونوں میاں بیوی میں اتفاق اور نباہ کی امید باقی نہیں رہی۔ آپ نے یہ قصہ سن لیا او رنماز کے لئے روانہ ہوگئے۔ حضرت ثابت بن قیس رضی اللہ عنہ جب خدمت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں حاضر ہوئے تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ یہ حبیبہ بن سہل انصاری ہیں۔ اللہ تعالیٰ کو جو منظور تھا اسے آکر انہوں نے یہاں بیان کیا۔ حضرت حبیبہ نے مہر کی واپسی پر بھی اپنی آمادگی ظاہر کردی اور درخواست کی کہ شوہر کا عطیہ موجود ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ثابت سے فرمایا اپنا عطیہ واپس لے لو، یہ سن کر حضرت ثابت رضی اللہ عنہ نے بیوی سے اپنا عطیہ واپس لے لیا اور اس طرح دونوں میں جدائی ہوگئی۔ (موطا امام مالک باب الخلع)
بخاری میں ہے، حضرت ثابت رضی اللہ عنہ کی اہلیہ نے خدمت نبوی ﷺ میں حاضر ہوکر بیان دیا:
یارسول اللہ ثابت بن قیس ما اعیب علیہ فی خلق ولا دین ولکن اکرہ الکفر فی الاسلام
یارسول اللہ (ﷺ) میں ثابت بن قیس کو ان کے اخلاق و دین میں عیب نہیں لگاتی، لیکن بات یہ ہے کہ میں اسلام میں کفر کی بات پسند نہیں کرتی۔
یہ سن کر رحمت عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ تم ان کا باغ واپس کرنے کو تیار ہو؟ ثابت کی بیوی نے اثبات میں جواب دیا۔ یہ معلوم کرکے آپ نے حضرت ثابت رضی اللہ عنہ سے کہا:


اقبل الحدیقة وطلقھا تطلیقة واحدة (زاد المعاد ج ۴ ص ۳۴)
با غ لے لے اور اس کو ایک طلاق دے دے۔
بخاری نے یہ واقعہ جو بیان کیا ہے یہ ہے تو حضرت ثابت ہی کی بیوی کا، مگر حبیبہ کا نہیں بلکہ ان کی دوسری بیوی جمیلہ بنت ابی سلول کا ہے۔ ابن ماجہ میں یہی واقعہ جمیلہ کے نام کے ساتھ مذکور ہے۔
واقعہ یہ ہے کہ حضرت ثابت بن قیس بن شماس رضی اللہ عنہ کوتاہ قد، بدصورت اور تیز مزاج تھے۔ اس لئے کسی عورت کی نگاہ میں سماتے نہیں تھے۔ بعض روایت میں ان کی بیوی کا ان کے باب میں بڑا سخت جملہ ہے۔
حدیث کی کتابوں میں خلع کے اور واقعات بھی مذکور ہیں، یہاں تفصیل مقصود نہیں ہے۔

Monday, December 17, 2012

اگر خا لق کی نا فر ما نی ہو تی ہو تو مخلوق کی اطاعت نہ کر نے کی نصیحت


شریعت کی پیروی کر نا بہت اہم ہے ۔﴿لا طا عة لمخلوق فی معصیة الخالق﴾۔ خالق کی معصیت میں مخلوق کی پیروی نہیں ۔حتیٰ کہ اگر خا وند بھی کوئی ایسا کام کہے جو اللہ تعالیٰ کی نا فر ما نی میں داخل ہوتو ہر گز با ت نہ مانیں ۔ مثلاً اگر خا وند کہے کہ پر دہ اتار دوتو ہر گز نہیں اتار نا ، ہاں خاوند کو کیسے سمجھا نا ہے ،اس کے لئے آپ اللہ والوں سے مشورہ کریں، علماء سے رجوع کریں ۔مگر کو ئی کام خلا ف شریعت نہیں کر نا ، چا ہے ما ں با پ ہو ں، چا ہے کو ئی ہو لا طا عة لمخلوق فی معصیة الخا لق ۔
کئی مر تبہ عورتیں یہ کہتی ہیں کہ جی بس اس نے مجھے دھو کہ د ے دیا اور میں نے کہا چلو میں تو یہ نہ کروں ۔ نہیں … خلاف شریعت کام میں کسی کی کو ئی پر وا نہیں ۔خلاف شر یعت کام میں کسی کا دل ٹو ٹنے کی کو ئی پروا نہیں ۔ آپ اللہ تعالیٰ کو راضی کیجئے ۔ اللہ تعالیٰ لو گو ں کے دلو ں کو خود را ضی فر ما دیں گے ۔ہاں جو کو ئی پریشان ہے کہ ایک طرف خاوند ہے ، ایک طرف ساس ہے ۔ ایک طرف اللہ کا حکم ہے تو اس سلسلے میں مفتی حضرات سے مشا ئخ سے رجو ع کیجئے ۔وہ آ پ کو میانہ روی اور اعتدال کا اچھا راستہ بتا دیں گے ۔ جسں سے آپ کو اس مصیبت سے چھٹکا را ملنا آ سا ن ہو جا ئے گا۔
اپنے میا ں کو کسی نہ کسی صاحب نسبت شیخ کے ساتھ منسلک کر ا نے کی کو شش کیجئے۔ اپنے بچو ں کو ، اپنے میا ں کو ، اپنے گھر وں کے لو گو ں کو کسی نہ کسی صاحب نسبت کے ساتھ جہا ں آپ کا دل ٹکتا ہو ، جہا ں آپ کی طبیعت لگتی ہو ، جہاں دل کے اند ر محبت ہو عقیدت ہو،اپنے گھر کے مردوں کو کسی نہ کسی شیخ کے ساتھ منسلک رکھئے ۔ اس کا یہ فا ئدہ ہو گا کے شیخ کی نسبت سے آپ کا میاں ایک تو نیکی پر رہے گا ، گناہوں سے بچے گا اور دو سرا یہ کہ اگر وہ آپ کے حقوق پو رے نہیں کررہا تو کم ازکم دنیا میں کو ئی تو ایسا ہو گا جو آپ کے میاں کو حقوق پو رے کر نے کی نصیحت کر سکے گا ۔ یہ باتیں کئی مرتبہ اجڑ تے گھروں کے آباد ہو نے کا سبب بن جا تی ہیں ۔ لہٰذا دین کے لئے آپ خود بھی ہر وقت کمر بستہ رہیے ۔ اپنے بچوں کو اور اپنے میاں کو دین کے ساتھ منسلک رکھیے۔ بالخصوص کسی صاحب نسبت شیخ کے ساتھ منسلک رکھنے سے آپ شر یعت کی حفاظت میں آجائیں گی اور آپ کی زندگی کی پر یشانیاں ختم ہو جا ئیں گی ۔یہ چند باتیں ہم نے آپ کو اس لئے سمجھائیں تا کہ آپ کی زندگی خوشگوار بن جائے لیکن یہی ساری شر یعت نہیں ہے بلکہ چند موٹی موٹی با تیں ہیں ، ان کے علا وہ بھی بہت ساری با تیں آ پ اللہ والو ں سے سنیں گی ۔ ان سب کو اپنا لینا چاہئیے۔

Wednesday, December 12, 2012

مشروط نکاح


جب خاوند یا بیوی نکاح کرتے وقت کوئی شرط رکھیں تو اس کی دو صورتیں ہوسکتی ہیں۔
(۱)… وہ شرط عقد نکاح سے ملی ہوئی ہو۔ مثلاً یوں کہے کہ میں تجھ سے اس شرط کے ساتھ نکاح کررہا ہوں کہ تیرے پاس رات نہیں گزاروں گا۔
(۲)… نکاح ، شرط سے معلق ہے۔ یعنی شرط کے پائے جانے پر نکاح کے انعقاد کا دارومدار ہو۔ مثلاً یوں کہے کہ اگر فلاں شخص آیاتو میں تجھ سے نکاح کروں گا۔
ان میں سے پہلی شرط عقد نکاح پر بالکل اثر انداز نہیں ہوتی۔ پھر دیکھیں گے اگر وہ ان امورمیں سے ہے جن کو عقد چاہتا ہے تو وہ شرط بھی نافذ ہوجائے گی۔ مثلاً یوں کہے کہ میں تجھ سے اس شرط پر نکاح کررہا ہوں کہ تو کسی اور کی بیوی نہ ہو یا کسی اور کی عدت نہ گزار رہی ہو، وغیرہ وغیرہ۔
اور اگر اس شرط کو عقد نہیں چاہتا تو پھر یہ شرط لغو ہوجائے گا اور نکاح صحیح ہوجائے گا۔ اس کی مثال یہی زیر بحث مسئلہ ہے۔ مثلاً یوں کہے کہ میں تجھ سے نکاح کررہا ہوں تاکہ تو اس شخص کے لئے حلال ہوجائے، جس نے تجھے تین طلاقیں دی ہیں۔
گویا شرط کسی قسم کی بھی ہونکاح کے انعقاد میں فر ق نہیں پڑتا، جبکہ کوئی دوسری رکاوٹ نہ ہو۔ اس لئے فقہ حنفی کے ضابطہ کے مطابق تحلیل (حلالہ) کی شرط کے باوجود نکاح صحیح ہوجائے گا، البتہ شرط باطل ہوجائے گی اور دوسرا خاوند طلاق دینے کا پابند نہیں ہوگا۔
چنانچہ الفقہ علی المذاہب الاربعہ میں ہے:
لان النکاح لایبطل بالشروط الفاسدة بل یبطل الشرط مع صحة العقد ومما لاشک ان شرط التحلیل لیس من مقتضی العقد فیجب بطلانہ وصحة العقد (عبدالرحمن حریری۔ الفقہ علی المذاہب الاربعہ ۴/۸۰)
کیونکہ نکاح، فاسد شرائط کی وجہ سے باطل نہیں ہوتا بلکہ عقد صحیح ہوجاتا ہے اور شرط باطل ہوجاتی ہے، اور اس میں کوئی شک نہیں کہ حلالہ کی شرط ان امور میں سے نہیں ہے جن کو عقد نکاح چاہتا ہے۔ پس اس (شرط) کا باطل ہونا عقد کا صحیح ہونا ضروری ہے۔
حدیث کا مفہوم
اگر یوں کہا جائے کہ حدیث شریف میں حلالہ کرنے والے اور جس کے لئے حلالہ کیا جائے دونوں پر لعنت کی گئی ہے (جیسا کہ پہلے حدیث گزر چکی ہے) تو اس کے باوجود نکاح کیسے صحیح ہوگا؟
تو اس کا جواب یہ ہے کہ حدیث کی روشنی میں حلالہ کی شرط پرنکاح کا عمل حرام ٹھہرے گا، یعنی نکاح ہوجائے گا اور یہ لوگ حرام کے مرتکب ہوں گے، کیونکہ انہوں نے ایک شرعی حکم کی خلاف ورزی کی ہے۔ ا س کی مثال یوں سمجھئے کہ جمعة المبارک کے دن اذان (پہلی اذان) کے بعد کاروبار چھوڑ کر نماز جمعہ کے لئے تیاری کا حکم دیا گیا ہے۔ ارشاد خداوندی ہے:
واذا نودی للصلوٰة من یوم الجمعة فاسعوا الی ذکر اللہ وذروا البیع (سورہٴ جمعہ ۶۳/۹)
اور جب جمعة المبارک کے دن نماز کے لئے اذان دی جائے تو اللہ تعالیٰ کے ذکر کی طرف دوڑ پڑو اور خرید و فروخت چھوڑ دو۔
لیکن اس کے باوجود اگر کوئی شخص دکان بند نہ کرے اور سودا بیچے تو خریدنے والا اس سودے کا مالک اور یہ اس رقم کا مالک ہوجائے گاجو بطور قیمت وصول کی ہے۔ گویا حرام ہونے کے باوجود سودا ہوجائے گا۔ 

Friday, December 7, 2012

خا وند کے آنے سے پہلے گھر کو صاف ستھرا کرنے کی نصیحت


جب خا وند کے آنے کا وقت ہوتو بیو ی کو چا ہیے کہ اپنے آپ کو صاف ستھرا رکھے ۔ہوتا یہ ہے جب باہر نکلنا ہو تو دلہن کی طرح سج د ھج کے باہر جائیں گی اور خاوند نے جب آنا ہو تو پھر ایسی میلی کچیلی رہیں گی کہ بندے کی دیکھ کر ہی طبیعت خراب ہو جائے ۔ یہ بہت بڑی غلطی ہے ۔ بلکہ جتنی بھی نیک عورتیں گزری ہیں ان سب کی یہ عادت رہی ہے کہ وہ روزانہ اپنے خاوند کے آنے کے وقت پر اپنے آپ کوبنا سنوار لیتی تھیں اور یہ بنانا سنوارنا ان کے لئے عبادت کی مانند ہو جاتا ہے۔ اس کا پتہ نہیں کیوں خیال نہیں کرتیں حالانکہ کتابوں میں بھی یہ بات بہت لکھیں گئی ہے۔
ایک نیک بیوی کے بارے میں آتا ہے کہ وہ ہررات اپنے آپ کو سنوارتی سجاتی اور میاں سے پوچھتی تھی کہ آپ کو میری خدمت کی ضرورت ہے۔اگر وہ کہتے ہاں تو میاں کے ساتھ وقت گزارتی اور اگر وہ کہتے نہیں مجھے نیند آرہی ہے سونا ہے تو وہ مصلے پہ کھڑی ہوتی اور ساری رات اپنے رب کے سامنے ہاتھ باندھ کر گزاردیتی تھیں۔ تو بیوی کو چاہیے کہ اپنے خاوند کے لئے گھر میں بن سنور کر رہے۔ بننے سنورنے کایہ مطلب نہیں ہوتا کہ روزانہ دلہن کے کپڑے پہنے ۔بس کپڑے ہوں، صاف ستھرے ہوں اور انسان نے بالوں میں کنگھی کی ہوئی ہو، چہرہ دھویا ہوا ہو، صاف ستھرا ہو ، خوشبو استعمال کی ہوئی ہو۔اسی کو بننا سنورنا کہتے ہیں۔ تویہ بننا سنورنا عور ت کے گھر کے فرائض میں شامل ہے۔اس میں سستی ہر گز نہیں کرنی چاہیے۔آپ باہر جائیں توسادہ کپڑوں میں جائیں۔باہر زرق برق لباس پہننے کی زیادہ ضرورت نہیں ۔ سادہ کپڑوں میں باہر جائیں گی تو فتنوں سے بچ جائیں گی۔یاد رکھیں لباس کی سادگی عورت کے حسن کی حفاظت کا سبب بن جاتی ہے۔اس لئے دستور بنائیں کہ جب باہر جائیں تو کپڑے صاف ستھرے ہوں مگر سادہ ہوں اور گھر میں ہوں تو پھر کپڑے اپنے خاوند کے لئے جو بھی پہن سکتی ہیں مگر اپنے آپ کو بنا سنوار کے تیار رکھیں۔
ایک مرتبہ نبی علیہ السلام اپنے صحابہ رضی اللہ عنہم کے ساتھ ایک لشکر سے واپس آرہے تھے ۔ مدینہ کے با ہر ہی آپ نے قیام فرمایا۔ حالانکہ گھر بہت قریب تھے اور گھر جا بھی سکتے تھے مگر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ نہیں تم رک جاؤ اور اپنے گھروں میں اطلاع بھجوادو تا کہ بیویاں اپنے آپ کو خاوند ں کے لیے تیار کر لیں۔ تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت سے یہ پتہ چلتا ہے کہ عورتوں کے لیے یہ نبی علیہ ا لسلام کی تعلیم ہے۔ جب عورتوں کو پتہ ہو کہ میاں کے آنے کا وقت ہے تو اس وقت میلے منہ پرمیک ا پ کرنے کے بجاے ذرا صاف ستھری ہو کر رہیں تاکہ نبی علیہ ا لسلام کی سنت کے اوپر ان کو عمل نصیب ہو سکے۔جب خود ہی صاف ستھری نہیں رہیں گی تو کیسے توقع کرتی ہیں کہ خاوند کے دل میں ہماری روز نئی محبت ہونی چاہیے۔ جب خاوند توجہ نہیں کرتے تو پھر روتی پھرتی ہیں کہ
# جی ساری دنیا کے ہوئے میرے سوا
میں نے دنیا چھوڑ دی جن کے لیے
جب آپ نے ان کے لیے دنیا چھوڑدی تو اب اپنے آپ کو ذر ا صاف ستھرا بھی رکھئے تاکہ میاں کا طبعاً” بھی آپ کی طرف محبت کا جذبہ زیادہ ہو جائے۔“