Friday, February 1, 2013

بیوی کے لئے قیمتی نصا ئح

#… تیری ناپسندیدہ حالت تیرے شوہر کو غمگین نہ کرے ،نیک بیوی وہی ہے جوشوہر کی نظر پڑے یااچانک سامنے آجائے تو تیرے چہرے پر مسکراہٹ کے آثار نمایاں ہوں۔
#… خاوند کی اطاعت و فرمانبرداری کرکے اس کو خوب راضی اور خوش کرو، جتنی تم اس کی اطا عت کر و گی اور اس کو خوش رکھو گی اسی قدر وہ آپ کی محبت کو محسو س کر ے گا اور آپ کو بھی خوش رکھنے کی کو شش کر ے گا ۔
# … آپ کے شو ہر سے لغزش ہو جا ئے تو منا سب مو قع اور مناسب طریقہ کو دیکھ کر اس کے ساتھ تبادلہ خیال کر و ۔
# … کشادہ دِل ہو جاؤ شوہر کی طرف سے ہو نے والی منفی با تیں فرامو ش کر دو۔
#… اپنی عقلمندی اور شو ہر کے ساتھ اپنی محبت و تعلق کے ذر یعہ اس کی غلطیوں کی اصلاح کر و ، شو ہر کے جذبا ت مجروح کر نے کی ہر گز کو شش نہ کرو۔
# … اپنے شوہر کے سا منے کسی اجنبی آدمی کی تعریف نہ کرو ، ہاں البتہ اگر کو ئی دینی صفت اس میں ہو تو کو ئی حر ج نہیں۔
# … شو ہر کے متعلق کسی کی بات کی تصدیق نہ کرو۔
# … شو ہر کے سا منے ہمیشہ وہی بات کرو ، جو اس کو پسند ہو اور وہی کام کر و جو اس کی نظر میں اچھا ہو ۔
#… اپنے خا وند کو یہ با ت سمجھا ؤ کہ جب بھی اس کی طرف سے شدت کا اظہار ہو وہ احترام کا دامن ہا تھ سے نہ جانے دے ، کیونکہ یہ شدت ، عارضی اور وقتی ہوتی ہے ۔
#… اپنے خا وند کو باور کر اؤ کہ جب اس (خاوند ) کے والدین یا اعزہ واقربا ء میں سے کوئی بیما ر ہو تو دونوں کو اس کی بیما ر پر سی کر نی چا ہیے ، نہ یہ کہ صرف خاوند ہی اس کی بیما ر پر سی کر ے ۔
#… جب مالی تنگی پیش آئے تو آزردہ خاطر نہ ہو ، اپنے شو ہر کو بتا ؤ کہ اس کو اللہ نے بہت سی خیریں عطا فرمائی ہیں ۔
# … کو شش کر و کہ جب وہ ہنسے تو تم بھی ہنسو اور جب وہ روئے یا غمگین ہو تو تم بھی غم و حزن کا اظہار کر و ۔
# … جب وہ بات کر ے تو پوری تو جہ سے سنو اور خاموش رہو۔
#… اس کے دِ ل میں نہ بٹھا وٴ کہ تم اس سے ہمیشہ فلا ں چیز ما نگتی ہو ، ہا ں اگر اس کے ذ کر کر نے سے وہ خو ش ہوتا ہوتو پھر کو ئی حر ج نہیں ہے ۔
#… ایسی غلطیاں بار بار کر نے سے پر ہیز کر و جس کے متعلق تم جا نتی ہو کہ تمہارا شو ہر ان کو پسند نہیں کر تا یا ان کو دیکھنا نہیں چا ہتا ۔
#… جب آپ کا شوہر گھر میں نفل نماز پڑھے تو تم بھی اس کے پیچھے کھڑی ہو جا یا کرو اور نماز پڑھا کرو اور جب کو ئی علم کی کتا ب پڑھے تو تمہیں بھی بیٹھ کر اس کو سننا چا ہیے ۔
#… شوہر کے سامنے اپنی ذاتی آرزوؤں کے با رے میں زیادہ با تیں نہ کیا کرو۔
#… ہر چھو ٹی بڑی بات میں خاوند کی رائے کو ترجیح دو ، آپ کی اس سے محبت ، اکثر مو قعوں پر اس چیز کو ظاہر کر تی ہو۔
#… شوہر جو راز بیا ن کر ے اس کی حفا ظت کر و، اس کا افشا ء نہ کرو، خواہ آپ کے ماں با پ کا کیوں نہ ہو ، کیونکہ اگر تم اس کے راز کو کھولو گی تو اس کے سینہ میں غصے کی آ گ بھڑک سکتی ہے اور کینہ و عداوت پیدا ہوسکتی ہے ۔
# … کسی پیرا یہ میں بھی اپنا تعلیم یا فتہ اور ڈگر ی ہو لڈر ہونا بیان نہ کر و ، کیونکہ یہ چیز نفرت کا سبب بنتی ہے ۔
# … اپنے شو ہر کے ساتھ نر م انداز میں پیش آؤ ، ورنہ گھر ، با زار والا نقشہ پیش کر ے گا ۔
# … جب گھر میں کشید گی یا نا چاکی پیدا ہو تو گھر چھو ڑ نے کا کبھی نہ کہو ، کیونکہ اس سے اس کے دِل میں آئے گا کہ تم اپنے آپ کو اس سے بے نیاز سمجھتی ہو ۔
# … جب خاوند گھر سے جانے لگے تو اس کے سامنے اپنی آزردگی اور بے چینی کا اظہا ر کرو۔
#… جب کہیں جا نے کا کوئی پروگرام ہواور وہ کسی وجہ سے کینسل کر ے تو اس کے عذر کو قبول کر و ۔
# … اس کے سامنے غیرت کا اظہا ر نہ کرو ، کیونکہ یہ تبا ہی لا نے والا ہتھیار ہے ۔
# … اپنے خاوند سے یوں بات نہ کر و کہ جس سے تم بے قصور معلوم ہو اور وہ قصور والے ۔
# … خاوند کے جذبات کا خیال رکھو، اس کے سامنے اپنے رشتہ داروں کے فضا ئل زیادہ ذکر نہ کرو ۔
#… اپنے خا وند سے جھو ٹ با لکل نہ بولو ، کیونکہ اس سے اس کو سخت تکلیف پہنچے گی ۔
#… اپنے کو یہ با ت ہمیشہ با ور کر اؤ کہ اگر وہ اس سے شادی نہ کر تا تو اسے نہیں معلوم کہ وہ کیا کر تی ؟
#…کبھی ایسی حالت اختیا نہ کرو جو تیرے شوہر کو اچھی نہ لگے بہترین عورت وہ ہے جس پر اُس کے خا وند کی نظر پڑے تو اس کی سعادت ، اچھی حالت اس کی آنکھوں کے سا منے نمایاں ہو۔
#… جب بھی تیری طرف خا وند نظر کر ے تو تیر ے ہو نٹوں پر مسکرا ہٹ نمایاں ہو ۔
#… اپنے شوہر کی نافرماں بردار ی سے اسے بہت زیادہ راضی کر تیری فرما نبرداری کے مطابق ہی تیرا شوہر تیری محبت کاا حسا س کرے گا اور تجھے راضی کر نے کی جلدی کوشش کریگا ۔
#… تیری جو غلطی تیرے شو ہر کے نو ٹس میں آ گئی ہو اس کے تکدر کو دور کر نے کے لیے منا سب وقت اور مناسب طر یقہ اختیا ر کر ۔
#…(بر داشت کے لئے) فراخ دل ہو ( شوہر کے سامنے ) اسکی ان غلطیوں کا زیاد ہ تذکر ہ نہ کر جو اس سے کسی غیر کی خا طر سر زد ہو گئی ہو ں ۔
#…اپنے شوہر کی محبت کی بنا ء پر ہر طرح کی ذہا نت اور عقلمند ی سے اسکی غلطیوں کا تدارک کر اور اس کے احساسات کو مجروح کر نے کی کو شش نہ کر ۔
#… اپنے خا وند کے خلاف غیروں کی با توں کو سچا نہ جان
#… ہمیشہ اپنے شو ہر کے سامنے ایسے کام کر جنہیں وہ پسند کر تا ہو۔اور ایسی با تیں کر جنہیں وہ ہمیشہ سننے کی رغبت رکھتا ہو ۔
#…اپنے شوہر کی طبیعت کو اچھی طر ح سمجھ لے تاکہ اس کے دل میں تیرا احترا م ہو ۔ کسی معاملے میں جب بھی کوئی سخت لہجہ اختیا ر کر تا ہے وہ وقتی ہو تا ہے ۔( یہ نہ سمجھ کہ اس کے دل میں تیرے خلاف کو ئی مستقل جذبہ ہے )
#…جب اس کے سا تھ با ت چیت کر ے تو اس کی کسی مالی تنگی پر کسی قسم کی تنگ دلی کا اظہار نہ کر اور اُس کی طرف سے جو تجھے بہت سی بھلائیاں حاصل ہو ئی ہیں ان کا اُس کے پا س ذکر کر ۔
#…جب بات کر ے تو پو ری طر ح خاموش رہ اور اس کی طرف کا ن دھر (پو ری توجہ دے )
#…بکثرت اُ سے یا د نہ دلا کہ تو نے اس سے ہمیشہ کو ئی طلب کی ہے ۔( مگر وہ حا صل نہیں ہو ئی ) البتہ اسے وہ چیز اُس وقت یا د دلا جب تو جان لے کہ وہ اس کے ذکر سے خوش ہو گا ۔
#…بار بار غلطیا ں کر نے اور ایسے مو قف میں واقع ہو نے سے اپنے آپ کو بچا جسے تیرا خا وند دیکھنا نہ چا ہتا ہو ۔
#…اپنے شو ہر کے سا منے اپنی ذا تی خوا ہشا ت کے با رے میں زیا دہ با تیں نہ کر ۔ بلکہ بکثرت اصرار کر کہ وہ تیرے سا منے اپنی ذاتی خو اہشات کا ذکر کر ے۔
#…ہر چھو ٹے بڑے معا ملے میں اس کی را ئے پر اپنی ر ائے کو مقدم نہ کر بلکہ بعض مواقع میں تو اُسی کی رائے کو اُس سے محبت کی بنا ء پر پیش کر نے میں پہل کر ے ۔
#…اس کی اجا زت کے بغیر کو ئی نفلی روزہ نہ رکھ اور اُس کے علم کے بغیر اُس کے گھر سے با ہر نہ نکل ۔
#…جو راز کی با ت وہ تیر ے سامنے بیان کر ے اسے یا د رکھ اس کی حفا ظت کر اور اسے اپنی ماں اور باپ کے پاس بھی ظا ہر نہ کر اس لئے کہ یہ بات اُس کے سینے کو غصے
سے تیرے خلاف بھڑکا دیگی ۔
#… اس انداز کے ساتھ اپنے شوہر سے بات نہ کر گویا تو معصوم ہے اور وہ گنہگار آدمی ہے۔
#… اپنی اولاد کو بات کرنے میں سچائی اور عمل میں اخلاص کا عادی بنا۔
# … تو اکیلی کھانا نہ کھا۔بلکہ ہمیشہ اپنی اولاد کے درمیان بیٹھ کر کھاناکھا۔
# … اپنی اولاد کو صفائی پسند کرنے کا عادی بنا۔ اور انہیں یاد دلا کہ صفائی کے ساتھ ہی وہ ایمان کی صفت سے متصف ہوں گے۔
#… اپنی اولاد کے سامنے گالی گلوچ
لعن طعن یا حقارت آمیز کلمات نہ بول اس لئے کہ وہ تیرے تمام الفاظ اپنے ذھن میں جمع کر لیں گے یاد کر لیں گے۔
#… ایسی باتوں سے پرہیز کر جس کے بعد اس کی معذرت پیش کرنی پڑے اور انتہائی طور پر فضول اور بکثرت باتوں سے دور رہ ۔ اپنے پروردگار کے اس ارشاد کو یاد رکھ؛
﴿لاخیر فی کثیرمن نجو ھم الا من امر بصد قةاو معروف اواصلاح بین النا س﴾(النساء
۱۱۳)
ان کی اکثر سر گو شیو ں میں کوئی بھلائی نہیں ہے البتہ جس شخص نے صدقے ،کسی نیکی یا لو گو ں کے درمیا ن اصلاح کا حکم دیا ۔(اس میں بھلائی ہے )
#…ہر سنی سنا ئی بات کو (بلا تحقیق )بیان کر دینا پر ہیز گا رموٴ من عو رتوں کی عا دت نہیں ہے ۔اس لئے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فر ما یا ہے :
آد می کے گناہ کے لئے اتنا ہی کافی ہے کہ وہ ہر سنی سنا ئی کو بیا ن کرتا پھر ے“۔
(مسلم۔ مقدمہ وابو داود حدیث نمبر
۹۹۲ ۴ )
#…اس بات کی حرص کر کہ تیرے منہ سے اچھے کلمات ہی نکلیں۔ اس لئے کہ جو تو کہنا چا ہتی ہے اس کا وزن کیا جائیگا ۔اسکی قدروقیمت متعین ہو گی۔
# … اپنی ذمہ داریو ں سے غافل جاہل عورتوں کی صحبت اختیارنہ کر ۔
#… موٴمن عورت اپنی بہنوں کے عذر قبول کر تی ہے ۔اور منا فق عورت اپنی بہنوں کی لغزشیں تلا ش کر تی ہے۔
#… ایسی عورت کی صحبت اختیار کر جس سے تو اپنے معاملے میں سلا متی پاتی ہے اسکی صحبت تجھے نیکی پر ابھا ر یگی۔ اور اس کا دید ار تجھے اللہ تعالیٰ کی یاد دلائیگا۔
# … جو عورت تجھ سے بات کر رہی ہو اُسے پور ے شوق کے ساتھ غور سے سن ۔ جب تو اس سے بات کر ے تو اس سے اپنی نظر نہ پھیر ۔ کسی سبب سے با ت بھی کر نے والی کی با ت کو قطع نہ کر ۔ اگر تو کسی معا ملے میں قطع کلا می پر مجبو ر ہو تو با ت کر نے والی کو نر می اور سکو ن کے سا تھ آگاہ کر دے۔
#… جھو ٹ ، غیبت ،چغل خور ی ، مز اح اور مسلمان عورتوں کے سا تھ ٹھٹھے مخول سے بچ ۔
# … بر ی با ت اور بے حیا ئی کی بات سے پر ہیز کر ۔
# … اپنے عمل اور اپنے نفس کے ساتھ تکبر اور گھمنڈاختیا ر نہ کر ۔
#… مسلمان عورتوں کے چھو ٹے بچوں کو اپنی اولاد سمجھ ۔ درمیا نی عمر کی بچیوں کو اپنی بہنیں اور بڑی عمر والی عورتوں کو اپنی مائیں سمجھ ۔ اپنی اولاد پر رحم کر نا تجھ پر لازم ہے ۔ اپنی بہنوں سے صلہ رحمی کر اور اپنی ماؤں کے سا تھ احسا ن کر ۔
# … اپنی اولاد کو جنت کی تر غیب دے ۔ بیشک جنت میں وہی داخل ہو گا جس نے نماز اور رو زے ادا کئے اپنے ماں با پ کی فرما ں بر داری کی جھو ٹ نہ بولا اور کسی پر حسدنہ کیا ۔
# … اپنی بیٹیوں کو بچپن ہی سے پرد ے اور شرم و حیا کی رغبت دلا ۔ انہیں چھو ٹے تنگ کپڑے اور اکیلی پینٹ یا شرٹ ( قمیص ) پہننے کی عا دی نہ بنا تا کہ وہ بچپن ہی میں دوسرے بچوں کی نسبت اپنی خصو صیت کو پہچان لیں ۔
# … سا ت سال کی عمر میں ہی اپنی بیٹیوں کو اوڑھنی پہننے کی عادی بنا ۔
#… اپنی اولاد میں سے جس کو تو دیکھے کہ با ئیں ہا تھ سے کھا تا یا پیتا ہے اُسے اس سے روک دے ۔(اور دا ئیں ہا تھ سے کھا نے پینے کی تعلیم دے )
#… اپنی اولاد کوناخن ترا شنے اور کھا نے سے پہلے اور بعد میں دونوں ہا تھوں کے دھو نے کی نصیحت کر نا نہ بھول۔
# … موٴ من عورت با تیں کم اور عمل زیادہ کر تی ہے ۔ منا فق عورت با تیں زیادہ عمل کم کر تی ہے ۔
# … چا ہئے کہ تو تین طر یقوں سے اللہ تعالیٰ سے شرم و حیا کا حق ادا کر ے ۔ اللہ تعالی کے احکا م پر عمل کر تے ہوئے ، ا س کی ڈانٹ سے اپنے آپ کو بچا تے ہو ئے ، لوگوں سے ان کی تکلیف دور کر تے ہو ئے ، اپنے نفس کی پا کدامنی اور اپنی تنہا ئی میں حفاظت کر تے ہو ئے ۔
#… دوسری عورتوں کے نزدیک قدروقیمت میں زیادہ کم وہ عورت ہے جو علم دین میں ان سب سے کم ہو ۔
#… تین خصلتوں کے بعد شر مندگی لا حق نہیں ہو تی ۔ دیانت داری ، پاکدامنی اور کام کر نے سے پہلے سوچ بچا ر۔
#… عو رت کی قدرو قیمت اس کی جسمانی خو بیوں میں نہیں ہے ۔ بلکہ اس کی قدرو قیمت دینی خو بیوں میں ہے ۔
# … کسی بَد عادت عورت کے ساتھ بیٹھے سے تیرا تنہا بیٹھے رہنا بہتر ہے۔
#…سچی بات کرنا، لوگوں کے ساتھ حسنِ اخلاق سے پیش آنا، صلہ رحمی،امانت کی حفاظت، ہمسائی کے حق کی حفاظت، سوال کرنے والی کو عطا کرنا، احسان کرنے والی کو بدلہ دینا ، ملاقات کے لئے آ نے والی کی عزت کرنا، احسان کرنے والی کو بدلہ دینا، ملاقات کے لئے آنے والی کی عزت کرنا، عہد پورا کرنا اور شرم و حیا یہ سب عمدہ اور کریمانہ اخلاق و عادات ہیں۔
# …مسلمان عورت اپنے ماں باپ کی اطاعت اور اپنی بہنوں کی مدد کرتی ہے۔
# …مسلمان عورت سچ بولتی ہے جھوٹ نہیں بولتی۔
#… مسلمان عورت اپنی بیمار بہن کی زیارت کرتی ہے اور اپنی محتاج بہن پر سخاوت کرتی ہے۔
بہت قیمتی نصیحتیں
#… اگر تو خشوع کی توفیق چا ہتی ہے تو فضو ل نظر با زی سے دور رہ ۔
#…ا گر تو دانائی کی تو فیق کو پسند کر تی ہے تو فضول با توں کو چھو ڑدے۔
#… اگر تو اپنے عیبوں سے باخبر ہو نے کی تو فیق چا ہتی ہے تو دوسرے کے عیبو ں کی ٹوہ لگا نا چھو ڑ دے ۔
#… جو تجھ پر زیا دتی کر ے اس پر بردبار ہو جا ۔
# … بہت سخی عورت وہ ہے جو کسی کو مال عطا کر کے صرف اللہ ہی سے اس کی جزا ء چاہتی ہے ۔
#… بد کر دار عو رتو ں کی ساتھی نہ بن ،وہ تجھے کھا نے کے ایک لقمے یا اس سے بھی کم قیمت پر بیچ دے گی ۔
#… بخیل عورت کے ساتھ نہ بیٹھ جس ما ل کی تو محتاج ہے وہ اسے اپنے مال میں ملا لے گی ( تجھے بھی اللہ کی راہ میں خرچ کر نے سے رو ک دے گی )
# … جھو ٹی عو رت کی محبت میں نہ رہ وہ فر یب نظر کے در جہ میں ہے ۔وہ قریب کو تجھ سے دور کر دیگی اور بعید کو تجھ سے قریب کر دیگی ۔
#… احمق عورت کے پا س نہ بیٹھ اس لئے کہ وہ تجھے فائدہ پہنچانے کے ارادے کے باوجود نقصان پہنچادیگی ۔
#… احسان جتلا نے والی کی سا تھی نہ بن کہ وہ ہمیشہ اپنی مالی بر تر ی سے تجھے تنگ کرے گی ۔
# … کسی مکا ر عورت کے ساتھ نہ بیٹھ اس لئے کہ اُس کے پیش نظر اپنا ہی نفع ہوتا ہے ۔
#… کسی بد دیانت عورت کی سا تھی نہ بن کہ جس طرح اُس نے تیرے غیر کے سا تھ خیا نت کی ہے اسی طر ح تیرے سا تھ بھی خیا نت کرے گی۔
# … دورخے پن اور دو زبا ن والی عورت کی سا تھی نہ بن ۔
# … ایسی عورت سے بھی صحبت نہ رکھ جو تیرے راز کو نہ چھپا ئے ۔
#… مصیبت زدہ مسلما ن عورتوں سے ان کی تکلیف کو دور کر نا ۔
# … محتاج مسلمان عورتوں کے قرض ادا کر نا ۔
# … کھانا کھلا نا اور بھو کی عورتوں سے ان کی بھو ک دور کر نا ۔
#… اپنی ایما ندار بہنوں کی حا جتیں پو ری کر نے میں جلد ی کر نا ۔
# … راستوں سے تکلیف دہ چیز کے ہٹا نے میں سستی نہ کر ۔
# … علم حا صل کر اور دوسری مسلمان عورتوں کو تعلیم دے ۔
# … تجھ پر بھلا ئی کا حکم دینا اور برا ئی سے روکنا لا زم ہے ۔
#… سنتیں اور نو افل ادا کر نے پر ہمیشگی اختیا ر کر ۔
# … اپنے رشتہ دا روں سے ملا قات تجھ پر وا جب ہے اگر چہ وہ تجھ سے قطع تعلق کریں ۔
#… اپنے فو ت شدہ افرادا ہل خانہ کو اپنی دعا میں یاد رکھ۔
# … دو سروں کے سا تھ نیکی اور تقویٰ کے کاموں میں تعاون کر ۔
# … جو تجھ پر ذمہ داریاں ہیں انہیں پوری دیا نت داری اور عمدگی سے ادا کر ۔
# … اپنی مسلمان بہن کے سا منے مسکرا کہ یہ صدقہ ہے۔
#… دنیا دار عو رتوں سے میل جو ل نہ رکھ ۔
#… اپنے رب کے عذاب و سزا سے ڈرنا تیری عادت ہونی چا ہےئے ۔
# … اپنے ماں باپ کے احسان کر نے والی بن ۔
#… دنیا میں عورت کی بد بختی کی چار علا متیں ہیں :
دل کی سختی ، آنسو ؤ ں کا خشک ہو جا نا ،(یعنی خوف الہیٰ سے آنکھو ں میں آنسو نہ آنا) لمبی آرزو اور دنیا کی حرص ۔
#… جان لے کہ ہر چیز میں سو چ بچار کے لئے ٹھہر اؤ بہتر ہے مگر آخرت کے معاملے میں تاخیر بہتر نہیں ہے (کہ ابھی وقت ہے پھر یہ عمل کر لو نگی)
# … یاد رکھ کہ بچے ،بو ڑھے ،بیو گان اور مسا کین صدقات کے سب لوگو ں سے زیادہ حق دار ہیں ۔
# … ہر عمل کو ختم کر نے پر اپنے رب سے دعا کر کہ وہ تیرا عمل قبول کر لے ۔
﴿ والحمد للہ رب العالمین ﴾ 

Friday, January 25, 2013

خا وند کے سامنے ہر وقت تر و تازہ رہنے کی نصیحت

عورتو ں کے اند ر ایک عادت یہ دیکھی گئی کہ گھر کے اندر میلی کچیلی بن کر رہیں گی اور با ہر دیکھو توبن سنورکے نظر آئیں گی ۔ یہ بہت بڑی غلطی ہے ۔ دنیا نے آپ کو محبتیں نہیں دینی خاوند نے محبت دینی ہے ۔ اس لئے عورت کی ذمہ داریوں میں سے بڑی ذمہ داری یہ ہے کہ مر د کی عمرجو انی کی ہو یا بڑھا پے کی عورت ہمیشہ گھر کے اندر صاف ستھری رہے ۔ یہ ضروری نہیں کہ ہر وقت دلہن ہی بن کر رہے ۔ مگر صاف ستھرا رہنا تو ایک اچھی عادت ہے۔ میلا کچیلا بندہ تو کسی کو بھی اچھا نہیں لگتا ۔ تو صاف ستھری بن کر رہے اور خوش اخلاق خوش مزاج بن کر رہے ۔
مرد کی پٹڑی کیوں بدل جا تی ہے ؟
اب یہی وہ نکتہ ہے جہاں پہ آکر مرد کی پٹڑی بدل جا تی ہے کہ مرد چو نکہ خود پریشان ہوتا ہے اپنے کام اور کاروبا ر کی وجہ سے گھر میں جب آتا ہے تو اس کو بیوی با سی اور میلے منہ کے ساتھ بیٹھی نظر آتی ہے ۔ اب اس کا دیکھنے کو دل نہیں کر تا ۔ وہی مرد جب دفتر میں جا تا ہے تو اس کو کام کرنے والی لڑکی نہا ئی دھو ئی اچھے کپڑے پہنی مسکرا تی نظر آتی ہے ۔ اب اس کا رنگ گو را ہے یا کالا ہے ۔ وہ جیسی کیسی ہے اب اس کے خاوند کو وہ اچھی لگنے لگ جا تی ہے ۔ اور اگر گھر میں بیوی جھگڑے والی ہے اور وہ پریشان حال ہو کر گھر سے نکلا اور دفتر میں کسی ایسی بد کردار لڑکی نے اس کی طرف مسکرا کر دیکھ لیا ۔ اور پو چھ لیا سر آج آپ بڑے پریشان نظر آتے ہیں ۔ تو بس سمجھ لو مرد کی پٹڑی بدل گئی ۔ اس بدکردار لڑکی کا ایک فقرہ دوسری عورت کی سار ی زندگی کو تباہ کر دیتا ہے۔ اس لیے کہتے ہیں کہ ہمیشہ عورت کے حق پر عورت ہی ڈا کہ ڈا لتی ہے ۔مگر اس ڈاکے میں عورت کا اپنا بھی قصور ہے ۔ اس کو چا ہیے تھا کہ گھر میں خا وند کو سکو ن دیتی ،خو شیا ں دیتی ،صاف نظر آتی ، اس کے اندر دل کشی ہو تی ۔جب اس نے خود ہی اسی چیزکو نظر انداز کر دیا تو گویا اس نے خاوند کو مو قع دیا کہ یہ دو سری لڑکی کی طرف متوجہ ہو جائے۔ایسی عو رتیں میلی کچیلی رہتی ہے وہ بیچاری شا دی شدہ بیوہ ہو تی ہے ۔ خاوند ان کی طر ف دھیان ہی نہیں کر تے ۔
جو سمجھ دار عورت ہو تی ہے وہ سمجھتی ہے کہ میری ذمہ دا ریوں میں سے جیسے یہ ہے کہ میں نماز ادا کروں ، میرا ما لک حقیقی خو ش ہو گا ایسے ہی میرے فر ائض میں سے ایک فر ض ہے کہ میں صاف ستھر ی رہوں کہ میرا خاوند مجھ سے خوش ہو ۔ اب دیکھو بندہ صاف ستھرا بھی ہے اور اچھا بھی رہے اور اوپر سے خا وند بھی خو ش ہو اس کوکہتے ہیں ۔ نور علیٰ نور۔ تو اگر آ پ کے صاف ستھرا رہنے سے مرد آپ کی طر ف متوجہ ہو تا ہے تو اور آپ کو کیا چا ہیے ۔ اس لئے جو عورت صاف ستھری رہتی ہے ، خوش مز اج رہتی ہے اور کھلے چہر ے کے ساتھ خا وند کا استقبال کرتی ہے ۔ وہ ہمیشہ کے لئے خا وند کی آنکھ کی پتلی بن جا تی ہے ۔ کچھ عقل بھی استعمال کر نی چا ہیے ۔
بر مو قع اور بر محل با ت شو ہر کے دل کو متا ثر کر تی ہے
عقل مند بیو یاں ہمیشہ اپنے خاوند وں کے دلوں کو جیتتی ہیں ۔ با ت اتنے اچھے انداز سے ، بر مو قع اور بر محل کر تی ہیں کہ خاوند کے دل میں اتر جا تی ہیں ۔ اس لئے ایک شا عر نے عر بی کے شعر میں کہا جس کا تر جمہ کچھ یو ں بنتا ہے ۔
سلمٰی کی با تیں ٹوٹے ہو ئے ہا ر کے موتیوں کی طرح ہو تی ہیں
تو اس کا مطلب یہ ہے اس کو اپنی محبوبہ کی با تیں ایسی لگتی ہیں جیسے ٹو ٹے ہو ئے ہا ر کے جو مو تی ہیں جو جھڑ رہے ہیں ۔ لہٰذا بیوی کی خو بصورت انداز میں کی ہو ئی بات مرد کو متاثر کرتی ہے ۔
ہا رون الرشید ایک مر تبہ کھا نا کھا کر فا رغ ہو ا ۔ اس کا خیال بنا کہ کھا نا کھا یا ہے ذرا با ہر نکلتے ہیں ۔ تو اس نے اپنی بیوی سے کہا کہ چلو چا ند نی رات ہے ذرا با ہر چل کر چہل قدمی کر لیتے ہیں ۔ بیوی کہنے لگی کی امیر المو منین ! آپ دو سوکنیں جمع کر کے کیو ں خوش ہو ں گے ۔ کہنے لگا ، کیا مطلب ؟ کہنے لگی ایک طرف میرا چہرا ہو گا ایک طرف چا ند ہو گا ۔ دو سو کنوں کو آپ کیسے جمع کر یں گے ۔ تو با ت سن کے ہا رون الرشید خوش ہوگیا ۔اس طر ح بیوی ایسی عقل مندی کی با تیں کر سکتی ہے کہ جس سے خا وند کے دل میں اس کی اور زیادہ محبت پیدا ہو جائے ۔
ایک مر تبہ ہارون الرشید نے بیوی کو بتا یا کہ دیکھو سو رج گرہن لگ گیا ۔ وہ … دیکھو ۔ دیکھ کر کہنے لگی کہ حقیقت یہ ہے کہ جب سورج نے میر احسن دیکھا تو آگ بگو لہ تھا اور آگ بگولہ ہو کر اس نے پردہ کر لیا اس لئے آج اس کو گہن نظر آ رہا ہے ۔ اب ہیں تو یہ الفاط ہی مگر الفاظ ہی تو دوسرے کے دل کو خوش کر دیتے ہیں ۔
کہتے ہیں کہ زیب النسا ء مخفی جو بڑی شا عرہ بھی تھی اور وقت کی شہزادی بھی تھی ۔ ایک مر تبہ با غ کے اند ر چہل قد می کر رہی تھی تو اس کا منگیتر عا قل خان وہ بھی کہیں سے اس طرف کو آنکلا ۔ اس نے کیا کیا کہ چند پھو ل تو ڑے اور ان کا گلدستہ بنا کر اس نے زیب النسا ء کو تحفہ پیش کیا ۔ اب یہ شا عر ہ تھی تو جب اس نے یہ گلدستہ لیا تو شعر کہنے لگی ۔
# بگواے عا شق صادق چرا گلدستہ آ وردی
دل بلبل شکستہ زہر ما گلد ستہ آ وردی
بتا ؤ عا شق صادق ! تم نے مجھے جو گلدستہ پیش کیا تو تم نے میرا دل خوش کیا ۔ لیکن بلبل کے دل کو تو تم نے توڑ دیا
کہ پھو ل تو ڑنے سے بلبل کا دل افسردہ ہو تا ہے ۔ تو کیسا اس نے اچھو تا انداز اپنا کر بات کہی کہ اے عاشق !تو نے مجھے گلدستہ پیش کیا میرا دل خوش کر نے کے لیے مگر تو نے بلبل کا دل تو توڑ دیا ۔ تو عا قل خان آگے سے کہنے لگا ۔
# بر ائے زینت دستک نہ ایں گلد ستہ آوردم
بخو بی با تو می زد گل پیشک بستہ آو ردم
کہ اے نا زنین ! میں نے آپ کے ہا تھو ں کی زیب و زینت کے لئے گلد ستہ پیش نہیں کیا بلکہ آپ کی مو جو د گی میں یہ پھو ل اپنے حسن و جمال کا دعویٰ کر رہے تھے ۔ لہٰذا میں نے ان قیدیوں کو جگڑ کر آپ کی خد مت میں پیش کر دیا
اب دیکھو ہے تو با ت ہی لیکن اس با ت سے اس کا دل کتنا خو ش ہو ا ہو گا ۔ تو عورت کو چا ہیے کہ کچھ عقل سمجھ سے کا م لے ۔ پر وردگا ر نے اسی لئے تو عقل دی ہو تی ہے ۔ عقل سے فا رغ ہو کر سو چنا کہ خا وند خود ہی مانے یا خا وند کو کوئی مجھ سے منا دے ۔ یہ کیا بات ہو ئی۔
ایک دفعہ حضرت علی رضی اللہ عنہ اور حضرت فا طمہ رضی اللہ عنہا اکٹھے بیٹھے ہو ئے تھے ۔ کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے مذاقاً یہ شعر پڑھا ۔
# ان النسآ ء شیا طین خلقن لنا
نعو ذ باللہ من شر الشیاطین
بے شک عورتیں گو یا شیطا ن کی طر ح ہیں جو ہما رے لئے پیدا کی گئی ہیں ۔ ہم شیطا ن کے شر سے اللہ کی پنا ہ چا ہتے ہیں
حضرت فا طمہ رضی اللہ عنہا نے جب یہ شعر سنا تو انہوں نے بھی آگے سے یہ خوش کن جواب شعر کی صورت میں دیا ۔
# ان النسآ ء ریا حین خلقن لکم
وکلکم یشمی شید الر یا حین
بے شک عورتیں تو مہکتے ہو ئے پھو ل کی طرح ہیں جو تمہارے لئے پیدا کی گئی ہیں ۔ اور تم میں سے ہر ایک پھو لوں کی خو شبوں کو سو نگنے کا متمنی ہوتا ہے
تو دیکھیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے کس طر ح ان سے خوش طبعی فرمائی اور حضرت فا طمہ رضی اللہ عنہا نے کتنا خو بصورت جو اب دیا۔
اس لئے با ت کر نے کا انداز بھی کوئی ہونا چا ہیے ۔ اے حسین عورت ! اگر اللہ تعالیٰ نے تجھے حسن عطا کیا ہے تو بدکلا می سے اپنے چہرے کو نہ بگا ڑا کر ۔ اور اے بد صورت عورت ! اگر اللہ نے تجھے حسن سے محروم کیا ہے تو بد کلا می کے ذر یعے اپنے اندر دو سرا عیب نہ پیدا کر ۔ 

Thursday, January 17, 2013

بیوی کو اپنے اند ر صبر و تحمل پیدا کر نے کی نصیحت

عورت کے اندر صبر و تحمل بہت ہو نا چا ہیے ۔ اس لئے عورت کو گھر والی کہا جا تا ہے کہ گھر کی بنیا د ہو تی ہی عورت کے اوپر ہے ۔ ہمارے بڑوں نے کہا کہ عورت اگرگھر آباد کر نا چا ہے تو گھر آ بادرہتا ہے اور بر باد کرنا چا ہے تو بر با د ہو جا تا ہے ۔ مرد اگر کلہاڑا لے کر بھی بنیا دیں گرانا چا ہے تو نہیں گرا پا تا ، عورت اگر سو ئی لے کر بھی بنیا دیں گر انا چا ہے تو مرد سے پہلے گھر کی بنیا د یں گر ادیتی ہے ۔ تو اس لئے اس کے اندر صبر و تحمل ہونا چاہیے ۔ اگر کبھی کوئی بات خلا ف طبیعت ہو بھی جا ئے تو یوں سو چے کہ صبر کر نے والے سے اللہ تعالیٰ محبت کے مو ڈ میں آئے گا کہ عورت سمجھے گی کہ زیاد ہ محبت کرتے ہیں ۔﴿ولربک فاصبر﴾ اللہ کے لئے صبر کر لو۔ تو میں اس بات پر صبر کرتی ہوں ۔ اللہ سے اجر کی امیدوارہوں ۔ تھو ڑی دیر یہ صبر کر ے گی تو وہی خا وند جس نے کوئی نا گوار بات کر دی تھی وہ اتنی محبت کے مو ڈ میں آئے گا کہ عورت سمجھے گی کہ اس سے زیادہ محبت کر نے والا دنیا میں کوئی نہیں ہو سکتا ۔ آخر انسان ہے اور اس کے اند ر بھی احسا سات اور جذبات ہیں ۔ کسی وقت اگر غصے میں آگیا تو کیا ہوا۔اکٹھا رہنے سے اگر بے جان بر تن بج سکتے ہیں تو پھر جاندار انسانوں کا بجنا تو کوئی اتنی بڑی بات نہیں ہے ۔ ممکن ہے ایک خوشی کے موڈ میں ہو اور دوسرا اس وقت کسی اور موڈ میں ہو ۔ ایک نے بات کسی انداز سے کہی اور دوسرے نے اس کو کسی اور انداز سے سمجھا ۔ تو غلط فہمیوں کا ہو جا نا کو ئی اتنی بڑی بات نہیں ہے ۔ ایسے معاملے میں اگر صبرو تحمل ہو تو زندگی اچھی گزرتی ہے ۔ اور اگر صبرو تحمل نہ ہو اور انسان فو ری ردعمل ظاہر کر ے تو اس جیسا براانسان کوئی نہیں ہو تا ۔ بس ذراسی با ت ہو ئی غصے کی آگ فو راً بھڑک اٹھی ۔ دو سرے کی بات سمجھنے کی بجا ئے بس اپنی زبان سے کچھ بولنا شروع کر دیا ۔
غلطی کو مان لینے میں عظمت ہے اور خا مو شی میں عا فیت ہے
غلطی کو مان لینا عظمت ہے ۔ اگر ایسی بات ہے کہ خاوند کہہ رہا ہے کہ تمہا ری غلطی ہے تو اتنا ہی کہہ دیں کہ ہاں میری غلطی ہے ۔ اس سے کیا ہو جائے گا ۔غلطی کو تسلیم کر لینے میں عزت ہو تی ہے ۔ یہ ہتک نہیں ہو اکر تی ۔ خاوند ہی ہے نا ، خا وند کے سامنے ہی آپ کہہ رہی ہیں کہ جی غلطی ہو گئی ، تو کیا ہو ا۔ یا اگر خا وند نے کوئی بات کر دی تو آپ اس کے جواب میں فورًابولنے کی عادت نہ ڈالیں ، تر کی بہ ترکی جو اب دینا گھروں کے اجڑ نے کا ذریعہ بن جا تا ہے ۔ یا د رکھنا کہ چپ رہنا بھی ایک جواب ہے ۔ کئی مقامات پر خاوند کی با ت سن کے چپ رہنا ، اس سے خا وند کو اس کا جواب مل جا تا ہے ۔ بعض مر تبہ الفا ظ کی بجائے خا مو شی میں زیادہ وضا حت ہو تی ہے ۔ جب خاموشی اور اعتراف کی بجائے دفاع شروع ہو جا ئے تو یہ سمجھئے کہ جنگ کا بگل بج گیا ۔
ایک میاں بیوی میں اکثر جھگڑا ہو تا تھا اور ہوتا بھی اسی طرح کہ خا وند جب گھر آتا تو وہ آتے ہی کہتا یہ کیوں ہو ا اور وہ کیوں ہو ا۔ اور بیوی آگے سے جو اب دینے لگ جا تی اور اسی وقت سے جھگڑا شروع ہو جا تا ۔ چنانچہ بیوی کسی اللہ والے کے پاس گئی کہ جی گھر میں جھگڑا بہت ہوتا ہے ، کوئی تعویذ دے دیں ۔ انہوں نے پا نی دم کر کے دے دیا اور کہا کہ جب تمہا را میاں گھر میں داخل ہو اس پانی کو پا نچ دس منٹ تک منہ میں رکھنا ، ان شا ء اللہ جھگڑا نہیں ہو گا ۔ اب وہ جب بھی آتا بیوی پا نی کو گھو نٹ بھر کے منہ میں رکھ لیتی اور خا وند کا پا نچ دس منٹ میں غصہ اتر جا تا پھر خاوند پیا ر کے موڈ میں آجا تا اور میاں بیوی کی اچھی زندگی گزرتی۔چنانچہ دم شدہ پا نی نے گھر کے جھگڑوں کو ختم کر دیا ۔ 

Friday, January 11, 2013

بیوی کو خا وند سے عزّت کے صیغے میں بات کرنے کی نصیحت


بیوی کیلئے ضروری ہے کہ خا وند کے ساتھ بات ہمیشہ نر م لہجہ میں کی جا ئے اور عزت کے صیغے میں کی جائے ۔ اس لئے اللہ تعالیٰ نے اس کو گھر کا قوام بنایا عورتوں کے قوام ۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :
﴿ الرجال قوامون علی النسا ء ﴾ ( النسآ ء : ۳۴
مرد عورتوں کے سر پر ست و نگہبان ہیں
اور فرمایا :
﴿وللرجال علیھن درجة ﴾ ( البقرة : ۲۲۸)
اور مر دوں کو عورتوں پر ایک درجہ حا صل ہے
اب جب اللہ تعالیٰ نے تر تیب ایسی بنا دی تو اللہ کی بند یا ں اس با ت پر را ضی ہو ں خو ش ہو ں کہ اللہ نے ہما رے میا ں کو ہما را سردار بنا یا ، ہمارا بڑا بنایا۔ یہ بھی اس کو بڑا بنا کر رکھے ۔ اللہ تعالیٰ کی تر تیب پر راضی رہے گی تو اس کا اپنا دنیا کا بھی فا ئدہ آخرت کا بھی فا ئدہ ۔ مگر دیکھا یہ گیا ہے کہ عورت اگر پڑھی ہو ئی زیادہ ہے یا سمجھ دار زیا دہ ہے، عقل مند زیادہ ہے تو یہ پھر خا وند کے سا تھ حا کمانہ لہجے میں بات کر نے لگ جا تی ہے ۔ جیسے آ رڈر پا س ہو رہا ہو تا ہے ۔ یہ ایسے اس کے سا تھ ڈیل کرنا شروع کر دیتی ہے اور یہ چیز پھر خا وند کے دل میں نفرت پیدا کر دیتی ہے ۔ عورت حسن میں زیا دہ ہے ، تعلیم میں زیادہ ہے ، عقل میں زیا دہ ہے ، مال میں زیادہ ہے مگر درجہ پروردگار نے خاوند ہی کا رکھا ۔ اس کو چا ہیے کہ اپنے خا وند سے نرم لہجے میں گفتگو کر ے عزت کے لہجے میں گفتگو کر ے ۔ ”تو“ کی بجا ئے ”آپ“ کے لہجے میں گفتگو کرے ۔ جب یہ عزت کے ساتھ اس کا نام لے گی تو یہ چیز خاوند کے دل میں محبت کو بڑھا دے گی ۔
چنا نچہ صحا بیات کے با رے میں آتا ہے کہ جب وہ اپنے خا وند کی بات نقل کر نے لگتی تھیں۔ تو کہتی تھیں ۔ ﴿حدثنی سیدی ﴾ میرے سردار نے یوں کہا ۔ اب اندازہ لگا ئیے اگر صحا بیا ت اپنے خا وندوں کے بار ے میں یہ لفظ استعمال کر سکتی ہیں ۔ ﴿حد ثنی سیدی﴾ میرے سردار نے مجھ سے یہ بات کہی ۔ تو پھر آج کی عورت کو کم ازکم ” آپ “ کے لفظ کے ساتھ تو گفتگو کر نی چا ہیے ۔

Tuesday, December 25, 2012

انگلینڈ میں پڑھنے والی پاکستانی لڑکیوں کی حالت زار


انگلینڈ سمیت دنیا کے دیگر ممالک میں سٹوڈنٹ ویزے پر جا کر پڑھنے والی لڑکیا کس طرح زندگی گزارتی ہیں اس کی ایک تصویر آپ اس ویڈیو میں دیکھ سکتے ہیں۔ بلاشبہ یہ والدین کے لئے لمحہ فکریہ ہے 

Thursday, December 20, 2012

کیا حلالہ عورت پر ظلم ہے ؟


حلالہ کے منکرین ایک نفسیاتی حربہ استعمال کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ حلالہ عورت پر ظلم ہے۔ لیکن یہ اعتراض جہالت پر مبنی ہے، کیونکہ ہر اہل علم جانتا ہے کہ جب عورت کو تین طلاقیں دی جائیں یا ایک دو طلاقوں کی صورت میں عدت گزر جائے تواب عورت کی اجازت اور مرضی کے بغیر نکاح نہیں ہوسکتا۔ اسی طرح جب عورت نے دوسرے خاوند سے نکاح کرلیا اور اب اس نے طلاق دے دی تو پہلے خاوند سے نکاح کے سلسلے میں بھی عور ت کی مرضی اور اجازت ضروری ہے۔ لہٰذا جب تک عورت اجازت نہیں دے گی اس کا نکاح نہیں ہوسکتا، تو کس طرح اس عمل کو عورت پر ظلم قرار دیا جائے گا۔ عورت کو کون مجبور کرتا ہے کہ حلالہ کرائے اور پہلے خاوند سے دوبارہ نکاح کرے!
خلاصہ:
(۱)…جب عورت کو تین طلاقیں دی جائیں، چاہے تینوں اکٹھی ہوں یا الگ الگ دی گئی ہوں، دونوں صورتوں میں رجوع نہیں ہوسکتا اور نہ ہی وہ خاوند (حلالہ کے بغیر) اس عورت سے دوبارہ نکاح کرسکتا ہے۔
(۲)… اگر اس عور ت نے دوسری جگہ نکاح کرلیا اور پھر اس دوسرے خاوند نے حقوق زوجیت ادا کرنے کے بعد اپنی مرضی سے طلاق دے دی تو اب عدت گزارنے کے بعد پہلے خاوند سے نکاح جائز ہوگا۔ یہ عمل حلالہ کہلاتا ہے اور یہ سب کے نزدیک جائز ہے۔
(۳)… اگر دوسرے خاوند نے اس نیت سے نکاح کیا کہ وہ بعد میں اسے طلاق دے دے گا تاکہ وہ عورت پہلے خاوند کے لئے حلال ہوجائے اور اس کا گھر دوبارہ آباد ہوجائے، لیکن نکاح میں حلالہ کی شرط نہیں رکھی گئی تو یہ صورت بھی جائز ہے بلکہ باعث اجر و ثواب ہے۔
(۴)…اگر دوسرے خاوند سے نکاح اس شرط پر کیا جائے کہ وہ اسے بعد میں طلاق دے دے، تاکہ پہلا خاوند اس عورت سے نکاح کرلے، تو حلالہ کے لئے نکاح کرنے والے اور جس کے لئے حلالہ کیا گیا دونوں پر اللہ تعالیٰ کی لعنت ہے اور یہ عمل حرام ہے۔ لہذا مسلمانوں کو اس سے بچنا چاہئے۔
(۵) …تاہم اگر ایسا کرلیا گیا تو شرط باطل ہوجائے گی اور یہ نکاح صحیح ہوگا اور دوسرا خاوند اسے طلاق دینے کا پابند نہیں ہوگا۔ البتہ اپنی مرضی سے طلاق دے دے تو عورت پہلے خاوند کے لئے حلال ہوجائے گی۔
(۶)… بیک وقت تین طلاقیں دینا بدعت اور ناجائز عمل ہے۔ لہٰذا اس سے بچنا چاہئے اور صرف ایک طلاق دی جائے یا ضروری ہو تو تین طہروں میں ایک ایک کرکے تین طلاقیں مکمل کی جائیں۔
(۷)… اگر کوئی شخص بیک وقت تین طلاقیں دے دیتا ہے تو اگرچہ اس کا یہ عمل حرام ہے اور وہ گنہگار ہوگا لیکن تینوں طلاقیں نافذ ہوجائیں گی۔ انہیں ایک طلاق قرار دینا نہ صرف یہ کہ صحابہٴ کرام، تابعین اور تبع تابعین کے طریقے سے روگردانی ہے بلکہ عورت پر ظلم ہے اور حرام کاری کا دروازہ کھولنا ہے۔
اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں دین کی سمجھ عطا فرمائے، ہٹ دھرمی کی بجائے کھلے دل اور دیانت داری کے ساتھ حق قبول کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔
اسلام کا قانون خلع
اسی طرح کے نازک وقت کیلئے اسلام نے کشمکش کی آخری شکل میں ”خلع“ کی اجازت بخشی ہے، ناجائز فائدہ اٹھانے والوں کے لئے پیش بندی کے طور پر سختی کے ساتھ خلع سے روکا ہے۔ رحمت عالم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:
ایما امرأة سألت زوجھا طلاقاً فی غیر ماباس فحرام علیہ رائحة الجنة۔ (رواہ احمد، مشکوٰة باب الخلع)
جو عورت ذرا ذرا سی بات پر اپنے شوہر سے طلاق کی درخواست کرے اس پر جنت کی بوحرام ہے۔
ایک دفعہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
المنتزعات والمختلعات ھن المنافقات (مشکوٰة باب الخلع)
شوہر سے علیٰحدہ ہونے والی اور خواہ مخواہ خلع کی طالب عورتیں منافق ہیں۔
ان حدیثوں کا منشاء یہی ہے کہ عورتیں خواہ مخواہ اپنے شوہروں سے جدائی کی خواہش نہ کریں، تلذذ کی خاطر ایساکرنا اسلام کے ایک عظیم الشان قانون کو بازئچہ اطلاق بنالیتا ہے۔
لیکن اگر واقعی عورت دیانتداری سے یہ محسوس کرتی ہے کہ اگر خلع کی صورت اختیارنہ کی گئی تو رب العزت کے قائم کردہ حدود باقی نہ رہ سکیں گے، اور عورت کو ظن غالب ہے کہ موجودہ تعلقات دین و دنیا کے لئے مضر ہیں، توایسی مجبوری اور نزاکت کے وقت عورت خلع کے

قانون سے فائدہ اٹھا سکتی ہے۔ ارشاد ربانی ہے:
فان خفتم الا یقیما حدوداللہ فلا جناح علیھما فیما افتدت بہ (بقرہ۔ ۲۹)
سو اگر تم لوگوں کو احتمال ہو کہ وہ دونوں ضوابط خواندی کو قائم نہ کرسکیں گے تو دونوں پر اس میں کوئی گناہ نہ ہوگا، جس کو دے کر عورت اپنی جان چھڑالے۔
عہد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں خلع
گو حدود اللہ کے عدم قیام کی شرط کے ساتھ خلع کی اسلام نے اجازت دی ہے، اس سے پہلے ہرگز اجاز ت نہیں ہے۔ خلع کی مثال عہد نبوی میں موجود ہے، حدیث کی کتابوں میں یہ واقعہ تفصیل کے ساتھ مذکور ہے کہ حبیبہ بنت سہل انصاری ، حضرت ثابت بن قیس بن شماس رضی اللہ عنہما سے بیاہی گئی تھیں، ایک صبح کو سویرے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فجر کی نماز کے لئے کاشانہ نبوی سے نکلے، دروازہ پر پہنچے تو دیکھا کہ ایک عورت کپڑوں میں لپٹی سمٹی ہوئی کھڑی ہے۔ صبح کی تاریکی ابھی باقی تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا آپ کون ہیں؟ آواز آئی یارسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) میں سہل کی بیٹی حبیبہ ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، کیا بات ہے؟
حضرت حبیبہ رضی اللہ عنہا نے کہا۔ نہ تو میں ثابت بن قیس کے ساتھ ہوں اور نہ ثابت میرے ساتھ۔ یعنی ہم دونوں میاں بیوی میں اتفاق اور نباہ کی امید باقی نہیں رہی۔ آپ نے یہ قصہ سن لیا او رنماز کے لئے روانہ ہوگئے۔ حضرت ثابت بن قیس رضی اللہ عنہ جب خدمت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں حاضر ہوئے تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ یہ حبیبہ بن سہل انصاری ہیں۔ اللہ تعالیٰ کو جو منظور تھا اسے آکر انہوں نے یہاں بیان کیا۔ حضرت حبیبہ نے مہر کی واپسی پر بھی اپنی آمادگی ظاہر کردی اور درخواست کی کہ شوہر کا عطیہ موجود ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ثابت سے فرمایا اپنا عطیہ واپس لے لو، یہ سن کر حضرت ثابت رضی اللہ عنہ نے بیوی سے اپنا عطیہ واپس لے لیا اور اس طرح دونوں میں جدائی ہوگئی۔ (موطا امام مالک باب الخلع)
بخاری میں ہے، حضرت ثابت رضی اللہ عنہ کی اہلیہ نے خدمت نبوی ﷺ میں حاضر ہوکر بیان دیا:
یارسول اللہ ثابت بن قیس ما اعیب علیہ فی خلق ولا دین ولکن اکرہ الکفر فی الاسلام
یارسول اللہ (ﷺ) میں ثابت بن قیس کو ان کے اخلاق و دین میں عیب نہیں لگاتی، لیکن بات یہ ہے کہ میں اسلام میں کفر کی بات پسند نہیں کرتی۔
یہ سن کر رحمت عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ تم ان کا باغ واپس کرنے کو تیار ہو؟ ثابت کی بیوی نے اثبات میں جواب دیا۔ یہ معلوم کرکے آپ نے حضرت ثابت رضی اللہ عنہ سے کہا:


اقبل الحدیقة وطلقھا تطلیقة واحدة (زاد المعاد ج ۴ ص ۳۴)
با غ لے لے اور اس کو ایک طلاق دے دے۔
بخاری نے یہ واقعہ جو بیان کیا ہے یہ ہے تو حضرت ثابت ہی کی بیوی کا، مگر حبیبہ کا نہیں بلکہ ان کی دوسری بیوی جمیلہ بنت ابی سلول کا ہے۔ ابن ماجہ میں یہی واقعہ جمیلہ کے نام کے ساتھ مذکور ہے۔
واقعہ یہ ہے کہ حضرت ثابت بن قیس بن شماس رضی اللہ عنہ کوتاہ قد، بدصورت اور تیز مزاج تھے۔ اس لئے کسی عورت کی نگاہ میں سماتے نہیں تھے۔ بعض روایت میں ان کی بیوی کا ان کے باب میں بڑا سخت جملہ ہے۔
حدیث کی کتابوں میں خلع کے اور واقعات بھی مذکور ہیں، یہاں تفصیل مقصود نہیں ہے۔

Monday, December 17, 2012

اگر خا لق کی نا فر ما نی ہو تی ہو تو مخلوق کی اطاعت نہ کر نے کی نصیحت


شریعت کی پیروی کر نا بہت اہم ہے ۔﴿لا طا عة لمخلوق فی معصیة الخالق﴾۔ خالق کی معصیت میں مخلوق کی پیروی نہیں ۔حتیٰ کہ اگر خا وند بھی کوئی ایسا کام کہے جو اللہ تعالیٰ کی نا فر ما نی میں داخل ہوتو ہر گز با ت نہ مانیں ۔ مثلاً اگر خا وند کہے کہ پر دہ اتار دوتو ہر گز نہیں اتار نا ، ہاں خاوند کو کیسے سمجھا نا ہے ،اس کے لئے آپ اللہ والوں سے مشورہ کریں، علماء سے رجوع کریں ۔مگر کو ئی کام خلا ف شریعت نہیں کر نا ، چا ہے ما ں با پ ہو ں، چا ہے کو ئی ہو لا طا عة لمخلوق فی معصیة الخا لق ۔
کئی مر تبہ عورتیں یہ کہتی ہیں کہ جی بس اس نے مجھے دھو کہ د ے دیا اور میں نے کہا چلو میں تو یہ نہ کروں ۔ نہیں … خلاف شریعت کام میں کسی کی کو ئی پر وا نہیں ۔خلاف شر یعت کام میں کسی کا دل ٹو ٹنے کی کو ئی پروا نہیں ۔ آپ اللہ تعالیٰ کو راضی کیجئے ۔ اللہ تعالیٰ لو گو ں کے دلو ں کو خود را ضی فر ما دیں گے ۔ہاں جو کو ئی پریشان ہے کہ ایک طرف خاوند ہے ، ایک طرف ساس ہے ۔ ایک طرف اللہ کا حکم ہے تو اس سلسلے میں مفتی حضرات سے مشا ئخ سے رجو ع کیجئے ۔وہ آ پ کو میانہ روی اور اعتدال کا اچھا راستہ بتا دیں گے ۔ جسں سے آپ کو اس مصیبت سے چھٹکا را ملنا آ سا ن ہو جا ئے گا۔
اپنے میا ں کو کسی نہ کسی صاحب نسبت شیخ کے ساتھ منسلک کر ا نے کی کو شش کیجئے۔ اپنے بچو ں کو ، اپنے میا ں کو ، اپنے گھر وں کے لو گو ں کو کسی نہ کسی صاحب نسبت کے ساتھ جہا ں آپ کا دل ٹکتا ہو ، جہا ں آپ کی طبیعت لگتی ہو ، جہاں دل کے اند ر محبت ہو عقیدت ہو،اپنے گھر کے مردوں کو کسی نہ کسی شیخ کے ساتھ منسلک رکھئے ۔ اس کا یہ فا ئدہ ہو گا کے شیخ کی نسبت سے آپ کا میاں ایک تو نیکی پر رہے گا ، گناہوں سے بچے گا اور دو سرا یہ کہ اگر وہ آپ کے حقوق پو رے نہیں کررہا تو کم ازکم دنیا میں کو ئی تو ایسا ہو گا جو آپ کے میاں کو حقوق پو رے کر نے کی نصیحت کر سکے گا ۔ یہ باتیں کئی مرتبہ اجڑ تے گھروں کے آباد ہو نے کا سبب بن جا تی ہیں ۔ لہٰذا دین کے لئے آپ خود بھی ہر وقت کمر بستہ رہیے ۔ اپنے بچوں کو اور اپنے میاں کو دین کے ساتھ منسلک رکھیے۔ بالخصوص کسی صاحب نسبت شیخ کے ساتھ منسلک رکھنے سے آپ شر یعت کی حفاظت میں آجائیں گی اور آپ کی زندگی کی پر یشانیاں ختم ہو جا ئیں گی ۔یہ چند باتیں ہم نے آپ کو اس لئے سمجھائیں تا کہ آپ کی زندگی خوشگوار بن جائے لیکن یہی ساری شر یعت نہیں ہے بلکہ چند موٹی موٹی با تیں ہیں ، ان کے علا وہ بھی بہت ساری با تیں آ پ اللہ والو ں سے سنیں گی ۔ ان سب کو اپنا لینا چاہئیے۔